It was narrated from Sufyan, from Abu Az-Zubair, from Jabir that: the Messenger of Allah robber and pilferer is not to be cut off. (Sahih) Sufyan did not hear it from Abu Az-Zubair.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت میں خیانت کرنے والے، علانیہ لوٹ کر لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“ ۱؎۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ) اسے سفیان نے ابو الزبیر سے نہیں سنا۔ ( اس کی دلیل اگلی سند ہے )
It was narrated from Sufyan, from Abu Az-Zubair, that Jabir said: The Messenger of Allah said: 'The pilferer is not to be cut off. ' (Sahih) Ibn Juraij also did not hear it from Abu Az-Zubair. Ibn Juraij also did not hear it from Abu Az-Zubair.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امانت میں خیانت کرنے والے، لوٹ لے جانے اور اچک لینے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ) اسے ابن جریج نے بھی ابو الزبیر سے نہیں سنا، ( اس کے متعلق مؤلف کی وضاحت آگے آ رہی ہے ) ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah said: The hand of the pilferer is not to be cut off.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچک کر لے جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔
It was narrated from Hajjaj from Ibn Juraij from Abu Az-Zubair, that Jabir said: The hands of the traitor is not to be cut off. (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This Hadith had been reported from Ibn Juraij by 'Isa bin Yunus, Al-Fadl bin Musa, Ibn Wahb, Muhammad bin Rabiah, Makhlad bin Yazid, and Salamah bin Saeed from Al-Basrah, who is trustworthy and Ibn Abi Safwan said: He was the best of the people of his time and not one of them said: Abu Az-Zubair narrated to me and I do not think that he heard it from Abu Az-Zubair, and Allah knows best.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کسی خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج سے: عیسیٰ بن یونس، فضل بن موسیٰ، ابن وہب، محمد بن ربیعہ، مخلد بن یزید اور سلمہ بن سعید، یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، نے روایت کیا ہے۔ ابن ابی صفوان کہتے ہیں - اور یہ سب اپنے زمانے کے سب سے بہتر آدمی تھے: ان میں سے کسی نے «حدثنی ابوالزبیر» یعنی ”مجھ سے ابوالزبیر نے بیان کیا“ نہیں کہا۔ اور میرا خیال ہے ان میں سے کسی نے ابوالزبیر سے اسے سنا بھی نہیں ہے، واللہ اعلم ۱؎۔
It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah said: 'The hand of the pilferer, robber and traitor is not to be cut off. '
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو اچک کر لے جانے والے کا، نہ کسی لوٹنے والے کا، اور نہ ہی کسی خائن کا ہاتھ کاٹا جائے گا“۔
It was narrated that Jabir said: The hand of the traitor is not to be cut off. (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Ashath bin Sawwar (one of its narrators) is weak.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کسی خائن کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اشعث بن سوار ضعیف ہیں۔
It was narrated from Al-Harith bin Hatib that a thief was brought to the Messenger of Allah and he said: Kill him. They said: O Messenger of Allah, he only stole (something). He said: Kill him. They said: O Messenger of Allah, he only stole (something). He said: Cut off his hand. Then he stole again, and his foot was cut off. Then he stole at the time of Abu Bakr, untilo all his extremities had been cut off. Then he stole a fifth time, and Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said: The Messenger of Allah knew better about him when he said: 'Kill him. ' Then he handed him over to some young men of Quraish to kill him, among whom was 'Abdullah bin Az-Zubair who liked to be in a position of leadership. He said: Put me in charge of them, so they put him in charge of them and when he struck him, they would strike him, until they killed him.
حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے تو چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: ”اس کا ہاتھ کاٹ دو“۔ اس نے پھر چوری کی تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا، پھر اس نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں چوری کی یہاں تک کہ چاروں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے، اس نے پھر پانچویں بار چوری کی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ انہوں نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر انہوں نے اسے قریش کے چند نوجوانوں کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے قتل کر دیں۔ ان میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے، وہ سرداری چاہتے تھے، انہوں نے کہا: مجھے اپنا امیر بنا لو، تو ان لوگوں نے انہیں اپنا امیر بنا لیا، چنانچہ جب چور کو انہوں نے مارا تو سبھوں نے مارا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ۱؎۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: A thief was brought to the Messenger of Allah and he said: 'Kill him.' They said: 'O Messenger of Allah, he only stole.' He said: 'Cut off (his hand).' So his hand was cut off. Then he was brought a second time and he said: 'Kill him.' They said; 'O Messenger of Allah, he only stole.' He said: 'Cut off (his foot).' So his foot was cut off. He was brought to him a third time and he said: 'Kill him.' They said: 'O Messenger of Allah, he only stole. He said: 'Cut off (his other hand).' Then he was brought to him a fourth time and he said: Kill him.' They said: 'O Messenger of Allah, he only stole.' He said: 'Cut off (his other foot).' He was brought to him a fifth time and he said: So we took him to an animal pen and attacked him. He lay down on his back then waved his arms and legs (in the air), and the camels ran away. Then they attacked him a second time and he did the same thing, then they attacked him a third time, and we threw stones at him and killed him, then we threw him into a well and threw stones on top of him. (Hasan) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This Hadith is Munkar, Musab bin Thabit is not strong in Hadith.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اس نے صرف چوری کی ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” ( اس کا دایاں ہاتھ ) کاٹ دو“، تو کاٹ دیا گیا، پھر وہ دوسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( اس کا بایاں پاؤں ) کاٹ دو“، چنانچہ کاٹ دیا گیا، پھر وہ تیسری بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: ” ( اس کا دایاں پاؤں ) کاٹ دو“، پھر وہ چوتھی بار لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ نے فرمایا: ” ( اس کا بایاں پاؤں ) کاٹ دو“، وہ پھر پانچویں بار لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے مار ڈالو“، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم اسے «مربد نعم» ( جانور باندھنے کی جگہ ) کی جانب لے کر چلے اور اسے لادا، تو وہ چت ہو کر لیٹ گیا پھر وہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل بھاگا تو اونٹ بدک گئے، لوگوں نے اسے دوبارہ لادا اس نے پھر ایسا ہی کیا پھر تیسری بار لادا پھر ہم نے اسے پتھر مارے اور اسے قتل کر دیا، اور ایک کنویں میں ڈال دیا پھر اوپر سے اس پر پتھر مارے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، مصعب بن ثابت حدیث میں زیادہ قوی نہیں ہیں ۱؎۔
It was narrated that Junadah bin Abi Umayyah said: I heard Busr bin Abi Artah say: 'I heard the Messenger of Allah say: Hand should not be cut off while traveling. '
بسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سفر میں ( چور کے ) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے“ ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said: If a slave steals, then sell him, even for half price. (Hasan) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: 'Umar bin Abi Salamah is not strong in Hadith.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو چاہے اس کی قیمت آدھا درہم ہی کیوں نہ ہو“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: عمر بن ابی سلمہ حدیث میں قوی نہیں ہیں۔
It was narrated that 'Atiyyah said: 'I was among the prisoners of Quraizah; we were examined, and whoever had grown (pubic) hair was killed, and whoever had not grown hair, he was allowed to live and was not killed.
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا، وہ لوگ دیکھتے جس کے زیر ناف کے بال اگ آئے ہوتے، اسے قتل کر دیا جاتا، اور جس کے بال نہ اگے ہوتے، اسے چھوڑ دیا جاتا اور قتل نہ کیا جاتا۔
It was narrated that Ibn Muhairiz said; I asked Fadalah bin 'Ubaid about hanging the hand (of the thief) from his neck, and he said: 'It is Sunnah. The Messenger of Allah cut off a thief's hand then hung it from his neck. '(Daif)
ابن محیریز کہتے ہیں کہ
میں نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا اور اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Muhairiz said: I said to Fadalah bin 'Ubaid: 'Do you think that hanging the hand from the thief's neck is Sunnah?' He said: 'Yes; a thief was brought to the Messenger of Allah and he cut off his hand and hung it from his neck. ' (Daif) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said; Al-Hajjaj bin Artah is weak, his narrations are not used as proof.
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ
میں نے فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹا اور اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ان کی حدیث لائق حجت نہیں ہے۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin 'Awf that the Messenger of Allah said: The thief is not to be penalized (financially) if the Hadd punishment is carried out on him. (Daif) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is Mursal and it is not confirmed.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حد قائم ہو جائے تو چوری کرنے والے پر تاوان لازم نہ ہو گا“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ مرسل ( یعنی منقطع ) ہے اور صحیح نہیں ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that: The Messenger of Allah [SAW] was asked: Which deed is best? He said: Faith in Allah [SWT] and His messenger [SAW].
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“ ۱؎۔