It was narrated from Al-Bara bin 'Azib رضی اللہ عنہم that:
The Prophet of Allah (ﷺ) said: Allah and His angels say salah upon the from rows, and the Mu'adhdhin will be forgiven as far as his voice reaches, and whatever hears him, wet or dry, will confirm what he says, and he will have a reward like that of those who pray with him.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے اور ابو اسحاق الکوفی کی سند سے بیان کیا, براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر صلاۃ یعنی رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے ان کے لیے صلاۃ بھیجتے یعنی ان کے حق میں دعا کرتے ہیں، اور مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور خشک وتر میں سے جو بھی اسے سنتا ہے اس کی تصدیق کرتا ہے، اور اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو اس کے ساتھ صلاۃ پڑھیں گے ۔
It was narrated that Abu Mahdhurah رضی اللہ عنہ said:
I used to call the Adhan for the Messenger of Allah (ﷺ) and in the first Adhan of Fajr I used to Say: 'Hayya 'ala al-falah, as-salatu khairun minan-nawm, as-salatu khairun minan-nawm, Allahu Akbar Allahu Akbar, la ilaha illallah (Come to prosperity, prayer is better than sleep, prayer is better than sleep, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah).'
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ نے سفیان سے، ابو جعفر نے ابو سلمان کی سند سے خبر دی, ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیتا تھا، اور میں فجر کی پہلی اذان میں کہتا تھا: «حى على الفلاح، الصلاة خير من النوم، الصلاة خير من النوم، اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ» آؤ کامیابی کی طرف، نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ۔
Sufyan narrated a similar report with the same chain. (One of the narrators) (Abu) 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: It is not Abu Ja'far Al-Farra'.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ اور عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا:اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
It was narrated from Al-Aswad that Bilal رضی اللہ عنہ said:
The final words of the Adhan are: 'Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah.)'
ہم سے محمد بن معدان بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن عیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اعمش نے ابراہیم کی سند سے اور اسود کی سند سے بیان کیا, بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اذان کا آخری کلمہ «اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ» ہے۔
It was narrated that Al-Aswad said:
The final words of the Adhan of Bilal رضی اللہ عنہ were: 'Allahu Akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha illallah (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, there is none worthy of worship except Allah.)'
ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے سفیان سے، منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے خبر دی, اسود کہتے ہیں کہ
بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ تھے «اللہ أكبر اللہ أكبر، لا إله إلا اللہ»۔
(Another chain) from Ibrahim, from Al-Aswad, with similar narration.
ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے سفیان کی سند سے، الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے, اس سند سے بھی اسود سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
It was narrated that Muharib bin Dithar said: Al-Aswad bin Yazid narrated to me from Abu Mahdhurah رضی اللہ عنہ that:
The final words of the Adhan are: 'La ilaha illahha (there is none worthy of worship except Allah).'
ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے یونس بن ابی اسحاق کی سند سے، وہ محراب بن دثر کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا, ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
اذان کا آخری کلمہ «لا إله إلا اللہ» ہے۔
It was narrated that 'Amr bin Aws said:
A man of Thaqif told us that he heard the caller of the Messenger of Allah (ﷺ) on a rainy night during a journey saying: 'Hayya 'ala as-salah, Hayya 'ala al'falah, sallu fi rihalikum (Come to prayer, come to prosperity, pray in your dwellings).'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عمرو بن دینار سے بیان کیا, عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ
ہمیں قبیلہ ثقیف کے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو سفر میں بارش کی رات میں «حى على الصلاة، حى على الفلاح، صلوا في رحالكم» نماز کے لیے آؤ، فلاح ( کامیابی ) کے لیے آؤ، اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو کہتے سنا ۔
It was narrated from Nafi' that:
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم gave a call to prayer on a cold and windy night, and he said: Pray where you are, for the Prophet (ﷺ) used to order the Mu'adhdhin, if it was a cold and rainy night, to say: 'Pray in your dwellings.'
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے بیان کیا, نافع روایت کرتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ایک سرد اور ہوا والی رات میں نماز کے لیے اذان دی، تو انہوں نے کہا: «ألا صلوا في الرحال» لوگو سنو! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سرد بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تو وہ کہتا: «ألا صلوا في الرحال» لوگو سنو! ( اپنے ) گھروں میں نماز پڑھ لو ۔
Ja'far bin Muhammad narrated from his father, that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) traveled until he came to 'Arafah, where he found that the tent had been pitched for him in Namirah, so he stopped there. Then when the sun had passed its zenith he called for Qaswa'[1] and she was saddled for him. Then when he reached the bottom of the valley he addressed the people. Then Bilal رضی اللہ عنہ called the Adhan, then he said the Iqamah and he prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed 'Asr, and he did not offer any prayer in between them. [1] The name of the Prophet's (ﷺ) mount which was a she-camel.
ہم سے ابراہیم بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہمیں جعفر بن محمد نے اپنے والد سے خبر دی, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا ( اور آپ سوار ہو کر چلے ) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) moved until he came to Al-Muzdalifah, where he prayed Maghrib and 'Isha' with one Adhan and two Iqamahs, and he did not offer any prayer in between them.
مجھ سے ابراہیم بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے جعفر بن محمد نے اپنے والد سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( عرفہ سے ) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
It was narrated that Sa'eed bin Jubair said concerning Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :
We were with him (Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما ) in Jam' (Muzdalifah), and he called the Adhan, then the Iqamah, then he led us in praying Maghrib. Then he said: 'The prayer,' and he led us in praying 'Isha', two Rak'ahs. I said: 'What is this prayer?' He said: 'This is how I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) in this place.'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شریک نے سلمہ بن کلہیل کی سند سے خبر دی،سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ
ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔
It was narrated from Sa'eed bin Jubair رضی اللہ عنہ that:
He prayed Maghrib and 'Isha' in Jam' (Muzdalifah) with one Iqamah, then he narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم had done that, and Ibn 'Umar narrated that the Prophet (ﷺ) had done that.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، الحکم اور سلمہ بن کلہیل نے, سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ( بھی ) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
He prayed in Jam'a with the Messenger of Allah (ﷺ)with one Iqamah.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل جو کہ ابن ابی خالد ہیں، انہوں نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابو اسحاق نے سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی۔
It was narrated from Salim, from his father, that:
The Prophet (ﷺ) joined them (Maghrib and 'Isha') in Al-Muzdalifah, and he prayed each of them with an Iqamah, and he did not offer any voluntary prayer before or after either of them
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے وکیع کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن ابی ذہب نے زہری کی سند سے، سالم کی سند سے، اپنے والد سے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں ( اور ) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا اور ان دونوں ( نمازوں ) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed رضی اللہ عنہ that his father said:
On the day of Al-Khandaq the idolators kept us from praying Zuhr until the sun had gone down; that was before the revelation concerning fighting was revealed. Then Allah, the Mighty and Sublime, revealed: Allah sufficed for the believers in the fighting.[1] The Messenger of Allah (ﷺ) commanded Bilal رضی اللہ عنہ to say the Iqamah for Zuhr prayer, and he offered it just as he used to offer it on time. Then he said the Iqamah for 'Asr and he offered it just as he used to offer it on time. Then he called the Adhan for Maghrib and offered it on time.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی ذہب نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید بن ابی سعید نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، کہا
مشرکین نے غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، ( یہ ( واقعہ ) قتال کے سلسلہ میں جو ( آیتیں ) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے ) چنانچہ اللہ عزوجل نے «وكفى اللہ المؤمنين القتال» اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہو گیا ( الاحزاب: ۲۵ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated that Abu 'Ubaidah said: Abdullah رضی اللہ عنہ said:
'The idolators kept the Prophet (ﷺ) from (offering) four prayers on the day of Al-Khandaq, so he commanded Bilal رضی اللہ عنہ to call the Adhan, then he said the Iqamah and prayed Zuhr, then he said the Iqamah and prayed 'Asr, then he said the Iqamah and prayed the Maghrib, then he said the Iqamah and prayed 'Isha'.'
ہم سے ہناد نے ہشیم کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے، نافع بن جبیر کی سند سے، ابو عبیدہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جنگ خندق ( احزاب ) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
We were fighting a battle and the idolators kept us from praying Zuhr, 'Asr, Maghrib and 'Isha'. When the idolators went away, the Messenger of Allah commanded a caller to say Iqamah for Zuhr prayer, and we prayed. Then he said the Iqamah for 'Asr, and we prayed, and he said the Iqamah for Maghrib and we prayed, and he said the Iqamah for 'Isha' and we prayed. Then we went around among us and said: 'There is no group on Earth who is remembering Allah, the Mighty and Sublime, except you.'
ہم سے القاسم بن زکریا بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین بن علی نے زید کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں ابو الزبیر مکی نے بیان کیا، ان سے نافع بن جبیررضی اللہ عنہ نے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی ( پھر ) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، ( پھر ) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے ( اور ) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو ۔
It was narrated that Mu'awiyah bin Hudaij رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day and said the Taslim when there was still a Rak'ah left of the prayer. A man caught up with him and said: 'You forgot a Rak'ah of the prayer!' So he came back into the Masjid and told Bilal to call the Iqamah for prayer, then he led the people in praying one Rak'ah. I told the people about that and they said to me: 'Do you know who that man was?' I said: 'No, not unless I see him.'. Then he passed by me and I said: 'This is he.' They said: 'This is Talha bin 'Ubaidullah رضی اللہ عنہ.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے بیان کیا، یزید بن ابی حبیب کی سند سے، کہ ان سے سوید بن قیس نے بیان کیا, معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں ( تو پہچان لوں گا ) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ( رضی اللہ عنہ ) ہیں۔
[It was narrated from 'Abdullah bin Rubayyi'ah رضی اللہ عنہ that:
He was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey and he heard the voice of a man calling the Adhan, and he said what he said. When he reached the words: Ashhadu anna Muhammadan Rasul-Allah (I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah), - Al-Hakam said, I did not hear this from Ibn Abi Lailah - the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is a shepherd of a man who is away from his family. He went down into the valley and found a shepherd, standing by a dead sheep. He said: Do you think that this is worthless to its owners? They said: Yes. He said: This world is more worthless to Allah than this (dead sheep) is to its owners. ]
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالرحمٰن نے شعبہ کی سند سے، الحکم کی سند سے، ابن ابی لیلیٰ کی سند سے, عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ ( واقعی ) بکریوں کا چرواہا نکلا۔