It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Your Lord is pleased with a shepherd high in the mountains who calls the Adhan for the prayer and prays. Allah says: 'Look at this slave of Mine; he calls the Adhan and Iqamah for the prayer and fears Me. I have forgiven My slave and admitted him to Paradise.'
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے عمرو بن حارث کی سند سے بیان کیا کہ ان سے ابو عشانہ المعافری نے بیان کیا, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے ( اس ) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کر دیا ہے ۔
It was narrated from Rifa'ah bin Rafi' رضی اللہ عنہ that:
While the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in the row for prayer. The Hadith. [1]
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل نے خبر دی، کہا: ہم سے یحییٰ بن علی بن یحییٰ بن خلاد بن رفاعہ بن رافع الزرقی نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے, رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
It was narrated that Abu Al-Muthanna, the Mu'adhdhin of the Jami' Masjid, said:
I asked Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم about the Adhan and he said: 'At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), the phrases of the Adhan were recited twice and the phrases of Iqamah once, except that you should say (the phrase) Qad qamat is-salah (prayer is about to begin)twice. When we heard 'prayer is about to begin' we would perform Wudu' and go out to pray.'
ہم سے عبداللہ بن محمد بن تمیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے مسجد العریان کے مؤذن ابو جعفر کو سنا, جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۔
It was narrated that Malik bin Al-Huwayrith رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me and to a companion of mine: 'When the time for prayer comes, let the two of you call the Adhan then the two of you say Iqamah, then let one of you lead the prayer.'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہمیں اسماعیل نے خالد الحذی کی سند سے اور ابوقلابہ کی سند سے خبر دی, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: When the call for the prayer is given, the Shaitan takes to his heels, passing wind loudly so that he will not hear the call to prayer. When the call to prayer is finished, he comes back. And when the Iqamah is said, he again takes to his heels, and after it is completed, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him: 'Remember such and such, remember such and such,' - things that he had not remembered - until he does not know how many (Rak'ahs) he has prayed.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو ( پھر ) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے ( کہ ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If the people knew what (virtue) there is in the call to prayer and the first row, and they had no other way but to draw lots concerning them, they would draw lots. If they knew what (virtue) there is in coming early for the prayer, they would compete in doing so. And if they knew what (virtue) there is in 'Atamah and Subh prayer, they would come even if they had to crawl.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، سمی کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، نیز اگر وہ جان لیں ( کہ ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے، چاہے انہیں رینگنا ہی آنا پڑے۔
It was narrated that 'Uthman bin Abi Al-As رضی اللہ عنہ said:
I said: 'O Messenger of Allah, made me the Imam of my people.' He said: 'You are their Imam, so consider the weakest among them and choose a Mu'adhdhin who does not accept any payment for his Adhan.'
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید الجریری نے ابو العلا کی سند سے، انہوں نے مطرف کی سند سے بیان کیا,عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے امام ہو ( لیکن ) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When you hear the call, say what the Mu'adhdhin says.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، زہری کی سند سے، عطاء بن یزید کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے ۔
An-Nasr bin Sufyan narrated that:
He heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) and Bilal رضی اللہ عنہ stood up and gave the call. When he fell silent the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever says the same as this (what the Mu'adhdhin) with certainty, he will enter Paradise.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے عمرو بن حارث سے بیان کیا، ان سے بکر بن اشج نے بیان کیا، ان سے علی بن خالد الزرقی نے بیان کیا، ان سے نضر بن سفیان نے بیان کیا
انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
It was narrated that Mujammi' bin Yahya Al-Ansari said:
I was sitting with Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif رضی اللہ عنہ when the Mu'adhdhin called the Adhan. He said: 'Allahu akbar; Allahu Akbar (Allah is the Greatest, Allah is the Greatest),' and he (also) pronounced the takbir twice. Then he said: 'Ashhadu an la ialaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah),' and he also sent the testimony twice. Then he said: 'Ashhadu anna Muhammadan Rasul-Allah (I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah),' and he (also) sent the testimony twice. Then he said: 'This is what Mu'awiyah bin Abi Sufyan رضی اللہ عنہم told me, narrating from statement of the Messenger of Allah.'
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی, مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ
میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «اللہ أكبر اللہ أكبر» کہا، پھر اس نے «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، پھر اس نے «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کہتے تھے۔
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl رضی اللہ عنہ said:
I heard Mu'awiyah رضی اللہ عنہ say: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ), when he heard the Mu'adhdhin, repeating what he said.'
ہم سے محمد بن قدامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، مجمع کی سند سے, ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا تو جیسے اس نے کہا ویسے ہی آپ نے بھی کہا۔
It was narrated that 'Alqamah bin Waqqas said:
I was with Mu'awiyah رضی اللہ عنہ when the Mu'adhdhin called the Adhan. Muawiyah said what the Mu'adhdhin said, but when he said: 'Hayya 'alas-salah (come to prayer),' he said: 'La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah);' and when he said: 'Hayya 'alal-falah (come to prosperity),' he said: 'La hawla wa la quwwata illa Billah (There is no power and no strength except with Allah).' After that he said what the Mu'adhdhin said, then he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying exactly like that.'
ہم سے مجاہد بن موسیٰ اور ابراہیم بن الحسن المقسمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا کہ ان سے عیسیٰ بن عمر نے، ان سے عبداللہ بن علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ نے,علقمہ بن وقاص کہتے ہیں کہ
میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، تو آپ ویسے ہی کہتے رہے جیسے مؤذن کہہ رہا تھا یہاں تک کہ جب اس نے «حى على الصلاة» کہا تو انہوں نے: «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا، پھر جب اس نے «حى على الفلاح» کہا تو انہوں نے: «لا حول ولا قوة إلا باللہ» کہا، اور اس کے بعد مؤذن جس طرح کہتا رہا وہ بھی ویسے کہتے رہے پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کہتے ہوئے سنا ہے۔
Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہم said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'When you hear the Mu'adhdhin then say what he says, and do Salah upon me, for whoever does Salah upon me once, Allah will Salah upon him ten (times). Then ask Allah to grant me Al-Wasilah, which is a position in paradise which only one of the slaves of Allah will attain, and I hope that I will be the one. Whoever asks for Al-Wasilah for me, will be entitled to my intercession.'
ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم کو عبداللہ نے حیوہ بن شریح کی سند سے خبر دی کہ کعب بن علقمہ نے نافع بن عمرو القرشی کے آزاد کردہ غلام عبدالرحمٰن بن جبیر کو بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: جب مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، اور مجھ پر صلاۃ و سلام بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار صلاۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت و برکت بھیجتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کرو کیونکہ وہ جنت میں ایک درجہ و مرتبہ ہے جو کسی کے لائق نہیں سوائے اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کے، اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہی ہوں، تو جو میرے لیے وسیلہ طلب کرے گا، اس پر میری شفاعت واجب ہو جائے گی ۔
It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever says, when he hears the Mu'adhdhin: 'Ashhadu an la ilaha illallah wahdahu la sharika lahu wa anna Muhammadan 'abduhu wa Rasuluhu, raditu Billahi Rabban, wa bil-Islami dinan was bi Muhammadin Rasula (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah alone, with no partner or associate, and that Muhammad is the His slave and Messenger; I am content with Allah as my Lord, Islam as my religion and Muhammad as my Messenger),' his sins will be forgiven.
ہم سے قتیبہ نے لیث کی سند سے، حکیم بن عبداللہ کی سند سے، عامر بن سعد کی سند سے, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن ( کی اذان ) سن کر یہ کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت باللہ ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں تو اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever says, when he hears the call to prayer: Allahumma rabba hadhihid-da'wat it-tammah was-salat il-qaimah, ati Muahmmadan al-wasilah wal-fadilah, wab'athu maqaman mahmudan alladhi wa'adtahu (O Allah, Lord of this perfect call and the prayer to be offered, grant Muhammad the privilege (of interceding) and also the eminence, and resurrect him to the praised position that you have promised),' will be granted my intercession on the Day of Resurrection.
ہم سے عمرو بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعیب نے، محمد بن المنکدر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللہم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه المقام المحمود الذي وعدته إلا حلت له شفاعتي يوم القيامة» اے اللہ! اس کامل پکار اور قائم رہنے والی صلاۃ کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور مقام محمود میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ کیا ہے تو قیامت کے دن اس پر میری شفاعت نازل ہو گی ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Between each two Adhans [1] there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, between each two Adhans there is a prayer, for whoever wants to do it.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے، جو چاہے اس کے لیے ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
When the Mu'adhdhin called the Adhan, some of the Companions of the Prophet (ﷺ) would get up and rush to the pillars (in the Masjid) and pray until the Prophet (ﷺ) came out and they were like that. They would pray before Maghrib and there was nothing between the Adhan and Iqamah.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابو عامر نے خبر دی، کہا: ہم سے شعبہ نے عمرو بن عامر انصاری سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے، اور وہ اسی طرح ( نماز کی حالت میں ) ہوتے، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ۔
It was narrated from Ash'ath bin Abi Ash-Sha'tha' that his father said:
I saw Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, when a man passed by in the Masjid until he parted from it - after the call. Abu Hurairah said: 'This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim (ﷺ).'
ہم سے محمد بن منصور نے سفیان کی سند سے، عمر بن سعید کی سند سے، اشعث بن ابوالشعثاء کہتے ہیں
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک شخص اذان کے بعد مسجد سے گزرنے لگا یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رہا یہ شخص تو اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
Abu Sakhrah narrated that Abu Ash-Sha'tha' said:
A man left the Masjid after the call to prayer had been given, and Abu Hurairah said: 'This man has indeed disobeyed Abu Al-Qasim (ﷺ).'
ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے ابو عمیس کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو صخرہ نے بیان کیا, ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ
ایک شخص نماز کی اذان ہو جانے کے بعد مسجد سے باہر نکلا، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
Between the time when he finished 'Isha' prayer and Fajr, the Prophet (ﷺ) used to pray eleven Rak'ahs, saying the Taslim after each two Rak'ahs, then praying Witr as one Rak'ah. He would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses, then he would raise his head. When the Mu'adhdhin finished the call to Fajr prayer and he could see the dawn, he would pray two brief Rak'ahs, then he would go out with him. Some of these narrators (Ibn Abi Dhi'b, Yunus and 'Amr bin Al-Harith) added some phrases not mentioned by the others in the Hadith.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھے ابن ابی ذہب، یونس اور عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انہیں ابن شہاب نے عروہ کی سند سے خبر دی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہونے سے لے کر فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت کے درمیان سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے اور ایک اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ اتنی دیر میں تم میں کا کوئی پچاس آیتیں پڑھ لے، پھر اپنا سر اٹھاتے، اور جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فجر عیاں اور ظاہر ہو جاتی تو ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آ کر آپ کو خبر کر دیتا کہ اب اقامت ہونے والی ہے، تو آپ اس کے ساتھ نکلتے۔ بعض راوی ایک دوسرے پر اس حدیث میں اضافہ کرتے ہیں۔