Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade that a woman and her maternal aunt and a woman and her paternal aunt are joined in marriage. ”
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے بسہ نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب کی سند سے، مجھے قبیصہ بن ذویب نے خبر دی کہ انہوں نے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ اور بھانجی اور اسی طرح پھوپھی اور بھتیجی کو بیک وقت نکاح میں رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم abominated the combination of paternal and maternal aunts and the combination of two maternal aunts and two paternal aunts in marriage.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے خطاب بن القاسم نے بیان کیا، ان سے خصیف نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی اور خالہ کو ( نکاح میں ) جمع کرنے، اسی طرح دو خالاؤں اور دو پھوپھیوں کو ( نکاح میں ) جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Shihab said:
“Urwah bin Al Zubair asked Aishah رضی اللہ عنہا , wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about the Quranic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you. ” She said “O my nephew, this means the female orphan who is under the protection of her guardian and she holds a share in his property and her property and beauty attracts him; so her guardian intends to marry her without doing justice to her in respect of her dower and he gives her the same amount of dower as others give her. They (i.e., the guardians) were prohibited to marry them except that they do justice to them and pay them their maximum customary dower and they were asked to marry women other than them (i. e., the orphans) who seem good to them. Urwah reported that Aishah رضی اللہ عنہا said “The people then consulted the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about women after revelation of this verse. Thereupon Allah the Exalted sent down the verse “They consult thee concerning women. Say Allah giveth you decree concerning them and the scripture which hath been recited unto you (giveth decree) concerning female orphans unto whom you give not that which is ordained for them though you desire to marry them. “ She said “The mention made by Allah about the Scripture recited to them refers to the former verse in which Allah has said “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans, marry of the women, who seem good to you. ” Aishah said “The pronouncement of Allah, the Exalted in the latter verse “though you desire to marry them” means the disinterest of one of you in marrying a female orphan who was under his protection, but she said little property and beauty. So they were prohibited to marry them for their interest in the property and beauty of the female orphans due to their disinterest in themselves except that they do justice )to them). The narrator Yunus said “Rabiah said explain the Quranic verse “And if ye fear that ye will not deal fairly by the orphans” means “Leave them if you fear (that you will not do justice to them), for I have made four women lawful for you. ”
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا
عروہ بن زبیر نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سےکہا, اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وإن خفتم ألا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء سورة النساء» کے بارے میں دریافت کیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے! اس سے وہ یتیم لڑکی مراد ہے، جو اپنے ایسے ولی کی پرورش میں ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو اور اس کی خوبصورتی اور اس کا مال اسے بھلا لگتا ہو اس کی وجہ سے وہ اس سے بغیر مناسب مہر ادا کئے نکاح کرنا چاہتا ہو ( یعنی جتنا مہر اس کو اور کوئی دیتا اتنا بھی نہ دے رہا ہو ) چنانچہ انہیں ان سے نکاح کرنے سے روک دیا گیا، اگر وہ انصاف سے کام لیں اور انہیں اونچے سے اونچا مہر ادا کریں تو نکاح کر سکتے ہیں ورنہ فرمان رسول ہے کہ ان کے علاوہ جو عورتیں انہیں پسند ہوں ان سے نکاح کر لیں۔ عروہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نزول کے بعد یتیم لڑکیوں کے بارے میں حکم دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی: «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن وما يتلى عليكم في الكتاب في يتامى النساء اللاتي لا تؤتونهن ما كتب لهن وترغبون أن تنكحوهن» ۲؎ ام المؤمنین عائشہ نے کہا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ وہ ان پر کتاب میں پڑھی جاتی ہیں اس سے مراد پہلی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحواء ما طاب لكم من النساء» اور اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے قول: «وترغبون أن تنكحوهن» سے یہی غرض ہے کہ تم میں سے کسی کی پرورش میں کم مال والی کم حسن والی یتیم لڑکی ہو تو وہ اس کے ساتھ نکاح سے بے رغبتی نہ کرے چنانچہ انہیں منع کیا گیا کہ مال اور حسن کی بنا پر یتیم لڑکیوں سے نکاح کی رغبت کریں، ہاں انصاف کی شرط کے ساتھ درست ہے۔ یونس نے کہا کہ ربیعہ نے اللہ کے فرمان: «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کا مطلب یہ بتایا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پانے کا ڈر ہو تو انہیں چھوڑ دو ( کسی اور عورت سے نکاح کر لو ) میں نے تمہارے لیے چار عورتوں سے نکاح جائز کر دیا ہے۔
Ali bin al-Hussain said:
When they returned to Madeenah from Yazid bin Muawiyah the place of massacre of Al Hussain bin Ali ( رضی اللہ عنہ) Al Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہ met them and said “tell me if you have any need for me. I said to him “No”. He then said Will you not give me the sword of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم? I fear the people may not take it from you by force. (He said) By Allah if you give it to me no one can take it from me so long as I am alive. Ali bin Abi Talib ( رضی اللہ عنہ) asked for the hand of Abu Jahl’s daughter in marriage after the marriage with Fathima. I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say while he was addressing the people about this matter on the pulpit and I was mature in those days. Fatima رضی اللہ عنہا is from me and I am not afraid that she will be tried in respect of her religion. He then mentioned his other son-in-law who belonged to Banu Abd Shams. He admired him immensely for his relationship with him and extolled him well. He said “He talked to me and talked truly and he made promise with me and fulfilled it. I do not make lawful what Is unlawful and unlawful what is lawful. But, by Allah the daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and the daughter of the enemy of Allah can never be combined together.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ولید بن کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلالہ الدیلمی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، علی بن حسین کا بیان ہے
وہ لوگ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے زمانے میں یزید بن معاویہ کے پاس سے مدینہ آئے تو ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیے تو میں نے ان سے کہا: نہیں، انہوں نے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دے سکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ آپ سے اسے چھین لیں گے، اللہ کی قسم! اگر آپ اسے مجھے دیدیں گے تو اس تک کوئی ہرگز نہیں پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ میرے نفس تک نہ پہنچ جائے ۔ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی ۲؎ کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسی منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس وقت میں جوان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی آزمائش سے دو چار نہ ہو جائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس میں سے اپنے ایک داماد کا ذکر فرمایا، اور اس رشتہ دامادی کی خوب تعریف کی، اور فرمایا: جو بات بھی اس نے مجھ سے کی سچ کر دکھائی، اور جو بھی وعدہ کیا پورا کیا، میں کسی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قطعاً نہیں کر رہا ہوں لیکن اللہ کی قسم، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ہرگز ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Abi Mulaikah:
He said “Ali ( رضی اللہ عنہ) then kept silence about the marriage (i.e., marrying Abi Jahl’s daughter)
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے، ایوب سے، ابن ابی ملیکہ کی سند سے
انہوں نے کہا: تو علی رضی اللہ عنہ نے اس نکاح سے خاموشی اختیار کر لی۔
Al Miswar bin Makramah رضی اللہ عنہما said:
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say on the pulpit Banu Hashim bin Al Mughirah sought permission from me to marry their daughter to Ali bin Abi Talib. But I do not permit, again, I do not permit, again, I do not permit except that Ibn Abi Talib divorces my daughter and marries their daughter. My daughter is my part, what makes her uneasy makes me uneasy and what troubles her troubles me. The full information rests with the tradition narrated by Ahmad.
ہم سے احمد بن یونس اور قتیبہ بن سعید المعنی نے بیان کیا, احمد نے کہا: ہم سے لیث نے بیان کیا, مجھ سے عبداللہ بن عبیداللہ ابن ابی ملیکہ القرشی التیمی نے بیان کیا, مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرانے کی اجازت مجھ سے مانگی ہے تو میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، میں اجازت نہیں دیتا، ہاں اگر علی ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، کیونکہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جو اسے برا لگتا ہے وہ مجھے بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف ہوتی ہے مجھے بھی ہوتی ہے ۔مکمل معلومات احمد کی روایت کردہ روایت پر منحصر ہے۔
Al Zuhri said:
“We were with Umar bin Abd Al Aziz, there we discussed temporary marriage. A man called Rabi bin Saburah said “I bear witness that my father told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had prohibited it at the Farewell Pilgrimage. ”
ہم سے مصدّد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، اسماعیل بن امیہ رضی اللہ عنہ سے, زہری کہتے ہیں کہ
ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس تھے تو عورتوں سے نکاح متعہ کا ذکر ہم میں چل پڑا، تو ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام ربیعہ بن سبرہ تھا کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر متعہ سے منع کر دیا ہے ۔
Rabi' bin Saburah رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited temporary marriage with women.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، زہری کی سند سے, سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے نکاح متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited shighar marriage. Musaddad added in his version “I said to Nafi “What is shighar?” (It means that) a man marries the daughter of another man and gives his own daughter to him in marriage without fixing dower; and a man marries the sister of another man and gives him his sister in marriage without fixing dower.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا اور ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، عبید اللہ کی سند سے، دونوں نے نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ مسدد نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے: میں نے نافع سے پوچھا: شغار کیا ہے؟ انہوں نے کہا آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح ( بغیر مہر کے ) کرے، اور اپنی بیٹی کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے اسی طرح کسی کی بہن سے ( بغیر مہر کے ) نکاح کرے اور اپنی بہن کا نکاح اس سے بغیر مہر کے کر دے ۔
Abdur Rahman Ibn Hurmuz al-Araj said:
Al-Abbas Ibn Abdullah Ibn al-Abbas married his daughter to Abdur Rahman ibn al-Hakam, and Abdur Rahman married his daughter to him. And they made this (exchange) their dower. Muawiyah wrote to Marwan commanding him to separate them. He wrote in his letter: This is the shighar which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has forbidden.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, ابن اسحاق سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن ہرمزاعرج نے مجھ سے بیان کیا کہ
عباس بن عبداللہ بن عباس نے اپنی بیٹی کا نکاح عبدالرحمٰن بن حکم سے کر دیا اور عبدالرحمٰن نے اپنی بیٹی کا نکاح عباس سے کر دیا اور ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے سے اپنی بیٹی کے شادی کرنے کو اپنی بیوی کا مہر قرار دیا تو معاویہ نے مروان کو ان کے درمیان جدائی کا حکم لکھ کر بھیجا اور اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ یہی وہ نکاح شغار ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ : Ismail (one of the narrators) said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Curse be upon the one who marries a divorced woman with the intention of making her lawful for her former husband and upon the one for whom she is made lawful.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، وہ امیر کی سند سے اور حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ali رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، حصین رضی اللہ عنہ سے، امیر رضی اللہ عنہ سے, حارث الاعور رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسول سے روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ وہ علی رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any slave marries without the permission of his masters, he is a fornicator.
ہم سے احمد بن حنبل اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا اور یہ اس کی سند کا قول ہے اور ان دونوں نے اسے وکیع کی سند سے روایت کیا ہے۔ ہم سے حسن بن صالح نے عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے وہ زانی ہے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “If a slave marries without the permission of his master, his marriage is null and void. Abu Dawud said “This tradition is weak. This is mauquf (does not go back to the Prophet). This is the statement of the Ibn Umar رضی اللہ عنہما himself.
ہم سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، ہم سے ابو قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے , ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف، اور موقوف ہے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “ A man should not seek the hand of a woman in marriage when his brother has already sought her hand. ”
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: One of you must not ask a woman in marriage when his brother has done so already, and one of you must not sell (his own goods) when his brother has already sold (his goods) except with his permission.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you asked a woman in marriage, if he is able to look at what will induce him to marry her, he should do so. He (Jabir) said: I asked a girl in marriage, I used to look at her secretly, until I looked at what induced me to marry her. I, therefore, married her.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے داؤد بن حصین نے بیان کیا، وہ واقد بن عبدالرحمٰن سے، یعنی ابن سعد بن معاذ نے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو پیغام نکاح دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو پیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ بات دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا، میں نے اس سے شادی کر لی۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The marriage of a woman who marries without the consent of her guardians is void. (He said these words) three times. If there is cohabitation, she gets her dower for the intercourse her husband has had. If there is a dispute, the sultan (man in authority) is the guardian of one who has none.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، وہ سلیمان بن موسیٰ کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، وہ عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین بار فرمایا، ( پھر فرمایا ) اگر اس مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے اور اگر ولی اختلاف کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو ۔
This tradition has also been transmitted by Aishah through a different chain of narrators from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect. Abu Dawud said “Jafar did not hear any tradition from Al Zuhri. Al Zuhri gave him his writing. ”
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے
ہم سے القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے ابن لہیعہ نے بیان کیا، انہوں نے جعفر (یعنی ابن ربیعہ) کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ کی سند سے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کے معنی کے ساتھ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر نے زہری سے نہیں سنا، لیکن انہوں نے اسے لکھا۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no marriage without the permission of a guardian. Abu Dawud said: The narrator Yunus also transmitted on the authority of Abu Burdah, and Isra'il narrated from Abu Ishaq on the authority of Abu Burdah.
ہم سے محمد بن قدامہ بن اعین نے بیان کیا، ہم سے ابو عبیدہ الحداد نے بیان کیا، ان سے یونس اور اسرائیل نے، ابو اسحاق کی سند سے، ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے, ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ۔ابوداؤد کہتے ہیں: یونس نے بھی ابو بردہ کی سند سے روایت کی ہے اور اسرائیل نے ابو بردہ کی سند سے ابو اسحاق سے روایت کی ہے۔