Narrated Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: A man will not be asked as to why he beat his wife.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے داؤد بن عبد اللہ العودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن المسلی نے، وہ اشعث بن قیس کی سند سے, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی ۔
Jarir رضی اللہ عنہ said:
I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about an accidental glance (on a woman). He صلی اللہ علیہ وسلم said “Turn your eyes away. ”
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس بن عبید نے بیان کیا، وہ عمرو بن سعید کی سند سے، وہ ابو زرعہ سے, جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اجنبی عورت پر ) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نظر پھیر لو ۔
Narrated Buraydah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: to Ali: Do not give a second look, Ali, (because) while you are not to blame for the first, you have no right to the second.
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ الفزاری نے بیان کیا، کہا ہم سے شارق نے بیان کیا، ابو ربیعہ الایادی سے, بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: علی! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے، دوسری جائز نہیں ۔
Ibn Masud رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “ A woman should not rub her body directly with the body of another woman so that she describes it to her husband as if he were looking at her. ”
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، العمش کی سند سے، ابو وائل کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے ۔
Jabir رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw a woman so he entered upon Zainab رضی اللہ عنہا daughter of Jahsh رضی اللہ عنہا and had intercourse with her. He صلی اللہ علیہ وسلم then came out and said to his companions and said to them “A woman advances in the form of a devil. When one of you finds that he should go to his wife (and have intercourse with her) for that will repel what he is feeling.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو ( اپنی بیوی ) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا: عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“I did not see anything more resembling to minor sins than what Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who said “Allah has decreed for the children of Adam a share in adultery, he will get it by all means, the adultery of eyes is looking; the adultery of tongue is speaking; the soul desires and has a passion; the private parts confirms or falsifies it. ”
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے ابن ثور نے بیان کیا، انہیں معمر کی سند سے، انہیں ابن طاؤس نے اپنے والد سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے ( قرآن میں وارد لفظ ) «لمم» ( چھوٹے گناہ ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا، چنانچہ آنکھوں کا زنا ( غیر محرم کو بنظر شہوت ) دیکھنا ہے زبان کا زنا ( غیر محرم سے شہوت کی ) بات کرنی ہے، ( انسان کا ) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “ Every child of Adam has his share in adultery. He then narrated the rest of the tradition. This version goes “And the hands commit adultery; their adultery is catching; and the legs commit adultery; their adultery is walking; and the mouth commits adultery – its adultery is kissing. ”
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، سہیل بن ابی صالح سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے، ہاتھ زنا کرتے ہیں، ان کا زنا پکڑنا ہے، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۔
(Another chain) from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ, similar (to no. 2153), except that in this one he added:
“The fornication of ear is hearing. ”
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے، ان سے قعقاع بن حکیم نے، ابوصالح کی سند سے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ
کانوں کا زنا سننا ہے ۔
Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent a military expedition to Awtas on the occasion of the battle of Hunain. They met their enemy and fought with them. They defeated them and took them captives. Some of the Companions of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم were reluctant to have intercourse with the female captives in the presence of their husbands who were unbelievers. So, Allaah the exalted sent down the Quranic verse “And all married women (are forbidden) unto you save those (captives) whom your right hand posses. ” This is to say they are lawful for them when they complete their waiting period.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے، صالح ابو الخلیل سے، ابو علقمہ الہاشمی کی سند سے, ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے، ان سے جنگ کی، اور جنگ میں ان پر غالب رہے، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی: «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں ( سورۃ النساء: ۲۴ ) تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہو جائے۔
Abu Al Darda رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was in a battle. He saw a woman who was nearing the time when she was to deliver a child. “He said “Perhaps the master has intercourse with her. ”. They (the people) said “Yes”. He said “I am inclined to invoke a curse on him which will enter his grave with him. How can he make it (the child) an heir when it is not lawful for him? How can he take it into his service when that is not lawful for him?”
ہم سے نفیلی نے بیان کیا، ہم سے مسکین نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن خمیر نے، ان سے عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے اپنے والد سے, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔
Narrator Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
Prophet صلی اللہ علیہ وسلم the following statement regarding the captives taken at Atwas. There must be no intercourse with pregnant woman till she gives birth to her child or with the one who is not pregnant till she has had one menstrual period.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، انہیں شریک نے خبر دی، انہیں قیس بن وہب نے ابو الوداک کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: ”کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آ جائے“۔
Narrated Ruwayfi Ibn Thabit al-Ansari:
A person stood up among us to deliver a sermon, and said: I only say you what I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say on the day of Hunayn: It is not lawful for a man who believes in Allah and the last day to water what another has sown with his water (meaning intercourse with women who are pregnant); it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to have intercourse with a captive woman till she is free from a menstrual course; and it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to sell spoil till it is divided.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے ابو مرزوق کی سند سے بیان کیا, حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ”اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے“، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators.
This version has the traditional word “a menstrual course” in the phrase “till she is free from a menstrual course”. This is a misunderstanding on the part of the narrator Abu Muawiyah. This is correct in the tradition of Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ . This version has the additional words “he who believes in Allah and the Last Day should not ride on a mount belonging to the spoil of Muslims and when he makes it emaciated returns it; he who believes in Allah and the Last Day should not put on cloth belonging to the spoils of Muslims and when makes it old (shabby) returns it. Abu Dawud said “The word “menstrual course” is not guarded. This is a misunderstanding on the part of Abu Muawiyah”.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے
اس میں ہے: یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کر لے ، اس میں «بحيضة» کا اضافہ ہے، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے: اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے۔
Amr bin Shuaib on his father's authority said that his grandfather (Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما) reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If one of you marries a woman or buys a slave, he should say: O Allah, I ask You for the good in her, and in the disposition You have given her; I take refuge in You from the evil in her, and in the disposition You have given her. When he buys a camel, he should take hold of the top of its hump and say the same kind of thing. Abu Dawud said: Abu Saeed added the following words in his version: He should then tale hold of her forelock and pray for blessing in the case of a woman or a slave.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور عبداللہ بن سعید نے بیان کیا: ہم سے ابو خالد نے بیان کیا، یعنی سلیمان بن حیان نے، ہم سے ابن عجلان کی سند سے، عمرو بن شعیب کے واسطہ سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی خادم خریدے تو یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها ومن شر ما جبلتها عليه» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی جبلت اور اس کی طبیعت کا خواستگار ہوں، جو خیر و بھلائی تو نے ودیعت کی ہے، اس کے شر اور اس کی جبلت اور طبیعت میں تیری طرف سے ودیعت شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا پڑھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ سعید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ پھر اس کی پیشانی پکڑے اور عورت یا خادم میں برکت کی دعا کرے ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allah, O Allah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us. ” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے، منصور کی سند سے، سالم بن ابی الجعد نے کریب کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچاسکے گا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who has intercourse with his wife through her anus is accursed.
ہم سے ہناد نے وکیع کی سند سے، سفیان کی سند سے، سہیل بن ابی صالح کی سند سے، حارث بن مخلد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی کی دبر ( پاخانہ کے مقام ) میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے ۔
Muhammad bin Al Munkadir said:
I heard Jabir رضی اللہ عنہ say The Jews used to say “When a man has intercourse with his wife through the vagina, but being on her back the child will have a squint, so the verse came down. Your wives are a tilth to you, so come to your tilth however you will. ”
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورۃ البقرہ: ۲۲۳ ) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Ibn Umar رضی اللہ عنہما misunderstood (the Quranic verse, So come to your tilth however you will )--may Allah forgive him. The fact is that this clan of the Ansar, who were idolaters, lived in the company of the Jews who were the people of the Book. They (the Ansar) accepted their superiority over themselves in respect of knowledge, and they followed most of their actions. The people of the Book (i. e. the Jews) used to have intercourse with their women on one side alone (i. e. lying on their backs). This was the most concealing position for (the vagina of) the women. This clan of the Ansar adopted this practice from them. But this tribe of the Quraysh used to uncover their women completely, and seek pleasure with them from in front and behind and laying them on their backs. When the muhajirun (the immigrants) came to Madina, a man married a woman of the Ansar. He began to do the same kind of action with her, but she disliked it, and said to him: We were approached on one side (i. e. lying on the back); do it so, otherwise keep away from me. This matter of theirs spread widely, and it reached the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. So Allah, the Exalted, sent down the Quranic verse: Your wives are a tilth to you, so come to your tilth however you will, i. e. from in front, from behind or lying on the back. But this verse meant the place of the delivery of the child, i. e. the vagina.
ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ ابو الاصبغ نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی ابن سلمہ نے، مجھ سے محمد بن اسحاق کی سند سے، ابان بن صالح کی سند سے، مجاہد کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بخشے ان کو «أنى شئتم» کے لفظ سے وہم ہو گیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود ( جو کہ اہل کتاب ہیں کے ) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے، اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے، اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے، اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی، چنانچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کر دیتے تھے اور آگے سے، پیچھے سے، اور چت لٹا کر ہر طرح سے لطف اندوز ہوتے تھے، مہاجرین کی جب مدینہ میں آمد ہوئی تو ان میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنے لگا اس پر عورت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایک ہی ( مشہور ) آسن رائج ہے، لہٰذا یا تو اس طرح کرو، ورنہ مجھ سے دور رہو، جب اس بات کا چرچا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر لگ گئی چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل فرمائی یعنی آگے سے پیچھے سے، اور چت لٹا کر اس سے مراد لڑکا پیدا ہونے کی جگہ ہے یعنی شرمگاہ میں جماع ہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
Among the Jews when a woman menstruated, they did not eat with her and drink with her and did not associate with her in their houses, so the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was questioned about it. Hence, Allah the Exalted revealed “And they ask you about menstruation, . Say “It is harmful, so keep aloof from women during menstruation till the end of the verse. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Associate with them in the houses and do everything except sexual intercourse. The Jews thereupon said “This man does not leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr رضی اللہ عنہما came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the Jews are saying such and such. Shall we not have intercourse with them during their menstruation? The face of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم underwent such a change that we thought he was angry with them, so they went out. They were met by a gift of milk which was being brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he sent after them, whereby we felt that he was not angry with them.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «يسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو ( سورۃ البقرہ: ۲۲۲ ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو ، اس پر یہودیوں نے کہا کہ: یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں، تو کیا ہم ( ان کی مخالفت میں ) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چنانچہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آئے، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to lie in one cloth at night while I was menstruating. If anything from me smeared him, he washed the same place (that was smeared), and did not wash beyond it. If anything from him smeared his clothe, he washed the same place and did not wash beyond that, and prayed with it (i.e. the clothe).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، جابر بن سُبح سے، انہوں نے کہا: خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا
میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔