A similar tradition has also been transmitted by Ibn Abbas رضی اللہ عنہما through a different chain of narrators.
کثیر، یعنی ابن عبید نے، ہم سے بیان کیا: ہم سے ابو حیوہ نے بیان کیا، شعیب سے، غیلان سے، عکرمہ سے،اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded me to send a woman to her husband before he gave something to her. Abu Dawud said: The narrator Khaithamah did not hear (any tradition) from Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، ہم سے شارق نے بیان کیا، ان سے منصور نے، طلحہ رضی اللہ عنہ سے، خیثمہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔
Amr bin Shuaib on his father's authority said that his grandfather reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: A woman who marries on a dower or a reward or a promise before the solemnisation of marriage is entitled to it; and whatever is fixed for her after solemnisation of marriage belongs to whom it is given. A man is more entitled to receive a thing given as a gift on account of his daughter or sister (than other kinds of gifts).
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بکر البرسانی نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ( انعام وغیرہ ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم congratulated a man on his marriage, he said: May Allah bless for you, and may He bless on you, and combine both of you in good (works).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، یعنی ابن محمد نے، ہم سے سہیل کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے ۔
It was reported from Ibn Juraij, from Sufwan bin Sulaim from Saeed bin Al-Musayab, from a man from the Ansar Ibn Abi As-Sari (one of the narrators) said: "from the companions of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم", he did not say "from the Ansar" then they (the narrators) were in accord: whose name was Basrah said:
A man from the Ansar called Basrah said: I married a virgin woman in her veil. When I entered upon her, I found her pregnant. (I mentioned this to the Prophet). The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: She will get the dower, for you made her vagina lawful for you. The child will be your slave. When she has begotten (a child), flog her (according to the version of al-Hasan). The version of Ibn AbusSari has: You people, flog her, or said: inflict hard punishment on him. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Qatadah from Saad bin Yazid on the authority of Ibn al-Musayyab in a similar way. This tradition has been narrated by Yahya bin Abi Kathir from Yazid bin Nu'aim from Saeed bin al-Musayyab, and Ata al-Khurasani narrated it from Saeed bin al-Musayyab ; they all narrated this tradition from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم omitting the link of the Companion (i. e. a mursal tradition). The version of Yahya bin Abi Kathir has: Basrah bin Aktham married a woman. The agreed version has: He made the child his servant.
ہم سے مقلد بن خالد، حسن بن علی اور محمد بن ابی سریع المعنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے، انہیں صفوان بن سلیم کی سند سے، سعید بن المسائب رضی اللہ عنہ نے انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی, انصار میں سے ایک شخص کی سند سے ابن ابی السرری جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، نے کہا، اور انہوں نے انصار میں سے نہیں کہا، پھر وہ متفق ہو گئے، اسے کہتے ہیں, بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا، میں اس کے پاس گیا، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا، اور ( پیدا ہونے والا ) بچہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ بچہ جن دے - ( حسن کی روایت میں ) تو تو اسے کوڑے لگا ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ ( جمع کے صیغہ کے ساتھ ) ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر حد جاری کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے: آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا ۔
Saeed bin al-Musayyab said:
A man called Basrah bin Akhtam married a woman. The narrator then reported the rest of the tradition to the same effect. This version added: And he separated them. The tradition narrated by Ibn Juraij is perfect.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، ان سے علی نے، یعنی ابن المبارک نے، ہم سے یحییٰ کی سند سے، وہ یزید بن نعیم کی سند سے, سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a man has two wives and he is inclined to one of them, he will come on the Day of resurrection with a side hanging down.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، وہ نضر بن انس کی سند سے، وہ بشیر بن نحیک کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to divide his time equally and said: O Allah, this is my division concerning what I control, so do not blame me concerning what You control and I do not. Abu Dawud said: By it meant the heart.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے، ابو قلابہ سے، عبداللہ بن یزید الخطمی کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے، پھر یہ دعا فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان ) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا ۔ابوداؤد کہتے ہیں: اس سے دل مراد ہے۔
Narrated Hisham bin Urwah from his father:
Aishah رضی اللہ عنہا said: O my nephew, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not prefer one of us to the other in respect of his division of the time of his staying with us. It was very rare that he did not visit us any day (i.e. he visited all of us every day). He would come near each of his wives without having intercourse with her until he reached the one who had her day and passed his night with her. When Saudah daughter of Zam'ah became old and feared that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would divorce her, she said: Messenger of Allah, I give to Aishah رضی اللہ عنہا the day you visit me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم accepted it from her. She said: We thing that Allah, the Exalted, revealed about this or similar matter the Quranic verse: If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part. . . . [4: 128]
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے، یعنی ابن ابی الزناد نے، ہم سے ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ: «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» ( سورۃ النساء: ۱۲۸ ) نازل کی: اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to aske our permission on the day he had to stay with one of his wives (by turns) after the following Quranic verse was revealed: You may distance those whom you like, and draw close to those whom you like [33: 51]. The narrator Muadhah said: I said to her: What did you say to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ? She said: I used to say: If had an option for that, I would not preferred anyone to myself.
ہم سے یحییٰ بن معین اور محمد بن عیسیٰ المعنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن عباد نے عاصم کی سند سے، انہوں نے معاذ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
آیت کریمہ: «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں ( سورۃ الاحزاب: ۵۱ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیتے تھے۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں؟ کہنے لگیں: میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent for his wives during his illness. When they got together, he صلی اللہ علیہ وسلم said “I am unable to visit all of you. If you think to permit me to stay with Aishah رضی اللہ عنہا you may do so. ” So they permitted him (to stay with Aishah).
ہم سے مصدّد نے بیان کیا، ہم سے مرہوم بن عبدالعزیز العطار نے بیان کیا، مجھ سے ابو عمران الجونی نے بیان کیا، وہ یزید بن بابنوس کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا: اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں ، چنانچہ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دے دی۔
Aishah رضی اللہ عنہا wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reported:
“When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to go on a journey he cast lots amongst his wives and the one who was chosen by lot went on it with him. He divided his time, day and night (equally) for each of his wives except that Saudah daughter of Zam’ah رضی اللہ عنہا gave her day to Aishah رضی اللہ عنہا .
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، یونس سے, ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی۔
Uqbah bin Amir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “The condition worthier to be fulfilled by you is the one by which you made the private parts (of your wife) lawful (for you).
ہم سے عیسیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی حبیب سے اور ابو الخیر کی سند سے, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے ۔
Narrated Qays Ibn Saad رضی اللہ عنہ :
I went to al-Hirah and saw them (the people) prostrating themselves before a satrap of theirs, so I said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has most right to have prostration made before him. When I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, I said: I went to al-Hirah and saw them prostrating themselves before a satrap of theirs, but you have most right, Messenger of Allah, to have (people) prostrating themselves before you. He said: Tell me, if you were to pass my grave, would you prostrate yourself before it? I said: No. He then said: Do not do so. If I were to command anyone to make prostration before another I would command women to prostrate themselves before their husbands, because of the special right over them given to husbands by Allah.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسحاق بن یوسف نے خبر دی، وہ شریک کی سند سے، حسین رضی اللہ عنہ نے، شعبی کی سند سے, قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں حیرہ آیا، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے، تو اسے بھی سجدہ کرو گے؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرنا، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “When a man calls his wife to come to his bed and she refuses and does not come to him and he spends the night angry, the angels curse her till the morning. ”
ہم سے محمد بن عمرو رازی نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، ابو حازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں ۔
It was reported from Hakim bin Muawiyah Al-Qushairi, from his father: رضی اللہ عنہ asked:
He asked: "O Messenger of Allah, what is the right of the wife of one of us over him? He replied: That you should give her food when you eat, clothe her when you clothe yourself, do not strike her on the face, do not revile her or separate yourself from her except in the house. Abu Dawud said: The meaning of do not revile her is, as you say: May Allah revile you .
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں ابو قزعہ الباہلی نے خبر دی، انہیں حکیم بن معاویہ القشیری نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو، برا بھلا نہ کہو، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی اختیار نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ولا تقبح» کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے «قبحك الله» نہ کہو۔
Bahz bin Hakim reported on the authority of his father from his grandfather (Muawiyah Ibn Haydah رضی اللہ عنہ ) as saying:
I said: Messenger of Allah, how should we approach our wives and how should we leave them? He replied: Approach your tilth when or how you will, give her (your wife) food when you take food, clothe when you clothe yourself, do not revile her face, and do not beat her. Abu Dawud said: The version of Shubah has: That you give her food when you have food yourself, and that you clothe her when you clothe yourself.
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز بن حکیم نے بیان کیا، ان سے میرے والد نے بیان کیا، وہ میرے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں، اور کدھر سے نہ آئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ ہیں وسلم نے جواب دیا: اپنی کھیتی میں جدھر سے بھی چاہو آؤ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو، اور نہ ہی اس کو مارو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعبہ نے «أطعمها إذا طعمت واكسها إذا اكتسيت» کے بجائے «تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت» روایت کیا ہے۔
Narrated Muawiyah al-Qushayri رضی اللہ عنہ :
I went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and asked him: What do you say (command) about our wives? He replied: Give them food what you have for yourself, and clothe them by which you clothe yourself, and do not beat them, and do not revile them.
مجھے احمد بن یوسف المحلبی النیسابوری نے خبر دی، ہمیں عمر بن عبداللہ بن رزین نے خبر دی، ہم کو سفیان بن حسین نے خبر دی، وہ داؤد وراق سے، سعید بن حکیم بن معاویہ نے اپنے والد کی سند سے, معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ، اور نہ انہیں مارو، اور نہ برا کہو ۔
Abu Harrah Al Ruqashi reported on the authority of his uncle:
”The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said “If you fear the recalcitrance abandon them in their beds. ” The narrator Hammad said “By abandonment he meant abandonment of intercourse. ”
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، علی بن زید کی سند سے, ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں ( تنہا ) چھوڑ دو ۔ حماد کہتے ہیں: یعنی ان سے صحبت نہ کرو۔
Iyas Ibn Abdullah reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not beat Allah's handmaidens, but when Umar رضی اللہ عنہ came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: Women have become emboldened towards their husbands, he (the Prophet) gave permission to beat them. Then many women came round the family of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم complaining against their husbands. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Many women have gone round Muhammad's family complaining against their husbands. They are not the best among you.
ہم سے احمد بن ابی خلف اور احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا : ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے اور عبداللہ بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا ۔ ابن سرح عبیداللہ ابن عبداللہ نے کہا, ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندیوں کو نہ مارو ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ( آپ کے اس فرمان کے بعد ) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں، یہ ( مار پیٹ کرنے والے ) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں ۔