Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Divorced women shall wait concerning themselves for three monthly periods. Nor is it lawful for them to hide what Allah hath created in their wombs. This means that if a man divorced his wife he had the right to take her back in marriage though he had divorced her by three pronouncements. This was then repealed (by a Quranic verse). Divorce is only permissible twice.
ہم سے احمد بن محمد المروزی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین بن واقد نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن» اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کر دیا ہے اسے چھپائیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۸ ) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور ارشاد ہوا «الطلاق مرتان»یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Abd Yazid, the father of Rukanah and his brothers, divorced Umm Rukanah and married a woman of the tribe of Muzaynah. She went to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: He is of no use to me except that he is as useful to me as a hair; and she took a hair from her head. So separate me from him. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم became furious. He called on Rukanah and his brothers. He then said to those who were sitting beside him. Do you see so-and-so who resembles Abdu Yazid in respect of so-and-so; and so-and-so who resembles him in respect of so-and-so? They replied: Yes. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Abdu Yazid: Divorce her. Then he did so. He said: Take your wife, the mother of Rukanah and his brothers, back in marriage. He said: I have divorced her by three pronouncements, Messenger of Allah. He said: I know: take her back. He then recited the verse: O Prophet, when you divorce women, divorce them at their appointed periods. Abu Dawud said: The tradition narrated by Nafi bin 'Ujair and Abdullah bin Yazid bin Rukanah from his father on the authority of his grandfather reads: Rukanah divorced his wife absolutely (i. e. irrevocable divorce). The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم restored her to him. This version is sounder (than other versions), for they (i. e. these narrators) are the children of his man, and the members of the family are more aware of his case. Rukanah divorced his wife absolutely (i. e. three divorces in one pronouncement) and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made it a single divorce.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابو رافع کے بعض بیٹوں نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے مجھے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے جو ابن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے، خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں ( ملتی ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: اسے طلاق دے دو ، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو ، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» ( سورۃ الطلاق: ۱ ) اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت ( حدیث نمبر: ۲۲۰۶ ) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی شمار کیا ۔
Mujahid said
“I was with Ibn Abbas رضی اللہ عنہما”. A man came to him and said that he divorced his wife by three pronouncements. I kept silence and thought that he was going to restore het to him. He then said “A man goes and commits a foolish act and then says “O, Ibn Abbas! Allah has said “And for those who fear Allah, He (ever) prepares a way out. ” Since you did not keep duty to Allah I do not find a way out for you. You disobeyed your Lord and your wife was separated from you. Allah has said “O Prophet! When you divorce women divorce them in the beginning of their waiting period. ” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by Humaid Al A’raj and by others from Mujahid on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. Shu’bjh narrated it from Amr bin Murrah from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. Ayyub and Ibn ‘Jubair both narrated it from “’Ikrimah bin Khalid from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. Ibn Juraij narrated it from Abd Al Hamid bin Rafi from Ata from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. Al Amash narrated it from Malik bin Al Harith on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. They all said about the divorce by three pronouncements. He allowed it and said” (Your wife) has been separated from you similar to the tradition narrated by Ismail from Ayub from Abd Allaah bin Kathir. ” Abu Dawud said “Hammad bin Zaid narrated it from Ayyub from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما. This version adds If he said “You are divorced three times saying in one pronouncement, it constitutes a single (divorce). Ismail bin Ibrahim narrated it from Ayyub from Ikrimah. This is his (Ikrimah’s) statement. He did not mention the name of Ibn Abbas. He narrated it as a statement of Ikrimah. ”
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہیں ایوب نے خبر دی، وہ عبداللہ بن کثیر کی سند سے, مجاہد کہتے ہیں
میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ، «في قبل عدتهن» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہو گئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے ( یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی ) تو وہ ایک شمار ہو گی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔
It was reported from Muhammad bin Iyas:
Ibn Abbas, Abu Hurairah and Abd Alah bin Amr bin Al ‘As رضی اللہ عنہم were asked about a virgin who is divorced three times by her husband. They all said “She is not lawful for him until she marries a man other than her former husband. ”Abu Dawud said “Malik narrated from Yahya bin Saeed from Bukair bin Al Ashajj from Muawiyah bin Abi Ayyash who was present on this occasion when Muhammad bin Iyas bin Al Bukair came to Ibn Al Zubair and Asim in Umar. He asked them about this matter. They replied “Go to Ibn Abbas and Abu Hurairah رضی اللہ عنہما, I have left them with Aishah (may Allaah be pleased with her). He then narrated the rest of the tradition. ” Abu Dawud said “The statement of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما goes “The divorce by three pronouncements separates the wife from husband whether the marriage has been consummated or not, the previous husband is not lawful for her until she marries a man other than her husband”. This statement is like the tradition which deals with the exchange of money. In this tradition the narrator said “Ibn Abbas withdrew his opinion. ”
اور ابن عباس کا قول اس سے واضح ہوا جو ہمیں احمد بن صالح اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا اور یہ احمد کی حدیث ہے۔ انہوں نے کہا: ہمیں عبد الرزاق نے معمر کی سند سے اور زہری کی سند سے بیان کیا,ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان کی روایت سے،محمد بن ایاس کی روایت ہے کہ
ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ ( کنواری ) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہو جائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہو چکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے اس کی مثال «صَرْف» والی حدیث کی طرح ہے ۱؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کر لیا۔
Tawus said:
A man called Abu Al Sahba used to ask Ibn Abbas رضی اللہ عنہما questions frequently. He asked “Do you know that when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse with her, they (the people) made it a single divorce during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and in the early phase of the caliphate of Umar?” Ibn “Abbas رضی اللہ عنہما said “Yes, when a man divorced his wife by three pronouncement before sexual intercourse they made it a single divorce during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and in the early phase of the caliphate of Umar رضی اللہ عنہ. When he saw that the people frequently divorced (by three pronouncements) he said “Make them operative on them (i.e., on women)”.
ہم سے محمد بن عبد الملک بن مروان نے بیان کیا، ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ ایوب کے واسطہ سے، ایک سے زیادہ آدمیوں سے, طاؤس سے روایت ہے کہ
ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ۔
Tawus said:
Abu al-Sahba' said to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما : Do you know that a divorce by three pronouncements was made a single one during the time of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and of Abu Bakr رضی اللہ عنہ and in the early days of the caliphate of Umar رضی اللہ عنہ? He replied: Yes.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن طاؤس نے بیان کیا
ابوصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں ۔
Umar bin Al Khattab رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “Actions are to be judged only by intentions and a man will have only what he intended. When one’s emigration is to Allah and His Messenger, his emigration is to Allah and His Messenger but his emigration is to a worldly end at which he aims or to a woman whom he marries, his emigration is to that for which he emigrated.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، وہ محمد بن ابراہیم تیمی کی سند سے,علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
Abdullah bin Kaab reported:
“I heard Kaab bin Malik. He then narrated his story about the battle of Tabuk. (Narrating the story) he added “When forty out of fifty days passed”, the messenger of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came and said “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has commanded you to keep away from your wife. He said “So, I (Kaab bin Malik)” said “Should I divorce her or what should I do? He said “No, but only keep away from her and do not go near her”. So, I said to my wife “Go to your people and live with them until Allah, the exalted makes a decision in this matter. ”
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح اور سلیمان بن داؤد نے بیان کیا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، مجھے عبدالرحمٰن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی, عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ
میں نے ( اپنے والد ) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا: تم اپنے میکے چلی جاؤ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave us our choice and we chose him so that was not reckoned anything (i.e., divorce)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، ابو الدوحہ کی سند سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۔
Hammad Ibn Zayd said:
I asked Ayyub: Do you know anyone who narrates the tradition narrated by Al-Hasan about uttering the words (addressing wife). Your matter is in your hand ? He replied: No, except something similar transmitted by Qatadah from Kathir, the client of Samurah, from Abu Salamah on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Ayyub said: Kathir then came to us; so I asked him (about this matter). He replied: I never narrated it. I mentioned it to Qatadah who said: Yes (he narrated it) but he forgot.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا, حماد بن زید کہتے ہیں کہ
میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
It was reported from Hisham, from Qatadah, from Al Hasan regarding the phrase:
“Your matter is in your hand” amounts to three pronouncements of divorce.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے, حسن سے
«أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۔
Nafi bun Ujair bin Abd Yazid bin Ruknah reported:
Rukanah bin Abd Yazid divorced his wife Suhaimah absolutely. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was informed about this matter. He said to him (the Prophet) I swear by Allah that I meant it to be only a single utterance of divorce. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “I swear by Allah that I meant it to be only a single divorce. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم restored her to him, Then he divorced her the second time in the time of Umar رضی اللہ عنہ and the third time of Uthman رضی اللہ عنہ . Abu Dawud said “This tradition contains the words of Ibrahim in its beginning and the words of Ibn Al Sarh in the end.
ہم سے ابن سرح اور ابراہیم بن خالد کلبی ابو ثور نے بیان کیا, ہم سے محمد بن ادریس الشافعی نے بیان کیا, مجھ سے میرے چچا محمد بن علی ابن شافعی نے عبداللہ بن علی بن السائب کی سند سے بیان کیا, نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ
رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Rukanah bin Yazid from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators.
ہم سے محمد بن یونس نسائی نے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن الزبیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ادریس نے، انہوں نے مجھ سے میرے چچا محمد بن علی سے، ابن السائب کی سند سے، نافع بن عجیر کی سند سے,رکانہ بن عبد یزید کی سند سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے، رکانہ بن عبد یزید سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Ali bin Yazid bin Rukanah reported on the authority of his father from his grandfather that he (Rukanah) divorced his wife absolutely; so he came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He asked (him): What did you intend? He said: A single utterance of divorce. He said: Do you swear by Allah? He replied: I swear by Allah. He said: It stands as you intended. Abu Dawud said: This tradition is sounder than that of Ibn Juraij that Rukanah divorced his wife by three pronouncements, for they are the members of his family and they are more aware for him. The tradition of Ibn Juraij has been narrated by some children of Abu Rafi from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas.
رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا نیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی بیان کردہ ہے اور وہ حقیقت حال سے زیادہ واقف ہیں اور ابن جریج والی روایت بعض بنی رافع ( جو ایک مجہول ہے ) سے منقول ہے جسے وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ( دیکھئیے حدیث نمبر: ۲۰۹۶ )
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying “Allah has ignored for my community what comes to their mind, so long as they do not act or pronounce words to that effect. ”
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، زرارہ بن اوفی کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کر دیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ۔
Narrated Tamimah al-Hujayni:
A man said to his wife: O my younger sister! The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمsaid: Is she your sister? So, he ﷺ disliked it and prohibited saying so.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد اور خالد الطَّحان المعنا نے بیان کیا، یہ سب خالد کی سند سے ہیں, ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۔
Abu Tamimah reported:
He reported from a man of his tribe “The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم heard a man say his wife “O my younger sister! So he prohibited him (addressing his wife in this manner) Abu Dawud said “This tradition has also been transmitted by Abd Al Aziz bin Al Mukhtar from Khalid from Abu Uthman from Abu Thamimah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This has also been narrated by Shubah from Khalid from a man on the authority of Abu Thamimah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن ابراہیم البزاز نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالسلام نے بیان کیا، ان سے ابن حرب نے بیان کیا، انہوں نے خالد الحداث رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ابو تمیمہ سے روایت ہے
وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Abraham صلی اللہ علیہ وسلم never told a lie except on three occasions twice for the sake of Allah. Allah quoted his words (in the Quran) “I am indeed sick” and “Nay, this was done by - this is their biggest one”. Once he was passing through the land of a tyrant (king). He stayed there in a place. People went to the tyrant and informed him saying “A man has come down here; he has a most beautiful woman with him. ” So he sent for him (Abraham) and asked about her. He said she is my sister. When he returned to her, he said “he asked me about you and I informed him that you were my sister. Today there is no believer except me and you. You are my sister in the Book of Allah (i.e., sister in faith). So do not belie me before him. The narrator then narrated the rest of the tradition. Abu Dawud said “A similar tradition has also been narrated by Shuaib bin Abi Hamza from Abi Al Zinad from Al A’raj on the authority of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے تھے، پہلا جب انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں ، دوسرا جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے کی کارستانی ہے، تیسرا اس موقعہ پر جب کہ وہ ایک سرکش بادشاہ کے ملک سے گزر رہے تھے ایک مقام پر انہوں نے قیام فرمایا تو اس سرکش تک یہ بات پہنچی، اور اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ٹھہرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت عورت ہے، چنانچہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور عورت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: یہ تو میری بہن ہے ، جب وہ لوٹ کر بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اسے یہ بتایا ہے کہ تم میری بہن ہو کیونکہ آج میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں ہے لہٰذا تم میری دینی بہن ہو، تو تم اس کے پاس جا کر مجھے جھٹلا نہ دینا ، اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
Narrated Salamah Ibn Sakhr al-Bayadi رضی اللہ عنہ :
I was a man who was more given than others to sexual intercourse with women. When the month of Ramadan came, I feared lest I should have intercourse with my wife, and this evil should remain with me till the morning. So I made my wife like my mother's back to me till the end of Ramadan. But one night when she was waiting upon me, something of her was revealed. Suddenly I jumped upon her. When the morning came I went to my people and informed them about this matter. I said: Go along with me to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. They said: No, by Allah. So I went to the Prophet ﷺ and informed him of the matter. He said: Have you really committed it, Salamah? I said: I committed it twice, Messenger of Allah. I am content with the Commandment of Allah, the Exalted; so take a decision about me according to what Allah has shown you. He said: Free a slave. I said: By Him Who sent you with truth, I do not possess a neck other than this: and I struck the surface of my neck. He said: Then fast two consecutive months. I said: Whatever I suffered is due to fasting. He said: Feed sixty poor people with a wasq of dates. I said: By Him Who sent you with truth, we passed the night hungry; there was no food in our house. He said: Then go to the collector of sadaqah of Banu Zurayq; he must give it to you. Then feed sixty poor people with a wasq of dates; and you and your family eat the remaining dates. Then I came back to my people, and said (to them): I found with you poverty and bad opinion; and I found with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم prosperity and good opinion. He has commanded me to give alms to you. Ibn al-Ala added: Ibn Idris said: Bayadah is a sub-clan of Banu Zurayq.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن علاء المعنا نے بیان کیا: ہم سے ابن ادریس نے محمد بن اسحاق کی سند سے اور محمد بن عمرو بن عطاء کی سند سے بیان کیا۔ ابن الاعلٰی بن علقمہ بن عیاش کہتے ہیں: سلیمان بن یسار کی سند سے, سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم نے ایسا کیا؟ میں نے جواب دیا: ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہو گئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو ، میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ، میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔ابن الاعلٰی نے مزید کہا: ابن ادریس نے کہا: بیضاء بنو زریق کا ذیلی قبیلہ ہے۔
Narrated Khuwaylah, daughter of Malik Ibn Thalabah رضی اللہ عنہا :
My husband, Aws Ibn as-Samit, pronounced the words: You are like my mother. So I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, complaining to him about my husband. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم disputed with me and said: Remain dutiful to Allah; he is your cousin. I continued (complaining) until the Quranic verse came down: Certainly has Allah heard the speech of the one who argues with you, [O Muhammad], concerning her husband. . . [58: 1] till the prescription of expiation. He then said: He should set free a slave. She said: He cannot afford it. He said: He should fast for two consecutive months. She said: Messenger of Allah, he is an old man; he cannot keep fasts. He said: He should feed sixty poor people. She said: He has nothing which he may give in alms. At that moment an araq (i. e. date-basket holding fifteen or sixteen sa's) was brought to him. I said: I shall help him with another date-basked ('araq). He said: You have done well. Go and feed sixty poor people on his behalf, and return to your cousin. The narrator said: An araq holds sixty sa's of dates. Abu Dawud said: She atoned on his behalf without seeking his permission. Abu Dawud said: This man (Aws bin al-Samit) is the brother of Ubadah bin al-Samit.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن علاء المعنا نے بیان کیا, ہم سے ابن ادریس نے محمد بن اسحاق کی سند سے اور محمد بن عمرو بن عطاء کی سند سے بیان کیا, ابن الاعلٰی بن علقمہ بن عیاش کہتے ہیں, سلیمان بن یسار کی سند سے, خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی ( سورۃ المجادلہ: ۱ ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک گردن آزاد کریں ، کہنے لگیں: ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں ، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ، کہنے لگیں: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں: اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آ گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول ( آپ یہ دے دیجئیے ) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو، اور اپنے چچا زاد بھائی ( یعنی شوہر ) کے پاس لوٹ جاؤ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔