A similar tradition has been transmitted by Ibn Ishaq with a different chain of narrators. But in this version he said:
‘Araq is a date-basket holding thirty sa’s. Abu Dawud said “This version is sounder than that of Yahya bin Adam. ”
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ ابو الاسباغ حرانی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ
«عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔
(Another chain) from Abu Salamah bin Abd Al Rahman who said:
‘Araq is a date-basket holding fifteen sa’s.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ
«عرق» سے مراد ایسی زنبیل ہے جس میں پندرہ صاع کھجوریں آ جائیں ۔
The tradition mentioned above has been transmitted by Sulaiman bin Yasar . This version has:
“Then some dates were brought to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he gave it him. They measured about fifteen sa’s “. He said “Give them in alms”. He said “Is there anyone needier than I and my family. Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم?” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Eat them, you and your family. ”
ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن لحیہ اور عمرو بن حارث نے بکر بن اشجع کی سند سے، سلیمان بن یساررضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے,اس میں ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو ۔
It was reported from Al-Awaizi narrated to them from Aws رضی اللہ عنہ , the brother of Ubaidah bin Samit:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave him fifteen sa’s of wheat to feed sixty poor people. Abu Dawud said At’a did not meet Aws (bin Al Samit) who was one of the people of Badr and died in the early days of Islam. This version is therefore, mursal (i.e., a successor narrated it directly from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, the link of the Companions is missing). This has been narrated by Al Auzai from At’a from Aus.
میں نے محمد بن وزیر المصری کو پڑھا, میں نے ان سے کہا: آپ سے بشر بن بکر نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ہم سے عطاء نے بیان کیا,عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔
Narrated Hisham bin Urwah:
Jamilah رضی اللہ عنہا was the wife of Aws Ibn as-Samit رضی اللہ عنہ ; he was a man immensely given to sexual intercourse. When his desire for intercourse was intensified, he made his wife like his mother's back. So Allah, the Exalted, sent down Quranic verses relating to expiation for zihar.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ
جمیلہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا۔
A similar tradition has been transmitted by Aishah رضی اللہ عنہا through a different chain of narrators.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، عروہ سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح اسی کے مثل مروی ہے۔
Narrated Ikrimah:
A man made his wife like the back of his mother. He then had intercourse with her before he atoned for it. He came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and informed him of this matter. He asked (him): What moved you to the action you have committed? He replied: I saw the whiteness of her shins in moon light. He said: Keep away from her until you expiate for your deed.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل الطلقانی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے الحکم بن ابان نے بیان کیا، عکرمہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو ۔
Ikrimah said:
“A man pronounced Zihar on his wife, and When he saw the illumination of her shin in the moonlight, he had intercourse with her. He came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He ordered him to atone for it.
ہم سے الزعفرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے حکم بن ابان کی سند سے, عکرمہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔
A similar tradition has been transmitted by Ibn Abbas رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. This version does not mention the word “shin”.
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے الحکم بن ابان نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے, لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔
A tradition similar to that of Sufyan has been transmitted by Ikrimah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. (a narrator no. 2222).
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، مجھ سے ایک راوی نے بیان کیا, اس سند سے بھی عکرمہ سے سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۲۲۱ ) کی طرح روایت ہے۔
Abu Dawud said: “I heard Muhammad bin Isa narrating this tradition who said Mu’tamar narrated it to us. And he (Mu’tamar) said “ I heard Al Hakam bin Aban narrating this tradition. He did not mention the name of Ibn Abbas. Abu Dawud said “Al Hussain bin Huraith wrote to me saying “Al Fadl bin Musa narrated from Ibn Abbas to the same effect from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے معتمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: میں نے حکم بن ابان کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ اسے عکرمہ سے روایت کر رہے تھے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے حسین بن حریث نے لکھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے فضل بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ معمر سے وہ حکم بن ابان سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
Narrated Thawban رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any woman asks her husband for divorce without some strong reason, the odour of Paradise will be forbidden to her.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے، ابو قلابہ سے، ابو اسماء رضی اللہ عنہ سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
Amrah, daughter of Abdur-Rahman ibn Saad ibn Zurarah, reported on the authority of Habibah, daughter of Sahl al-Ansariyyah رضی اللہ عنہا :
She (Habibah) was the wife of Thabit Ibn Qays ibn Shimmas رضی اللہ عنہ . The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out one morning and found Habibah by his door. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Who is this? She replied: I am Habibah, daughter of Sahl. He asked: What is your case? She replied: I and Thabit ibn Qays, referring to her husband, cannot live together. When Thabit ibn Qays came, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to him: This is Habibah, daughter of Sahl, and she has mentioned (about you) what Allah wished to mention. Habibah said: Messenger of Allah, all that he gave me is with me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Thabit Ibn Qays: Take it from her. So he took it from her, and she lived among her people (relatives).
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، یحییٰ بن سعید سے، عمرہ بنت عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے انہیں خبر دی, حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ بولیں: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں ، حبیبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے ( مہر وغیرہ ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا: اس ( مال ) میں سے لے لو ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Habibah daughter of Sahl was the wife of Thabit ibn Qays Shimmas رضی اللہ عنہ He beat her and broke some of her part. So she came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم after morning, and complained to him against her husband. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم called on Thabit ibn Qays and said (to him): Take a part of her property and separate yourself from her. He asked: Is that right, Messenger of Allah? He said: Yes. He said: I have given her two gardens of mine as a dower, and they are already in her possession. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Take them and separate yourself from her.
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، ہم سے ابوعامر عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عمرو سدوسی المدینی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے عمرہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا، وہ فجر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلوایا، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہو جاؤ، ثابت نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، وہ بولے، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور اس سے جدا ہو جاؤ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The wife of Thabit ibn Qays رضی اللہ عنہ separated herself from him for a compensation. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made her waiting period a menstrual course. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abdul-Razzaq from Mamar from Amr bin Muslim from Ikrimah from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in a mursal form (i.e. missing the link of the Companion).
ہم سے محمد بن عبد الرحیم البزاز نے بیان کیا، ہم سے علی بن بحر القطان نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن یوسف نے، معمر کی سند سے، عمرو بن مسلمہ سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
“The waiting period of a woman who ask for a khula is a menstrual period. ” separates herself from her husband for compensation
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
جس عورت کو خلع نے طلاق دی ہو اس کی عدت ایک حیض ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“Mughith رضی اللہ عنہ was a slave. ” He said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم make intercession for me to her (Barirah)”. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “O Barirah fear Allaah. He is your husband and father of your child”. She said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم do you command me for that? He said No, I am only interceding. Then tears were falling down on his (her husband’s) cheeks. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Abbas رضی اللہ عنہ “Are you not surprised with the love of Mughith for Barirah and her hatred for him. ”
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے خالد الحذ انے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
مغیث رضی اللہ عنہ ایک غلام تھے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! اس سے میری سفارش کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بریرہ! اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارے لڑکے کا باپ ہے کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ میں تو سفارشی ہوں مغیث کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو مغیث کی بریرہ کے تئیں محبت اور بریرہ کی مغیث کے تئیں نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ہے؟ ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The husband of Barirah رضی اللہ عنہا was a black slave called Mughith رضی اللہ عنہ . The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave her choice and commanded her to observe the waiting period. ”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے، قتادہ کی سند سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا اور ( نہ رہنے کی صورت میں ) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔
While relating the tradition about Barirah Aishah رضی اللہ عنہا said
“Her husband was a slave, so the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave her choice. She chose herself. Had he been a free man, he would not given her choice. ”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ
اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو ( آزاد ہونے کے بعد ) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے ( بریرہ کو ) اختیار نہ دیتے۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave her choice. Her husband was a slave. ”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی اور ولید بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے زیدہ نے، سماک کی سند سے، عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا اس کا شوہر غلام تھا۔