Rabah said:
My people married me to a Roman slave-girl of theirs. I had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Abdullah. I again had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Ubaydullah. Then a Roman slave of my people, called Yuhannah, incited her, and spoke to her in his own unintelligible language. She gave birth to a son like a chameleon (red). I asked her: What is this? She replied: This belongs to Yuhannah. We then brought the case to Uthman رضی اللہ عنہ (for a decision). I think Mahdi said these words. He inquired from both of them, and they acknowledged (the facts). He then said to them: Do you agree that I take the decision about you, which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had taken? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم decided that the child was to attributed to the one on whose bed it was born. And I think he said: He flogged her and flogged him, for they were slaves.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے مہدی بن میمون ابو یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب نے بیان کیا، ان سے حسن بن سعد رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حسن بن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, رباح کہتے ہیں کہ
میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چنانچہ گرگٹ جیسا ( سرخ ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہنے لگی: یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کر لیا، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ بستر والے کا ہے ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے، ( سنگسار نہیں کیا ) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے۔
Amr bin Shuaib on his father's authority said that his grandfather (Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما ) reported:
A woman said: Messenger of Allah, my womb is a vessel to this son of mine, my breasts, a water-skin for him, and my lap a guard for him, yet his father has divorced me, and wants to take him away from me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You have more right to him as long as you do not marry.
ہم سے محمود بن خالد السلمی نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ان سے ابو عمرو یعنی اوزاعی نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا اور اپنے داداعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تو ( دوسرا ) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے ۔
Hilal Ibn Usamah quoted Abu Maimunah Salma, client of the people of Madina, as saying:
While I was sitting with Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, a Persian woman came to him along with a son of hers. She had been divorced by her husband and they both claimed him. She said: Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, speaking to him in Persian, my husband wishes to take my son away. Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: Cast lots for him, saying it to her in a foreign language. Then her husband came and asked: Who is disputing with me about my son? Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: O Allah, I do not say this, except that I heard a woman who came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while I was sitting with him, and she said: My husband wishes to take away my son, Messenger of Allah, and he draws water for me from the well of Abu Inabah, and he has been good to me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Cast lots for him. Her husband said: Who is disputing with me about my son? The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: This is your father and this your mother, so take whichever of them you wish by the hand. So he took his mother's hand and she went away with him.
ہم سے حسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق اور ابو عاصم نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے زیاد نے بیان کیا, ہلال بن اسامہ سے روایت ہے کہ ابومیمونہ سلمی جو اہل مدینہ کے مولی اور ایک سچے آدمی ہیں کا بیان ہے کہ
میں ایک بار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا، اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی اور وہ دونوں ہی اس کے دعویدار تھے، عورت کہنے لگی: ابوہریرہ! ( پھر اس نے فارسی زبان میں گفتگو کی ) میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو لے لینا چاہتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی فارسی زبان ہی میں اس سے گفتگو کی، اتنے میں اس کا شوہر آیا اور کہنے لگا: میرے لڑکے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا اللہ! میں نے تو یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے ایک عورت کو کہتے سنا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، وہ کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے، حالانکہ وہ ابوعنبہ کے کنویں سے مجھے پانی لا کر پلاتا ہے اور وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو ، اس کا شوہر بولا: میرے لڑکے کے متعلق مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرا باپ ہے، اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے تو جس کا بھی چاہے ہاتھ تھام لے ، چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۔
Narrated Ali رضی اللہ عنہ :
Zayd Ibn Harithah رضی اللہ عنہ went out to Makkah and brought the daughter of Hamzah رضی اللہ عنہ with him. Then Jafar رضی اللہ عنہ said: I shall take her; I have more right to her; she is my uncle's daughter and her maternal aunt is my wife; the maternal aunt is like mother. Ali رضی اللہ عنہ said: I am more entitled to take her. She is my uncle's daughter. The daughter of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم is my wife, and she has more right to her. Zayd رضی اللہ عنہ said: I have more right to her. I went out and journeyed to her, and brought her with me. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came out. The narrator mentioned the rest of the tradition. He (i.e. the Prophet) said: As for the girl, I decided in favour of Jafar. She will live with her maternal aunt. The maternal aunt is like mother.
ہم سے عباس بن عبد العظیم نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے، محمد بن ابراہیم کی سند سے، نافع بن عزیر کی سند سے، وہ اپنے والد کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ گئے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے آئے، جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے میں لوں گا، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔
This tradition has been narrated by Abd Al Rahman bin Abi Laila through a different chain of narrators. This version has:
“He ﷺ decided that she would be given to Jafar رضی اللہ عنہ and said “Her maternal aunt is with him (i.e., his wife).
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو فروہ سے, عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے یہی حدیث مروی ہے لیکن پوری نہیں ہے,اس میں ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکی جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے گی، کیونکہ ان کے نکاح میں اس کی خالہ ہے ۔
Narrated Ali Ibn Abu Talib:
When we came out from Makkah, Hamzah's daughter pursued us crying: My uncle. Ali رضی اللہ عنہ lifted her and took her by the hand. (Addressing Fatimah رضی اللہ عنہا he said: ) Take your uncle's daughter. She then lifted her. The narrator then transmitted the rest of the tradition. Jafar رضی اللہ عنہ said: She is my uncle's daughter. Her maternal aunt is my wife. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم decided in favour of her maternal aunt, and said: The maternal aunt is like mother.
ہم سے عباد بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، بنی اسرائیل سے، ابواسحاق سے، ہانی اور ہبیرہ سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آ گئی، علی رضی اللہ عنہ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا: اپنے چچا کی لڑکی کو لو، انہوں نے اسے اٹھا لیا، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ: جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا: خالہ ماں کے درجے میں ہے ۔
Asma, daughter of Yazid Ibn as-Sakan al-Ansariyyah رضی اللہ عنہا narrated:
She was divorced in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. No waiting period was prescribed for a divorced woman (at that time). When Asma was divorced, Allah, the Exalted, sent down the injunction of waiting period for divorce. She is the first of the divorced women about whom the verse relating to waiting period was sent down.
ہم سے سلیمان بن عبد الحمید البحرانی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، مجھ سے عمرو بن مہاجر نے اپنے والد سے بیان کیا، اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں طلاق دے دی گئی، اس وقت مطلقہ کی کوئی عدت نہیں تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسماء کو طلاق دینے پر طلاق کی عدت نازل فرمائی اور وہ پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
Women who are divorced shall wait, keeping themselves apart, three monthly courses; and then said: And for such of your women as despair of menstruation, if ye doubt, their period (of waiting) shall be three months. This was abrogated from the former verse. Again he said: (O ye who believe, if ye wed believing women) and divorce them before ye have touched them, then there is no period that ye should reckon.
ہم سے احمد بن محمد بن ثابت المروازی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن حسین نے اپنے والد سے، یزید النحوی سے، عکرمہ کی سند سے،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۸ ) اور فرمایا: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے ( سورۃ الطلاق: ۴ ) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو انہیں کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ( سورۃ الاحزاب: ۴۹ ) اس آیت میں مذکور عورتوں کو بھی پہلی آیت کے حکم سے نکال دیا گیا ہے۔
Narrated Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم divorced Hafsah رضی اللہ عنہا, but he took her back in marriage.
ہم سے سہل بن محمد بن الزبیر عسکری نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زیدہ نے بیان کیا، ان سے صالح بن صالح نے، ان سے سلمہ بن کلہیل نے، ان سے سعید بن جبیر کی سند سے، ان سے ابن عباس کی روایت سے، عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کر لی۔
Abu Salamah bin Abd Al Rahman from Fatimah bint Qais رضی اللہ عنہا reported:
On the authority of Fatimah daughter of Qais Abu Amr bin Hafs رضی اللہ عنہ divorced her (Fathima daughter of Qais) absolutely when he was away from home and his agent sent her home barely. She was displeased with it. He said “I swear by Allaah, you have no claim on us. She then came to Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned that to him. He said to her “No maintenance is due to you for from him. He ordered her to spend the waiting period in the house of Umm Sharik but he said afterwards “that is a woman whom my Companions visits spend the waiting period in the house of Ibn Umm Maktum for he is blind and you can undress. Then when you are in a position of being remarried, tell me. ” She said “When I was in a position to remarry, I mentioned to him that Muawiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm رضی اللہ عنہما had asked me in marriage. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمsaid “As for Abu Jahm, he does not put down his stick from his shoulder, and as for Muawiyah he is a poor man who has no property; marry Usamah bin Zaid. I disliked him but he said “Maary Usamah bin Zaid. So, I married him. And Allah prospered him very much and I was envied. ”
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے اور اسود بن سفیان کے مؤکل عبداللہ بن یزید سے روایت کی ہے, ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ,فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ
ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا: اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت نہ ہو گی، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی، اور جب عدت مکمل ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہما کے پیغام کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے ( یعنی بہت زدو کوب کرنے والے شخص ہیں ) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو، چنانچہ میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔
Abu Salamah bin Abd Al Rahman said:
Fatimah daughter of Qais رضی اللہ عنہا told him that Abu Hafs Al Mughirah رضی اللہ عنہ divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. The version has Khalid bin Walid رضی اللہ عنہ and some people of Banu Makhzum came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم Abu Hafs Al Mughirah divorced his wife three times and he has left a little for her. He said “No maintenance is necessary for her. He then transmitted the rest of the tradition. The tradition narrated by Malik is more perfect.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان بن یزید العطار نے بیان کیا، یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اور اسے معمولی نفقہ ( خرچ ) دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے نفقہ نہیں ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۔
Abu Salamah reported on the authority of Fatimah رضی اللہ عنہا daughter of Qais:
Abu Amr bin Hafs Al Makhzumi رضی اللہ عنہ divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. He then mentioned about Khalid bin Walid رضی اللہ عنہ and said that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said “There are no maintenance and dwelling for her. ” This version has “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent a message to her “Do not give her consent for marriage without my permission. ””
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ہم سے ابو عمرو نے بیان کیا، یحییٰ رضی اللہ عنہ سے, ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش ، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ۔
Fatimah daughter of Qais رضی اللہ عنہا said:
“I was married to a man of Banu Makhzum. He divorced me absolutely. The narrator then transmitted the rest of the tradition like that of Malik. This version has “Do not marry yourself without my permission. ” Abu Dawud said Al Shabi, Al Bahiyy and ata from abd Al Rahman bin asim and Abu Bakr bin Abi Al Jahm all narrated on the authority of Fatimah رضی اللہ عنہا daughter of Qais that her husband had divorced her three times.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے، محمد بن عمرو کی سند سے، ابو سلمہ کی سند سے, فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی ( نہ کہ طلاق بتہ ) ۔
It was reported from Al Shabi, from Fathima رضی اللہ عنہا daughter of Qais:
“Her husband divorced her for the third time. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not allow her to have maintenance and dwelling. ”
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کلہیل نے، شعبی کی سند سے, فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا، اور نہ ہی رہائش دلائی۔
Abu Salamah reported on the authority of Fatimah daughter of Qays who said to him:
she was the wife of Abu Hafs Ibn al-Mughirah رضی اللہ عنہ who divorced her by three pronouncements. She said that she came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and sought his opinion about her going out from her house. He commanded her to shift to (the house of )Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ who was blind. Marwan denied to confirm the tradition of Fatimah رضی اللہ عنہا about the going out of a divorced woman from her house. Urwah said: Aishah رضی اللہ عنہا objected to Fatimah رضی اللہ عنہا daughter of Qays. Abu Dawud said: Salih bin Kaisan, Ibn Juraij, and Shuaib bin Abi Hamzah -- all of them narrated on the authority of al-Zuhri in a similar way. Abu Dawud said: Shuaibn bin Abi Hamzah the name of Abu Hamzah is Dinar. He is a client of Ziyad.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
وہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا ۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا، عروہ کہتے ہیں: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی بات کا انکار کیا۔ابوداؤد کہتے ہیں: صالح بن کیسان، ابن جریج، اور شعیب بن ابی حمزہ - ان سب نے الزھری کی سند سے اسی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد نے کہا: شعیب بن ابی حمزہ ابو حمزہ کا نام دینار ہے۔ وہ زیاد کا گاہک ہے۔
Ubaidullah said:
“Marwan sent someone (Qabisah) to Fatimah رضی اللہ عنہا and asked her (about the case). She said that she was the wife of Abu Hafs رضی اللہ عنہ. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم appointed Ali رضی اللہ عنہ as governor in a certain part of Yemen. Her husband also proceeded with him. From there he sent a message to her pronouncing one divorce that had yet remained. He commanded Ayyash bin Abi Rabiah and Al Harith bin Hisham to provide maintenance to her. They said “By Allah there is no sustenance for her except in case she is pregnant. ” She came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who said “There is no sustenance for you except in case you are pregnant. She then asked permission to shift (from her house) and he gave her permission. ” She asked “Where should I shift. Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Ibn Umm Maktum. He was blind. She would undress herself and he could not see her. She lived there till her waiting period passed. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم married her to Usamah رضی اللہ عنہ. Qabisah then returned to Marwan and narrated that to him. Marwan said “We did not hear this tradition except from a woman, so we shall follow the reliable practice on which we found the people”. When this reached Fatimah رضی اللہ عنہا she said “between me and you is the Book of Allah”. Allah the exalted said “Divorce them for their waiting period. . . ” Thou knowest not it may be that Allah will afterward bring some new thing to pass. She said “What a new thing will emerge after triple divorce. ” Abu Dawud said “A similar tradition has been narrated by Yunus on the authority of Al Zuhri. As for Al Zubaidi he narrated both traditions, the tradition of Ubaid Allah in the version of Mamar and the tradition of Abu Salamah in the version of Aqil. ” Abu Dawud said “Muhammad bin Ishaq narrated on the authority of Al Zuhri that Qabisah bin Dhuwaib transmitted to him the version which was narrated by Ubaid Allah bin Abd Allah which has Qabisah then returned to Marwan and informed him about that. ”
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے معمر کی سند سے، وہ زہری سے، انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے کہا
مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے: اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور آپ سے دریافت کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو ، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، پھر فاطمہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کہاں جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو، وہ نابینا ہیں، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے ، چنانچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ تو قبیصہ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا: ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی، اللہ کا فرمان ہے «فطلقوهن لعدتهن» ، «لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا» تک یعنی خاوند کا دل مائل ہو جائے اور رجوع کر لے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہو گی؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی۔
Abu Ishaq said:
“I was with Al Aswad in the congregational mosque. He said “Fathimah رضی اللہ عنہا daughter of Qais came to Umar bin Al Khattab ( رضی اللہ عنہ). (When she narrated the tradition about her divorce) he said “We are not to leave the Book of our Lord and the Sunnah of our Prophet صلی اللہ علیہ وسلم for the statement of a woman, we do not know whether she remembered it or not. ”
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمار بن رزاق نے بیان کیا, ابواسحاق کہتے ہیں کہ
میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے، پتا نہیں اسے یہ ( اصل بات ) یاد بھی ہے یا بھول گئی ۔
It was reported from Hisham bin Urwah, from his father said:
Aishah ( رضی اللہ عنہا) severely objected to the tradition of Fatimah رضی اللہ عنہا daughter of Qays. She said: Fatimah lived in a desolate house and she feared for her loneliness there. Hence the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم accorded permission to her (to leave the place).
ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مکان بدلنے کی ) رخصت دی تھی۔
Urwah Ibn az-Zubayr said:
Aishah رضی اللہ عنہا was asked: Did you not see (i.e. known) the statement of Fatimah رضی اللہ عنہا? She replied: It is not good for her to mention it (to others).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، عبدالرحمٰن بن القاسم نے اپنے والد سے, عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فاطمہ ( فاطمہ بنت قیس ) رضی اللہ عنہا کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔
Sulaimah bin Yasar said about leaving the house by Fathimah رضی اللہ عنہا :
“That was due to her bad manners. ”
ہم سے ہارون بن زید نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، سفیان سے اور یحییٰ بن سعید سے, سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے,وہ کہتے ہیں
یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔