Narrated Abu Rafi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم borrowed a young camel, and when the camels of the sadaqah (alms) came to him, he ordered me to pay the man his young camel. I said: I find only an excellent camel in its seventh year. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Give it to him, for the best person is he who discharges his debt in the best manner.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، زید بن اسلم کی سند سے، عطاء بن یسار کی سند سے بیان کیا, ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے ( آ کر ) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم owed me a debt and gave me something extra when he paid it.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، مسعر کی سند سے، محا رب بن دثر کی سند سے، انہوں نے کہا: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۔
Narrated Umar رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Gold for gold is interest unless both hand over on the spot; wheat for wheat is interest unless both hand over on the spot ; dates for dates is interest unless both hand over on the spot; barley for barley is interest unless both hand over on the spot.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے وہ مالک بن اوس کی سند سے, عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ( نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں ) ۔
Narrated Ubadah Ibn as-Samit رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Gold is to be paid for with gold, raw and coined, silver with silver, raw and coined (in equal weight), wheat with wheat in equal measure, barley with barley in equal measure, dates with dates in equal measure, salt by salt with equal measure; if anyone gives more or asks more, he has dealt in usury. But there is no harm in selling gold for silver and silver (for gold), in unequal weight, payment being made on the spot. Do not sell them if they are to be paid for later. There is no harm in selling wheat for barley and barley (for wheat) in unequal measure, payment being made on the spot. If the payment is to be made later, then do not sell them. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Saeed bin Abi 'Arubah, Hisham al-Dastawa'i and Qatadah from Muslim bin Yasar through his chain.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے، ابو الخلیل سے، مسلم المکی سے، ابو اشعث الصانعانی سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
(There is another chain) from Ubadah bin al-Samit رضی اللہ عنہ from the prophet with this report, with some addition and subtractions, he added:
With regard to other comodities. then sell as you wish, so long as it is hand to hand.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ابو قلابہ سے، ابو اشعث الصنانی رضی اللہ عنہ سے,عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے,نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ
جب صنف بدل جائے ( قسم مختلف ہو جائے ) تو جس طرح چاہو بیچو ( مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں ) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔
Narrated Fudalah Ibn Ubayd رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was brought a necklace in which there were gold and pearls. (The narrators Abu Bakr and (Ahmad) Ibn Mani' said: The pearls were set with gold in it, and a man bought it for nine or seven dinars. ) The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: (It must not be sold) till the contents are considered separately. The narrator said: He returned it till the contents were considered separately. The narrator Ibn Asa said: By this I intended trade. Abu Dawud said: The word hijarah (stone) was recorded in his note-book before, but he changed it and narrated tijarah (trade).
ہم سے محمد بن عیسیٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور احمد بن منیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مبارک نے بیان کیا اور ہم سے ابن العلا نے بیان کیا, ہمیں ابن المبارک نے سعید بن یزید کی سند سے خبر دی، مجھ سے خالد بن ابی عمران نے حنش کی سند سے بیان کیا, فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
خیبر کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ ( جڑے ہوئے ) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ( یہ خریداری درست نہیں ) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے ( نگ ) لینے کا تھا ( یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا ۱؎۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔
Narrated Fudalah bin Ubaid رضی اللہ عنہ :
At the battle of Khaibar I bought a necklace in which there were gold and pearls for twelve dinars. I separated them and found that its worth was more than twelve dinars. So I mentioned that to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who said: It must not be sold till the contents are considered separately.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابو شجاع سعید بن یزید نے، وہ خالد بن ابی عمران کی سند سے، انہوں نے حنش الصنعانی کی سند سے, فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا ( ۱۲ ) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں ۔
Narrated Fudalah bin Ubaid رضی اللہ عنہ :
We were with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the battle of Khaibar. We were selling to the Jews one uqiyah of gold for one dinar. The narrators other than Qutaibah said: for two or three dinars. Then both the versions agreed. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not sell gold except with equal weight.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے الجلاح ابو کثیر نے، مجھ سے حنش الصنعانی نے بیان کیا, فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے ( قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
I used to sell camels at al-Baqi for dinars and take dirhams for them, and sell for dirhams and take dinars for them. I would take these for these and give these for these. I went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who was in the house of Hafsah. I said: Messenger of Allah, take it easy, I shall ask you (a question): I sell camels at al-Baqi'. I sell (them) for dinars and take dirhams and I sell for dirhams and take dinars. I take these for these, and give these for these. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: There is no harm in taking them at the current rate so long as you do not separate leaving something to be settled.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل واحد اور محمد بن محبوب المعنی نے بیان کیا, ہم سے حماد نے سماک بن حرب سے اور سعید بن جبیر کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں ( اسے ) دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! ذرا سا میری عرض سن لیجئے: میں آپ سے پوچھتا ہوں: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہو جاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Simak (bin Harb) with a different chain of narrators and to the same effect. The first version is more perfect. It does not mention the words at the current rate .
ہم سے حسین بن اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا, اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے, لیکن پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں اس دن کے بھاؤ کا ذکر نہیں ہے۔
Narrated Samurah (Ibn Jundub) رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade selling animals for animals when payment was to be made at a later date.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، قتادہ کی سند سے، حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded him to equip an army, but the camels were insufficient. So he commanded him to keep back the young camels of sadaqah, and he was taking a camel to be replaced by two when the camels of sadaqah came.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، مسلم بن جبیر سے، ابو سفیان سے عمرو بن حریش نے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ ( ادھار ) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم bought a slave for two slaves.
ہم سے یزید بن خالد ہمدانی اور قتیبہ بن سعید ثقفی نے بیان کیا کہ لیث نے ان سے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا۔
Zayd Abu Ayyash asked:
Saad bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہما about the sale of the soft and white kind of wheat for barley. Saad رضی اللہ عنہ said: Which of them is better? He replied: Soft and white kind of wheat. So he forbade him from it and said: I heard the Messenger of Allah (sawa) say, when he was asked about buying dry dates for fresh. The Messenger of Allah (sawa) said: Are fresh dates diminished when they become dry? The (the people) replied: Yes. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade that. Abu Dawud said: A similar tradition has also been transmitted by Ismail bin Umayyah.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ
انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو«سلت» ( بغیر چھلکے کے جو ) سے بیچنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ( جب ) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Saad bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to sell fresh dates for dry dates when payment is made at a later date. Abu Dawud said: The tradition mentioned above has also been transmitted by Saad (bin Abi Waqqas) رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators in a similar way.
ہم سے ربیع بن نافع ابو توبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے ابن سلام نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، ہمیں عبداللہ نے خبر دی, ابوعیاش نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of fruits on the tree for fruits by measure, and sale of grapes for raisins by measure, and sale of harvest for wheat by measure.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی زایدہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا ( جو بیلوں پر ہو ) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے ( کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے ) ۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave license for the sale of Araya for dried dates and fresh dates.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب سے، خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک سے تر کھجور کی بیع کو عرایا میں اجازت دی ہے ۔
Narrated Sahl bin Abi Khathmah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of fruits for dried dates, but gave license regarding the Araya for its sale on the basis of a calculation of their amount. But those who buy them can eat them when fresh.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، وہ بشیر بن یسار کی سند سے, سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر پھلے ) کھجور کو ( سوکھے ) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو «تمر» ( سوکھی کھجور ) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave license regarding the sale of Araya when the amount was less then five wasqs or five wasqs. Dawud bin al-Husain was doubtful. Abu Dawud said: The tradition by Jabir indicates up to four wasqs.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ہم سے مالک نے، داؤد بن حصین سے اور ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام کی سند سے, ابوداؤد کہتے ہیں, ہمیں قعنبی نے جو کچھ انہوں نے مالک کو پڑھا اس میں ابو سفیان کی روایت سے بیان کیا جس کا نام قزمان تھا، ابن ابی احمد کا آزاد کردہ غلام تھا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے ( یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔
Abd Rabbihi bin Saeed al-Ansari said:
'Ariyyah means that a man gives another man a palm-tree on loan, or it means that reserves one or two palm-trees from his property for his personal use, then he sells for dried dates.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، عبدربہ بن سعید انصاری کہتے ہیں
عرایا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک شخص کو کھجور کا ایک درخت دیدے یا اپنے باغ میں سے دو ایک درخت اپنے کھانے کے لیے الگ کر لے پھر اسے سوکھی کھجور سے بیچ دے۔