Narrated Hakim Ibn Hizam رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent with him a dinar to buy a sacrificial animal for him. He bought a sheep for a dinar, sold it for two and then returned and bought a sacrificial animal for a dinar for him and brought the (extra) dinar to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave it as alms (sadaqah) and invoked blessing on him in his trading.
ہم سے محمد بن کثیر العبدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو حصین نے بیان کیا، اہل مدینہ کے ایک شیخ کی سند سے, حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If any of you can become like the man who had a faraq of rice, he should become like him. They (the people) asked: Who is the man who had a faraq of rice with him, Messenger of Allah ? Thereupon he narrated the story of the cave when a hillock fell on them (three persons), each of them said: Mention any best work of yours. The narrator said: The third of them said: O Allah, you know that I took a hireling for a faraq of rice. When the evening came, I presented to him his due (i. e. his wages). But he refused to take it and went away. I then cultivated it until I amassed cows and their herdsmen for him. He then met me and said: Give me my dues. I said (to him): Go to those cows and their herdsmen and take them all. He went and drove them away.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ہم سے عمر بن حمزہ نے بیان کیا، انہیں سالم بن عبداللہ نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص ایک فرق ۱؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہو جائے لوگوں نے پوچھا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، ( بویا اور بڑھایا ) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق ( مزدوری ) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا ۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
I Ammar, and Saad became partners in what we would receive on the day of Badr. Saad then brought two prisoners, but I and Ammar did not bring anything.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ ابواسحاق سے، وہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔
Amr bin Dinar said:
I heard Ibn Umar رضی اللہ عنہما say: We did not see any harm in sharecropping till I heard Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ say: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has forbidden it. So I mentioned it to Tawus. He said: Ibn Abbas رضی اللہ عنہما told me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had not forbidden it, but said: It is better for one of you to lend to his brother than to take a prescribed sum from him.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا,عمرو بن دینار کہتے ہیں
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول ( لگان ) لگا کر دینے سے بہتر ہے۔
Narrated Urwah bin al-Zubair:
Zayd Ibn Thabit رضی اللہ عنہ said: May Allah forgive Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi ibn Khadij رضی اللہ عنہ) heard his statement: Do not lease agricultural lands.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے بشر المعنی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار نے، وہ الولید بن ابی الولید کی سند سے, عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ( واقعہ یہ ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی ( یعنی لڑتے جھگڑتے ) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو ( موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا ) ۔
Narrated Saad رضی اللہ عنہ :
We used to lease land for what grew by the streamlets and for what was watered from them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us to do that, and commanded us to lease if for gold or silver.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں محمد بن عکرمہ بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے، ان سے محمد بن عبداﷲ بن ابی بن عبادہ نے بیان کیا, سعید بن المسیب ,سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی ( سکوں ) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔
Narrated Hanzlah bin Qais al-Ansari:
I asked Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ about the lease of land for gold and silver (i. e. for dinars and dirhams). There is no harm in it, for the people used to let out land in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم for what grew by the current of water and at the banks of streamlets and at the places of cultivation. So sometimes this (portion) perished and that (portion) was saved, and sometimes this remained intact and that perished. There was no (form of) lease among the people except this. Therefore, he forbade it. But if there is something which is secure and known, then there is no harm in it. The tradition of Ibrahim is more perfect. Qutaibah said: from Hanzalah on the authority of Rafi . Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Yahya bin Saeed from Hanzalah.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، انہیں عیسیٰ نے خبر دی، انہیں اوزاعی نے خبر دی, ہم کو قتیبہ بن سعید نے خبر دی، انہیں لیث نے خبر دی، ان دونوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کی سند سے، اور قول اوزاعی کا ہے, حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں
میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔
Hanzalah bin Qays said:
He asked Rafi ibn Khadij رضی اللہ عنہ about the lease of land. He replied: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the leasing of land. I asked: (Did he forbid) for gold and silver (i. e. dinars and dirhams)? He replied: If it is against gold and silver, then there is no harm in it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ
انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر ( کھیتی کے لیے ) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
Narrated Salim bin Abdullah bin Umar:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to let out his land till it reached him that Rafi bin Khadij al-Ansari رضی اللہ عنہ narrated that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade let out land. So Abdullah (bin Umar) رضی اللہ عنہماsaid: Ibn Khadij, what do you narrate from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about leasing the land? Rafi رضی اللہ عنہ replied to Abdullah bin Umar: I heard both of my uncles were present in the battle of Badr say, and they narrated it to the members of the family, that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade leasing land. Abdullah said: I swear by Allah, I knew that land was leased in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Abdullah then feared that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم might have created something new in that matter, so he gave up leasing land. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ayyub, Ubaid Allah, Kathir bin Farqad, Malik from Nafi on the authority of Rafi رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. It has also been transmitted by al-Auzai' from Hafs bin 'Inan al-Hanafi from Nafi from Rafi who said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: Similarly, it has been transmitted by Zaid bin Abi Unaisah from al-Hakkam from Nafi from Ibn Umar رضی اللہ عنہما that he went to Rafi and asked: Have you heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say? He replied: Yes. Similarly, it has also been transmitted by Ikrimah bin Ammar from Abu al-Najashi, from Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ who said: I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say. It has also been transmitted by al-Auzai from Abu al-Najashi from Rafi bin Khadij from his uncle Zuhair bin Rafi from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Dawud said: The name of Abu al-Najashi is Ata bin Suhaib.
ہم سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے میرے دادا لیث نے بیان کیا، مجھ سے عقیل نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ:
We used to employ people to till land for a share of it produce. He then maintained that, one of his uncles came to him and said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us from a work which beneficial to us. But obedience to Allah and His Messenger صلی اللہ علیہ وسلم is more beneficial to us. We asked: What is that ? He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone has land, he should cultivate it, or lend it to his brother for cultivation. He should not rent it for a third or a quarter (of the produce) or for specified among of produce.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے یعلیٰ بن حکیم نے، سلیمان بن یسار سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( بٹائی پر ) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو ( ایک بار ) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا ( اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو ) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے ۔
Ayyub said: Yala bin Hakim wrote to me: I heard Sulaiman bin Yasar narrating the tradition to the same effect as narrated by Ubaidaullah and through the same chain.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ایوب کہتے ہیں ,یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ :
Abu Rafi رضی اللہ عنہ came to us from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us from a work which benefited us; but obedience to Allah and His Messenger صلی اللہ علیہ وسلم is more beneficial to us. He forbade that one of us cultivates land except the one which he owns or the land which a man lends him (to cultivate).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے عمر بن ذر نے مجاہد کی سند سے بیان کیا، رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں ( بلامعاوضہ و شرط ) دیدے۔
Narrated Usaid bin Zuhair:
Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ came to us and said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbids you from a work which is beneficial to you ; and obedience to Allah and His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم is more beneficial to you. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbids you from renting land for share of its produce and he said: If anyone if not in need of his land he should lend it to his brother or leave it. Abu Dawud said: Shubah and Mufaddal bin Muhalhal have narrated it from Mansur in similar way. Shubah said (in his version): Usaid, nephew of Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، منصور کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, اسید بن ظہیر کہتے ہیں
ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو ( مفت ) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔
Abu Jafar al-Khatmi said:
My uncle sent me and his slave to Saeed ibn al-Musayyab. We said to him, there is something which has reached us about sharecropping. He replied: Ibn Umar رضی اللہ عنہما did not see any harm in it until a tradition reached him from Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ . He then came to him and Rafi told him that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Banu Harithah and saw crop in the land of Zuhayr. He said: What an excellent crop of Zuhayr is! They said: It does not belong to Zuhayr. He asked: Is this not the land of Zuhayr? They said: Yes, but the crop belongs to so-and-so. He said: Take your crop and give him the wages. Rafi رضی اللہ عنہ said: We took our crop and gave him the wages. Saeed (Ibn al-Musayyab) said: Lend your brother or employ him for dirhams.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا, ابوجعفر خطمی کہتے ہیں
میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ ( براہ راست ) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ( ماشاء اللہ ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( یہ سن کر ) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ ( اخراجات و محنتانہ ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: ( اب دو صورتیں ہیں ) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو ( اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو ) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو ( یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو ) ۔
Narrated Rafi Ibn Khadij رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade muhaqalah and muzabanah. Those who cultivate land are three: a man who has (his own) land and he tills it: a man who has been lent land and he tills the one lent to him; a man who employs another man to till land against gold (dinars) or silver (dirhams).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں ( ۱ ) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، ( ۲ ) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، ( ۳ ) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔
Abu Dawud said: Uthman bin Sahl bin Rafi bin Khadij said:
I was an orphan being nourished under the guardianship of Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ and I performed Hajj with him. My brother Imran bin Sahl then came to me and said: We rented out land to so-and-so for two hundred dirhams. He said: Leave it, for the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade renting land.
ابوداؤد نے کہا,میں نے سعید بن یعقوب الطالقانی کی سند سے پڑھا۔ میں نے اس سے کہا: ابن مبارک نے آپ کو سعید ابو شجاع کی روایت سے بتایا ہے؟ عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں
میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے ( رافع نے ) کہا: اسے چھوڑ دو ( یعنی یہ معاملہ ختم کر لو ) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ :
He had cultivated a land. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed him when he was watering it. So he asked him: To whom does the crop belong, and to whom does the land belong? He replied: The crop is mine for my seed and labour. The half (of the crop) is mine and the half for so-and-so. He said: You conducted usurious transaction. Return the land to its owner and take your wages and cost.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے الفضل بن د کین نے بیان کیا، ان سے بکیر نے بیان کیا، ہم سے ابن عامر نے بیان کیا, ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو ( جو زمین کا مالک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا ( یعنی یہ عقد ناجائز ہے ) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone sows in other people's land without their permission, he has no right to any of the crop, but he may have what it cost him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے شریک نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق سے، وہ عطاء کی سند سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah, and mu'awanah. One of the two narrators from Hammad said the word mu'awamah, and other said: selling many years ahead . The agreed version then goes: and thunya, but gave license for Araya.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے حماد اور عبد الوارث نے بیان کیا، ایوب کی سند سے، اور ابو الزبیر کی سند سے، انہوں نے کہا: حماد اور سعید بن مینا کی روایت سے، پھر دونوں نے اتفاق کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ مزابنہ مخابرہ اور معاومہ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين»کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے سے منع فرمایا ہے، اور عرایا کی اجازت دی ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade muzabanah, muhaqalah and thunya except it is known.
ہم سے ابو حفص عمر بن یزید السیاری نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن العوام نے بیان کیا، ان سے سفیان بن حسین نے، یونس بن عبید سے وہ عطاء کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ( درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے ) سے اور محاقلہ ( کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے ) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔