Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: If any of you does not leave mukhabarah, he should take notice of war from Allah and His Messenger صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے ابن راجہ نے بیان کیا، ان سے مکی نے بیان کیا، ان سے ابن خثیم نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے ابو الزبیر رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔
Narrated Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade mukhabarah. I asked: What is mukhabarah ? He replied: That you have the land (for cultivation) for half, a third, or a quarter (of the produce).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عمر بن ایوب نے بیان کیا، ان سے جعفر بن برقان نے، وہ ثابت بن الحجاج کی سند سے, زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made an agreement with the people of Khaibar to work and cultivate in return for half of the fruits or produce.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم handed over the Jews of Khaibar the palm trees and the land of Khaibar on condition that they should employ what belonged to them in working on them, and that he should have half of the fruits.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے لیث کی سند سے، محمد بن عبدالرحمٰن کی سند سے، یعنی ابن غنج نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم conquered Khaibar, and stipulated that all the land, gold and silver would belong to him. The people of Khaibar said: we know the land more than you ; so give it to us on condition that you should have half of the produce and we would have the half. He then gave it to them on that condition. When the time of picking the fruits of the palm-trees came, he sent Abdullah bin Rawahah رضی اللہ عنہ to them, and he assessed the among of the fruits of the palm-trees. This is what the people of Madina call khars (assessment). He used to say: In these palm-trees there is such-and-such amount (of produce). They would say: You assessed more to us, Ibn Rawahah رضی اللہ عنہ (than the real amount). He would say: I first take the responsibility of assessing the fruits of the palm-trees and give you half of (the amount) I said. They would say: This is true, and on this (equity) stand the heavens and the earth. We agreed that we should take (the amount which) you said.
ہم سے ایوب بن محمد الرقی نے بیان کیا، ہم سے عمر بن ایوب نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا، میمون بن مہران سے، مقسم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی ( واضح کر دیا ) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا ( اسی کو اہل مدینہ «خرص» ( آنکنا ) کہتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی ( ان کا نصف ہمیں دے دو ) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر ( بوجھ ڈالنے کے لیے ) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( اگر یہ زیادہ ہے ) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Jafar bin Burqan through his chain and to the same effect. This version has: He said:
He assessed, and after the words of kull saFara wa baida', he said: that is, gold and silver will belong to him.
ہم سے محمد بن سہل رملی نے بیان کیا، ہم سے زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے
اس میں لفظ «فحزر» ہے اور «وكل صفراء وبيضاء» کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔
Narrated Miqsam:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم conquered Khaibar. He then narrated it like the tradition of Zaid (bin Abu al-Zarqa'). This version has: He then assessed the produce of the palm-trees and said: I take the job of picking the fruit myself, and I shall give you half of (the amount) I said.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ان سے کثیر نے، یعنی ہم سے ابن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے جعفر بن برقان کی سند سے، انہوں نے ہم سے میمون نے بیان کیا, مقسم سے (مرسلاً) روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث ( پچھلی حدیث ) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا، ( اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا ) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to send Abdullah bin Rawahah رضی اللہ عنہ (to Khaybar), and he would assess the amount of dates when they began to ripen before they were eaten (by the Jews). He would then give choice to the Jews that they have them (on their possession) by that assessment or could assign to them (Muslims) by that assignment, so that the (amount of) zakat could be calculated before the fruit became eatable and distributed (among the people).
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے حجاج نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے ابن شہاب کی سند سے، عروہ کی سند سے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( خیبر ) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آ جائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
When Allah bestowed Khaybar on His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as fay (as a result of conquest without fighting), the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم allowed (them) to remain there as they were before, and apportioned it between him and them. He then sent Abdullah bin Rawahah رضی اللہ عنہ who assessed (the amount of dates) upon them.
ہم سے ابن ابی خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے، ابراہیم بن طہمان کی سند سے، وہ ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو ( آدھے آدھے کے اصول پر ) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے ) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا ( اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
Ibn Rawahah رضی اللہ عنہ assessed them (the amount of dates) at forty thousand wasqs, and when Abdullah bin Rawahah رضی اللہ عنہ gave them option, the Jews took the fruits in their possession and twenty thousand wasqs of dates were due from them.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق اور محمد بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہیں ابو الزبیر نے خبر دی, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق ( کھجور ) کا اندازہ لگایا ( ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا ( کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں ) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق ( کٹائی کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔