Ibn Ishaq said:
Araya means that a man lends another man some palm-trees, but he (the owner) feels inconvenient that the man looks after the trees (by frequent visits). He (the borrower) sells them (to the owner) by calculation.
ہم سے ہناد بن سری نے عبدہ کی سند سے بیان کیا, ابن اسحاق کہتے ہیں کہ
عرایا یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو چند درختوں کے پھل ( کھانے کے لیے ) ہبہ کر دے پھر اسے اس کا وہاں رہنا سہنا ناگوار گزرے تو اس کا تخمینہ لگا کر مالک کے ہاتھ تر یا سوکھے کھجور کے عوض بیچ دے ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of fruits till they were clearly in good condition, forbidding it both to the seller and to the buyer.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ الکنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade selling palm-trees till the dates began to ripen, and ears of corn till they were white and were safe from blight, forbidding it both to the buyer and to the seller.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے ابن الیاس نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غلے کو جب کہ وہ بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہو جائے بیچنے والے، اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to sell spoils of war till they are appointed, and to sell palm trees till they are safe from every blight, and a man praying without tying belt.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن خمیر نے قریش کے ایک آزاد شخص کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ( کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of fruits until they are ripened (tushqihah). He was asked: What do you mean by their ripening (ishqah)? He replied: They become red or yellow, and they are eaten.
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہیں سالم بن حیان کی سند سے، ہمیں سعید بن مینا نے خبر دی، انہوں نے کہا: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا: اشقاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہو جائیں اور انہیں کھایا جانے لگے ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of grapes till they became black and the sale of grain till it had become hard.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، حماد بن سلمہ کی سند سے، حمید کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو جب تک کہ وہ پختہ نہ ہو جائے اور غلہ کو جب تک کہ وہ سخت نہ ہو جائے بیچنے سے منع فرمایا ہے ( ان کا کچے پن میں بیچنا درست نہیں ) ۔
Yunus said:
I asked Abu Zinad about the sale of fruits before they were clearly in good condition, and what was said about it. He replied: Urwah Ibn az-Zubayr reports a tradition from Sahl Ibn Abi Hathmah on the authority of Zayd bin Thabit رضی اللہ عنہ who said: The people used to sell fruits before they were clearly in good condition. When the people cut off the fruits, and were demanded to pay the price, the buyer said: The fruits have been smitten by duman, qusham and murad fruit diseases on which they used to dispute. When their disputes which were brought to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم increased, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to them as an advice: No, do not sell fruits till they are in good condition, due to a large number of their disputes and differences.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سےعنبسہ بن خالد نے بیان کیا، یونس کہتے ہیں کہ
میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ ( وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے ) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا: پھر تم ایسا نہ کرو، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو ۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the sale of fruits till they were clearly in good condition, and (ordered that) they should not be sold but for dinar or dirham except Araya.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل الطالقانی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن جریج نے عطاء کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میوہ کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے اور فرمایا ہے: پھل ( میوہ ) درہم و دینار ( روپیہ پیسہ ) ہی سے بیچا جائے سوائے عرایا کے ( عرایا میں پکا پھل کچے پھل سے بیچا جا سکتا ہے ) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade selling fruits years ahead, and commanded that unforeseen loss be remitted in respect of what is affected by blight. Abu Dawud said: The attribution of the tradition regarding the effect of blight is one-third of the produce to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم is not correct. This is the opinion of the people of Madina.
ہم سے احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے بیان کیا , ہم سے سفیان نے حمید الاعرج سے اور سلیمان بن عتیق کی سند سے بیان کیا , جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھل بیچنے سے روکا ہے، اور آفات سے پہنچنے والے نقصانات کا خاتمہ کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثلث کے سلسلے میں کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے اور یہ اہل مدینہ کی رائے ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade sale of fruits for a number of years. One of the two narrators (Abu al-Zubair and Saeed bin Mina') mentioned the words sale for years (bai' al-sinin instead of al-mu'awamah).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب سے، ابو الزبیر اور سعید بن مینا سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ ( کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے ) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک ( یعنی ابو الزبیر ) نے ( معاومہ کی جگہ ) «بيع السنين» کہا ہے۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the type of sale which involves risk (or uncertainty) and a transaction determined by throwing stones.
ہم سے ابو شیبہ کے بیٹوں ابوبکر اور عثمان نے بیان کیا, ہم سے ابن ادریس نے عبید اللہ کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، الاعرج کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں«والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade two types of business transactions and two ways of dressing. The two types of business transactions are mulamasah and munabadhah. As regards the two ways of dressing, they are the wrapping of the Samma, and that when a man wraps himself up in a single garment while sitting in such a way that he does not cover his private parts or there is no garment on his private parts.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا اور اس کا قول یہ ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے زہری سے اور عطاء بن یزید لیثی کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ اور منابذہ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔
The tradition mentioned above has also been reported by Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. This version adds:
Wearing the Samma means that a man puts his garment over his left shoulder and keeps his right side uncovered. Munabadhah means that a man says (to another): If I throw this garment to you, the sale will be certain. Mulamasah means that a man touches it (another's garment) with his hand and neither he unfolds it nor turns it over. When he touched it, the sale becomes binding.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ عطاء بن یزید لیثی سے, اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے,البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ
اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Said al-Khudri رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect as narrated by both Sufyan and Abdul-Razzaq.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، ہم سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade the transaction called habal al-habalah.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» ( بچے کے بچہ ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔
A similar tradition has also been narrated by Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of transmitters. He said:
Habal al-habalah means that a she-camel delivers an offspring and then the offspring which it delivers becomes pregnant.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، نافع کی سند سے, اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے
اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔
Narrated Muhammad bin Eisa narrated to us (he said): "Hushaim narrated to us (he said): 'Salih bin Amir informed us.'" Abu Dawood said: This is how Muhammad said it: "He said: 'A sheikh from Banu Tamim narrated to us, he said:
Ali ibn Abu Talib رضی اللہ عنہ gave us Khutbah'" or he said: "Ali said:" Ibn Eisa said: "This is how Hushaim narrated to us, he said: There will come a time is certainly coming to mankind when people will bite each other and a rich man will hold fast, what he has in his possession (i.e. his property), though he was not commanded for that. Allah, Most High, said: And do not forget liberality between yourselves. The men who are forced will contract sale while the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade forced contract, one which involves some uncertainty, and the sale of fruit before it is ripe.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے صالح ابو عامر نے بیان کیا، ابوداؤد نے کہا: اس طرح محمد نے کہا, بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ
علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: ابن عیسیٰ نے کہا: ہشام نے ہمیں اس طرح بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا ( کسی کو نہ دے گا ) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم having said: Allah, Most High, says: I make a third with two partners as long as one of them does not cheat the other, but when he cheats him, I depart from them.
ہم سے محمد بن سلیمان المیسی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن الزبیر نے بیان کیا، ابو حیان تیمی نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔
Narrated Urwah Ibn AbulJa'd al-Bariqi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave him a dinar to buy a sacrificial animal or a sheep. He bought two sheep, sold one of them for a dinar, and brought him a sheep and dinar. So he invoked a blessing on him in his business dealing, and he was such that if had he bought dust he would have made a profit from it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ شبیب بن غرقدہ سے، مجھ سے الحی نے بیان کیا, عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی ( اس دعا کے بعد ) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by 'Urwat al-Bariqi through a different chain of narrators. The wordings of this version are different from those of the previous one.
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، ہم سے ابو المنذر نے بیان کیا، ہم سے سعید بن زید نے بیان کیا، وہ حماد بن زید کے بھائی ہیں، ہم سے زبیر بن الخریت نے ابو لبید کی سند سے بیان کیا، اس سند سے بھی عروہ بارقی سے, یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔