Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
When this verse was revealed: If they do come to thee, either judge between them, or decline to interfere. . . . If thou judge, judge in equity between them. Banu an-Nadir used to pay half blood-money if they killed any-one from Banu Qurayzah. When Banu Qurayzah killed anyone from Banu an-Nadir, they would pay full blood-money. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made it equal between them.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، داؤد بن حصین کی سند سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے ,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
جب یہ آیت «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» جب کافر آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کا فیصلہ کریں یا نہ کریں ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) «وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط» اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) نازل ہوئی تو دستور یہ تھا کہ جب بنو نضیر کے لوگ قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ آدھی دیت دیتے، اور جب بنو قریظہ کے لوگ بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دیتے تو وہ پوری دیت دیتے، تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت برابر کر دی۔
It was narrated from Al-Harith bin Amr, the nephew of Al-Maghirah bin Shubah, from some of the people of Hims who were Some companions of Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to send Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ to the Yemen, he asked: How will you judge when the occasion of deciding a case arises? He replied: I shall judge in accordance with Allah's Book. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in Allah's Book? He replied: (I shall act) in accordance with the Sunnah of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He asked: (What will you do) if you do not find any guidance in the Sunnah of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and in Allah's Book? He replied: I shall do my best to form an opinion and I shall spare no effort. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then patted him on the breast and said: Praise be to Allah Who has helped the messenger of the Messenger of Allah to find something which pleases the Messenger of Allah.
ہم سے حفص بن عمر نے شعبہ کی سند سے، ابو عون کی سند سے، مغیرہ بن شعبہ کے بھائی حارث بن عمرو کی سند سے،معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن ( کا گورنر ) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے ۔
Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent him to the Yemen. . . He then narrated the rest of the tradition to the same effect.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، مجھ سے ابو عون نے بیان کیا، ان سے حارث بن عمرو نے، بعض اصحاب معاذ کی سند سے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا۔ ۔ ۔، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Conciliation between Muslims is permissible. The narrator Ahmad added in his version: except the conciliation which makes lawful unlawful and unlawful lawful. Sulayman bin Dawud added: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Muslims are on (i.e. stick to) their conditions.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں سلیمان بن بلال نے خبر دی , ہم سے احمد بن عبد الواحد الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان نے، یعنی ہم سے ابن محمد نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے درمیان مصالحت جائز ہے ۔ احمد بن عبدالواحد نے اتنا اضافہ کیا ہے: سوائے اس صلح کے جو کسی حرام شے کو حلال یا کسی حلال شے کو حرام کر دے ۔ اور سلیمان بن داود نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اپنی شرطوں پر قائم رہیں گے ۔
Kab bin Malik رضی اللہ عنہ said:
In the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he made demand in the mosque for payment of a debt due to him from Ibn Abi Hadrad, and their voices rose till the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, who was in his house, heard them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then went out to them and, removing the curtain of his apartment, he called to Kab bin Malik رضی اللہ عنہ , addressing: Kab! He said: At your service, Messenger of Allah. Thereupon he made a gesture with is hand indicating: Remit half the debt due to you. Kab said: I shall do so, Messenger of Allah. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then said: Get up and discharge
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب کی سند سے، مجھے عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ابن ابی حدرد سے اپنے اس قرض کا جو ان کے ذمہ تھا مسجد کے اندر تقاضا کیا تو ان دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنا آپ اپنے گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی طرف نکلے یہاں تک کہ اپنے کمرے کا پردہ اٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا: اے کعب! تو انہوں نے کہا: حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ آدھا قرضہ معاف کر دو، کعب نے کہا: میں نے معاف کر دیا اللہ کے رسول! تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ابن حدرد ) سے فرمایا: اٹھو اور اسے ادا کرو ۔
Zaid bin Khalid al-Juhani رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Shall I not tell you of the best witnesses ? He is the one who produces his deposition or gives his evidence (the narrator is doubtful) before he is asked for it. Abdullah bin Abi Bakr dobted which of them he said. Abu Dawud said: Malis said: This refers to a man gives his evidence, but he does not know for whom it is meant. Al-Hamdani said: He should inform the authorities. Ibn al-Sarh said: He should give it to the ruler. The work ikhbar (inform) occurs in the version of al-Hamdani. Ibn al-Sarh said: Ibn Abi Amrah and not Abdur-Rahman.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی اور احمد بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، مجھے مالک بن انس نے عبداللہ بن ابی بکر سے خبر دی، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان نے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری نے انہیں خبر دی, زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بہتر گواہ نہ بتاؤں؟ جو اپنی گواہی لے کر حاضر ہو یا فرمایا: اپنی گواہی پیش کرے قبل اس کے کہ اس سے پوچھا جائے ۔ عبداللہ بن ابی بکر نے شک ظاہر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الذي يأتي بشهادته» فرمایا، یا «يخبر بشهادته» کے الفاظ فرمائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کہتے ہیں: ایسا گواہ مراد ہے جو اپنی شہادت پیش کر دے اور اسے یہ علم نہ ہو کہ کس کے حق میں مفید ہے اور کس کے حق میں غیر مفید۔ ہمدانی کی روایت میں ہے: اسے بادشاہ کے پاس لے جائے، اور ابن السرح کی روایت میں ہے: اسے امام کے پاس لائے۔ لفظ «اخبار» ہمدانی کی روایت میں ہے۔ ابن سرح نے اپنی روایت میں صرف «ابن ابی عمرۃ» کہا ہے، عبدالرحمٰن نہیں کہا ہے۔
Yahya bin Rashid said:
We were sitting waiting for Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما who came out to us and sat. He then said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone's intercession intervenes as an obstacle to one of the punishments prescribed by Allah, he has opposed Allah; if anyone disputes knowingly about something which is false, he remains in the displeasure of Allah till he desists, and if anyone makes an untruthful accusation against a Muslim, he will be made by Allah to dwell in the corrupt fluid flowing from the inhabitants of Hell till he retracts his statement.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرہ بن غازیہ نے بیان کیا, یحییٰ بن راشد کہتے ہیں کہ
ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے انتظار میں بیٹھے تھے، وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھے پھر کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی تو گویا اس نے اللہ کی مخالفت کی، اور جو جانتے ہوئے کسی باطل امر کے لیے جھگڑے تو وہ برابر اللہ کی ناراضگی میں رہے گا یہاں تک کہ اس جھگڑے سے دستبردار ہو جائے، اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنائے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے توبہ کر لے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through different chain of narrators to the same effect:
In this version he also said: He who assists in a dispute unjustly deserves the anger of Allah, Most High.
ہم سے علی بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، ہم سے عاصم بن محمد بن زید العمری نے بیان کیا، مجھ سے مثنی بن یزید نے بیان کیا، مطہر وراق کی سند سے، نافع کی سند سے, اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے
اس میں ہے آپ نے فرمایا: اور جو شخص کسی مقدمے کی ناحق پیروی کرے گا، وہ اللہ کا غیظ و غضب لے کر واپس ہو گا ۔
Narrated Khuraym Ibn Fatik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم offered the morning prayer. When he finished it, he stood up and said three times: False witness has been made equivalent to attributing a partner to Allah. He then recited: So avoid the abomination of idols and avoid speaking falsehood as people pure of faith to Allah, not associating anything with Him.
مجھ سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، مجھ سے سفیان نے بیان کیا، یعنی الصفری نے، اپنے والد کی سند سے، حبیب بن نعمان الاسدی کی سند سے, خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار دہرایا پھر یہ آیت پڑھی:«فاجتنبوا الرجس من الأوثان واجتنبوا قول الزور * حنفاء لله غير مشركين به» بتوں کی گندگی اور جھوٹی باتوں سے بچتے رہو خالص اللہ کی طرف ایک ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے ہوئے بغیر ( سورۃ الحج: ۳۰ ) ۔
Amr bin Shuaib on his father's authority told that his grandfather said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم rejected the testimony of a deceitful man and woman, of one who harbours rancour against his brother, and he rejected the testimony of one who is dependent on a family, and he allowed his testimony for other. Abu Dawud said: Ghimr means malice and enimity; qani (dependant), a subordinate servant like a special servant.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن راشد نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن موسیٰ نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے , اپنے دادا کی سند سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر والوں ( مالکوں ) کے حق میں ہو رد کر دیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غمر» کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور «قانع» سے مراد پرانا ملازم مثلاً خادم خاص ہے۔
The tradition mentioned above (No. 3593) has also been transmitted by Sulayman bin Musa through a different chain of narrators. This version has:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The testimony of a deceitful man or woman, of an adulterer and adulteress, and of one who harbours rancour against his brother is not allowable.
ہم سے محمد بن خلف بن طارق رازی نے بیان کیا، ہم سے زید بن یحییٰ بن عبید الخزاعی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبدالعزیز نے بیان کیا، سلیمان بن موسیٰ کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیانت کرنے والے مرد اور خیانت کرنے والی عورت کی، زانی مرد اور زانیہ عورت کی اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص کی گواہی جائز نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The testimony of a nomad Arab against a townsman is not allowable.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہیں نافع بن یزید نے، ابن الہدی نے، محمد بن عمرو بن عطاء سے، عطاء بن یسار سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: دیہاتی کی گواہی بستی اور شہر میں رہنے والے شخص کے خلاف جائز نہیں ۔
It was narrated from Hammad bin Zaid, from Ayyub رضی اللہ عنہ , from Ibn Abi Mulaikah who said:
Uqbah bin al-Harith narrated to me, and companion of mine (also) narrated it to me from him, and I better remembered my companion's narration, (he said): I married Umm Yahya daughter of Abu Ihab. A black woman entered upon us. She said that she had suckled both of us. So I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, and a mentioned it to him. He turned away from me. I said (to him): Messenger of Allah! she is a liar. He said: What do you know? She has said what she has said. Separate yourself from her (wife).
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ایوب رضی اللہ عنہ سے, ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے عقبہ بن حارث نے اور میرے ایک دوست نے انہیں کے واسطہ سے بیان کیا اور مجھے اپنے دوست کی روایت زیادہ یاد ہے وہ ( عقبہ ) کہتے ہیں: میں نے ام یحییٰ بنت ابی اہاب سے شادی کی، پھر ہمارے پاس ایک کالی عورت آ کر بولی: میں نے تم دونوں ( میاں، بیوی ) کو دودھ پلایا ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ عورت جھوٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم؟ اسے جو کہنا تھا اس نے کہہ دیا، تم اسے اپنے سے علیحدہ کر دو ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Uqbah bin al-Harith to the same effect through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Hammad bin Zaid looked at al-Harith bin Umair and said: He is from reliable narrators from Ayyub.
ہم سے احمد بن ابی شعیب حرانی نے بیان کیا، ہم سے حارث بن عمیر البصری نے بیان کیا۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن الیاس نے بیان کیا، ان دونوں نے ایوب رضی اللہ عنہ سے, اس سند سے بھی ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے، وہ عبید بن ابی مریم سے روایت کرتے ہیں اور وہ عقبہ بن حارث سے، ابن ابی ملیکہ کا کہنا ہے کہ میں نے اسے براہ راست عقبہ سے بھی سنا ہے لیکن عبید کی روایت مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے حارث بن عمیر کو دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ ایوب کے ثقہ تلامذہ میں سے ہیں۔
Ash-Shabi said:
A Muslim was about to die at Daquqa', but he did not find any Muslim to call him for witness to his will. So he called two men of the people of the Book for witness. Then they came to Kufah, and approaching Abu Musa رضی اللہ عنہ they informed him (about his) will. They brought his inheritance and will. Al-Ashari رضی اللہ عنہ said: This is an incident (like) which happened in the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and never occurred after him. So he made them to swear by Allah after the afternoon prayer to the effect that they had not misappropriated, nor told a lie, nor changed, nor concealed, nor altered, and that it was the will of the man and his inheritance. He then executed their witness.
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ہم سے زکریا نے بیان کیا, شعبی کہتے ہیں کہ
ایک مسلمان شخص مقام دقوقاء میں مرنے کے قریب ہو گیا اور اسے کوئی مسلمان نہیں مل سکا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بنائے تو اس نے اہل کتاب کے دو شخصوں کو گواہ بنایا، وہ دونوں کوفہ آئے اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کیا اور اس کا ترکہ بھی لے کر آئے اور وصیت بھی بیان کی، تو اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ایسا معاملہ ہے جو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف ایک مرتبہ ہوا اور اس کے بعد ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو عصر کے بعد قسم دلائی کہ: قسم اللہ کی، ہم نے نہ خیانت کی ہے اور نہ جھوٹ کہا ہے، اور نہ ہی کوئی بات بدلی ہے نہ کوئی بات چھپائی ہے اور نہ ہی کوئی ہیرا پھیری کی، اور بیشک اس شخص کی یہی وصیت تھی اور یہی ترکہ تھا۔ پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی شہادتیں قبول کر لیں ( اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
A man from Banu Sahm went out with Tamim ad-Dari and Adi bin BAdda. The man of Banu Sahm died in the land where no Muslim was present. When they returned with his inheritance, they (the heirs) did not find a silver cup with lines of gold (in his property). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم administered on oath to them. The cup was then found (with someone) at Makkah. They said: We have bought it from Tamim and Adi. Then two men from the heirs of the man of Banu Sahm got up and swore saying: Our witness is more reliable than their witness. They said that the cup belonged to their man. He (Ibn Abbas) said: The following verse was revealed about them: O ye who believe! when death approaches any of you. . . . .
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی زیدہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی القاسم نے، عبد الملک بن سعید بن جبیر کے واسطہ سے، اپنے والد سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بنو سہم کا ایک شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ نکلا تو سہمی ایک ایسی سر زمین میں مر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب وہ دونوں اس کا ترکہ لے کر آئے تو لوگوں نے اس میں چاندی کا وہ گلاس نہیں پایا جس پر سونے کا پتر چڑھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم دلائی، پھر وہ گلاس مکہ میں ملا تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اسے تمیم اور عدی سے خریدا ہے تو اس سہمی کے اولیاء میں سے دو شخص کھڑے ہوئے اور ان دونوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ معتبر ہے اور گلاس ان کے ساتھی کا ہے۔ راوی کہتے ہیں: یہ آیت: «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت» سورة المائدة: ( ۱۰۶ ) انہی کی شان میں اتری ۔
Narrated paternal Uncle of Umarah bin Khuzaymah, who was one of the Companion of the prophet صلی اللہ علیہ وسلم told:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم bought a horse from a Bedouin. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took him with him to pay him the price of his horse. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم walked quickly and the Bedouin walked slowly. The people stopped the Bedouin and began to bargain with him for the horse as and they did not know that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had bought it. The Bedouin called the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saying: If you want this horse, (then buy it), otherwise I shall sell it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stopped when he heard the call of the Bedouin, and said: Have I not bought it from you? The Bedouin said: I swear by Allah, I have not sold it to you. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Yes, I have bought it from you. The Bedouin began to say: Bring a witness. Khuzaymah bin Thabit رضی اللہ عنہ then said: I bear witness that you have bought it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم turned to Khuzaymah رضی اللہ عنہ and said: On what (grounds) do you bear witness? He said: By considering you trustworthy, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم! The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made the witness of Khuzaymah رضی اللہ عنہ equivalent to the witness of two people.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا کہ ان سے الحکم بن نافع نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری کی سند سے بیان کیا, عمارہ بن خزیمہ کہتے ہیں: ان کے چچا نے ان سے بیان کیا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا، آپ اسے اپنے ساتھ لے آئے تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلنے لگے، دیہاتی نے تاخیر کر دی، پس کچھ لوگ دیہاتی کے پاس آنا شروع ہوئے اور گھوڑے کا مول بھاؤ کرنے لگے اور وہ لوگ یہ نہ سمجھ سکے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے، چنانچہ دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: اگر آپ اسے خریدتے ہیں تو خرید لیجئے ورنہ میں نے اسے بیچ دیا، دیہاتی کی آواز سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا میں تجھ سے اس گھوڑے کو خرید نہیں چکا؟ دیہاتی نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی، میں نے اسے آپ سے فروخت نہیں کیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں؟ میں اسے تم سے خرید چکا ہوں پھر دیہاتی یہ کہنے لگا کہ گواہ پیش کیجئے، تو خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کر چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی تصدیق کی وجہ سے، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave a decision on the basis of an oath and a single witness.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور حسن بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ان سے زید بن الحباب نے بیان کیا، ان سے سیف مکی نے بیان کیا، عثمان نے کہا، سیف بن سلیمان نے قیس بن سعد کی سند سے، عمرو دینار رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلف اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Amr bin Dinar through a different chain of narrators and to the same effect. Salamah has in his version: Amr said:
In the rights (of the people).
ہم سے محمد بن یحییٰ اور سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں محمد بن مسلمہ نے عمرو بن دینار سے اس کی سند اور معنی کے ساتھ خبر دی, سلمہ نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ: عمرو نے کہا ہے کہ
یہ فیصلہ حقوق میں تھا ( نہ کہ حدود میں ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave a decision on the basis of an oath and a single witness. Abu Dawud said: Al-Rabi bin Sulaiman al-muadhdhin told me some additional words in this tradition: Al-Shafi'i told me from Abd al-Aziz. I then mentioned it fo Suhail who said: Rabiah told me -and he is reliable in my opinion - that I told him this (tradition) and I do not remember it. Abdul-Aziz said: Suhail suffered from some disease which caused him to lose a little of his intelligence, and he forgot some of his traditions. Thereafter Suhail would narrate traditions from Rabiah on the authority of his father.
ہم سے احمد بن ابی بکر ابو مصعب الزہری نے بیان کیا، ہم سے دراوردی نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، سہیل بن ابی صالح سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ساتھ قسم پر فیصلہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ربیع بن سلیمان مؤذن نے مجھ سے اس حدیث میں «قال: أخبرني الشافعي عن عبدالعزيز» کا اضافہ کیا عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: میں نے اسے سہیل سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھے ربیعہ نے خبر دی ہے اور وہ میرے نزدیک ثقہ ہیں کہ میں نے یہ حدیث ان سے بیان کی ہے لیکن مجھے یاد نہیں۔ عبدالعزیز دراوردی کہتے ہیں: سہیل کو ایسا مرض ہو گیا تھا جس سے ان کی عقل میں کچھ فتور آ گیا تھا اور وہ کچھ احادیث بھول گئے تھے، تو سہیل بعد میں اسے «عن ربیعہ عن أبیہ» کے واسطے سے روایت کرتے تھے۔