The tradition mentioned above has also been transmitted by Rabiah through the chain of Abu Musab and to the same effect. Sulaiman said:
I then met Suhail and asked him about this tradition. He said: I do not know it. I said to him: Rabiah transmitted it to me from you. He said: If Rabiah transmitted it to you from me, then retransmit it from Rabiah on my authority.
ہم سے محمد بن داؤد اسکندرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد یعنی ابن یونس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے ربیعہ کی سند سے بیان کیا, ابومصعب ہی کی سند سے ربیعہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ سلیمان کہتے ہیں
میں نے سہیل سے ملاقات کی اور اس حدیث کے متعلق ان سے پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں اسے نہیں جانتا تو میں نے ان سے کہا: ربیعہ نے مجھے آپ کے واسطہ سے اس حدیث کی خبر دی ہے تو انہوں نے کہا: اگر ربیعہ نے تمہیں میرے واسطہ سے خبر دی ہے تو تم اسے بواسطہ ربیعہ مجھ سے روایت کرو۔
Ammar bin Shu'aith bin (Ubaid) Allah bin Az-Zubaib Al-Anbari narrated: My father narrated to me: I heard my grandfather Az-Zubayb said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent an army to Banu al-Anbar. They captured them at Rukbah in the suburbs of at-Taif and drove them to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. I rode hurriedly to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Peace be on you, Messenger of Allah, and the mercy of Allah and His blessings. Your contingent came to us and arrested us, but we had already embraced Islam and cut the sides of the ears of our cattle. When Banu al-Anbar arrived, the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Have you any evidence that you had embraced Islam before you were captured today? I said: Yes. He said: Who is your witness? I said: Samurah, a man from Banu al-Anbar, and another man whom he named. The man testified but Samurah refused to testify. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He (Samurah) has refused to testify for you, so take an oath with your other witness. I said: Yes. He then dictated an oath to me and I swore to the effect that we had embraced Islam on a certain day, and that we had cut the sides of the ears of the cattle. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Go and divide half of their property, but do not touch their children. Had Allah not disliked the wastage of action, we should not have taxed you even a rope. Zubayb said: My mother called me and said: This man has taken my mattress. I then went to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and informed him. He said to me: Detain him. So I caught him with a garment around his neck, and stood there with him. Then the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم looked at us standing there. He asked: What do you intend (doing) with your captive? I said: I shall let him go free if he returns to this (man) the mattress of his mother which he has taken from her. He said: Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, I no longer have it. He said: The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took the sword of the man and gave it to me, and said to him: Go and give him some sa's of cereal. So he gave me some sa's of barley.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، ہم سے عمار بن شعیث بن عبداللہ بن زبیب عنبری نے بیان کیا، ان سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے دادا زبیب کو یہ فرماتے ہوئے سنا
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عنبر کی طرف ایک لشکر بھیجا، تو لشکر کے لوگوں نے انہیں مقام رکبہ میں گرفتار کر لیا، اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ لائے، میں سوار ہو کر ان سے آگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہا: السلام علیک یا نبی اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا لشکر ہمارے پاس آیا اور ہمیں گرفتار کر لیا، حالانکہ ہم مسلمان ہو چکے تھے اور ہم نے جانوروں کے کان کاٹ ڈالے تھے ، جب بنو عنبر کے لوگ آئے تو مجھ سے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس بات کی گواہی ہے کہ تم گرفتار ہونے سے پہلے مسلمان ہو گئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون تمہارا گواہ ہے؟ میں نے کہا: بنی عنبر کا سمرہ نامی شخص اور ایک دوسرا آدمی جس کا انہوں نے نام لیا، تو اس شخص نے گواہی دی اور سمرہ نے گواہی دینے سے انکار کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمرہ نے تو گواہی دینے سے انکار کر دیا، تم اپنے ایک گواہ کے ساتھ قسم کھاؤ گے؟ میں نے کہا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسم دلائی، پس میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ بیشک ہم لوگ فلاں اور فلاں روز مسلمان ہو چکے تھے اور جانوروں کے کان چیر دیئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور ان کا آدھا مال تقسیم کر لو اور ان کی اولاد کو ہاتھ نہ لگانا، اگر اللہ تعالیٰ مجاہدین کی کوششیں بیکار ہونا برا نہ جانتا تو ہم تمہارے مال سے ایک رسی بھی نہ لیتے ۔ زبیب کہتے ہیں: مجھے میری والدہ نے بلایا اور کہا: اس شخص نے تو میرا توشک چھین لیا ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے ( صورت حال ) بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسے پکڑ لاؤ میں نے اسے اس کے گلے میں کپڑا ڈال کر پکڑا اور اس کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم دونوں کو کھڑا دیکھ کر فرمایا: تم اپنے قیدی سے کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اس آدمی سے فرمایا: تو اس کی والدہ کا توشک واپس کرو جسے تم نے اس سے لے لیا ہے اس شخص نے کہا: اللہ کے نبی! وہ میرے ہاتھ سے نکل چکا ہے، وہ کہتے ہیں: تو اللہ کے نبی نے اس آدمی کی تلوار لے لی اور مجھے دے دی اور اس آدمی سے کہا: جاؤ اور اس تلوار کے علاوہ کھانے کی چیزوں سے چند صاع اور اسے دے دو وہ کہتے ہیں: اس نے مجھے ( تلوار کے علاوہ ) جو کے چند صاع مزید دئیے۔
Narrated Abu Musa al-Ashari رضی اللہ عنہ :
Two men claimed a camel or an animal and brought the case to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. But as neither of them produced any proof, the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم declared that they should share it equally.
ہم سے محمد بن المنہال الضّدیر نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عروبہ نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، وہ سعید بن ابی بردہ سے، وہ اپنے والد سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
دو شخصوں نے ایک اونٹ یا چوپائے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دعویٰ کیا اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوپائے کو ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Saeed through a different chain of narrators to the same effect.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا, اس سند سے بھی سعید (ابن ابی عروبۃ) سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators to the effect:
Two men laid claim camel and both of them produced witness so the prophet صلی اللہ علیہ وسلم divided it in halves between them.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا,اس سند سے بھی قتادہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو آدمیوں نے کسی ایک اونٹ کا دعویٰ کیا، اور دونوں نے دو دو گواہ پیش کئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔
Narrated Abu Hurairah: Two men disputed about some property and brought the case to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, but neither of them could produce any proof. So the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Cast lots about the oath whatever it may be, whether they like it or dislike it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
دو آدمی ایک سامان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے کر گئے اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں قسم پر قرعہ اندازی کرو ۱؎ خواہ تم اسے پسند کرو یا ناپسند ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When two men dislike the oath or like it, lots will be cost about it. Salamah said on the authority of Mamar who said: when the two are compelled to take an oath.
ہم سے احمد بن حنبل اور سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے احمد نے بیان کیا، ہم سے معمر نے، ہمام بن منبیہ سے روایت کی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دونوں آدمی قسم کھانے کو برا جانیں، یا دونوں قسم کھانا چاہیں تو قسم کھانے پر قرعہ اندازی کریں ( اور جس کے نام قرعہ نکلے وہ قسم کھا کر اس چیز کو لے لے ) ۔ سلمہ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی روایت میں «حدثنا معمر» کے بجائے «أخبرنا معمر» اور «إذا كَرِهَ الاثنان اليمين» کے بجائے «إذا أكره الاثنان على اليمين»ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Saeed bin ‘Urubah through the chain as narrated by Ibn Minhal. This version has:
About an animal and they had no proof. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered to cast lots about the oath.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، سعید بن ابی عروبہ سے ابن منہال کی سند سے اسی کے مثل مروی ہے
اس میں «في متاع» کے بجائے «في دابة» کے الفاظ ہیں یعنی دو شخصوں نے ایک چوپائے کے سلسلہ میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۔
Ibn Abi Mulaikah said:
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما wrote to me that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلمhad defendant should take an oath.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے بیان کیا، ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میرے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی علیہ پر قسم کا فیصلہ کیا ہے ( یعنی جب وہ منکر ہو اور مدعی کے پاس گواہ نہ ہو تو وہ قسم کھائے ) ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to a man whom he asked to take an oath: Swear by Allah except whom there is no god that you have nothing belonging to him, i.e. the plaintiff.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، ہم سے عطاء بن السائب نے بیان کیا، ابو یحییٰ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے قسم کھلائی تو یوں فرمایا: اس اللہ کی قسم کھاؤ جس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں کہ تیرے پاس اس ( یعنی مدعی کی ) کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابویحییٰ کا نام زیاد کوفی ہے اور وہ ثقہ ہیں۔
Al-Ashath bin Qais رضی اللہ عنہ said:
A Jew and I shared some land and he denied my right, so I took him to the holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The holy prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to me: Have you have proof. I said: No. He then said to the Jew: Swear an oath I said Messenger of Allah, he will swear an oath and go off my property. So Allah sent down: “Those who barter for a small price Allah’s covenant and their oaths. . . . to the end of the verse.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے عماش نے بیان کیا، شقیق کی سند سے,اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ ( مشترک ) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال خریدتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ( سورة آل عمران: ۷۷ ) ۔
Al-Ashath bin Qais رضی اللہ عنہ said:
A men from Kindah and a men from Hadramawt came to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلمwith their dispute about a land in the Yemen. The Hadrami said: Messenger of Allah, the this (man)had usurped land belonging to me, and it is his possession. He asked: Have you any proof ?He replied: No, but I can have him swear on oath. Allah knows that it is my land, and father seized it from me. The Kindi was prepared to take oath. He then narrated the rest of the tradition.
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ایک کندی اور ایک حضرمی یمن کی ایک زمین کے سلسلے میں جھگڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! اس ( کندی ) کے باپ نے مجھ سے میری زمین غصب کر لی ہے اور وہ زمین اس کے قبضے میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے حضرمی نے کہا: نہیں لیکن میں اس کو اس بات پر قسم دلاؤں گا کہ وہ نہیں جانتا کہ میری زمین کو اس کے باپ نے مجھ سے غصب کر لیا ہے؟ تو وہ کندی قسم کے لیے آمادہ ہو گیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ( جو گزر چکی نمبر: ۳۲۴۴ ) ۔
Alqamah bin Wail bin Hujr al-Hadrami رضی اللہ عنہ said on the authority of the father:
A man from Hadramaw and a man from kindah came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. The hadrami said: Messenger of Allah, this (man) has seized land which belonged to my father. Al-Kindi said: That is my land in my possession and I cultivate it; he has no right to it. The Holy prophet (may be peace upon him) said to the Hadrami: Have you any proof? We said: No. he (the Prophet)said: Then he will swear an oath for you. He said: Messenger of Allah, he is a reprobate and he would not care to swear to anything and stick at nothing. He said: That is only your recourse
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواس نے سماک کی سند سے، ان سے علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ایک حضرمی اور ایک کندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص نے میرے والد کی زمین مجھ سے چھین لی ہے، کندی نے کہا: یہ تو میری زمین ہے میں اسے جوتتا ہوں اس میں اس کا حق نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے فرمایا: کیا تیرے پاس کوئی گواہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کندی سے ) فرمایا: تو تیرے لیے قسم ہے تو حضرمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک فاجر شخص ہے اسے قسم کی کیا پرواہ؟ وہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اس کے اس پر تیرا کوئی حق نہیں ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to the Jew: I adjure you by Allah Who sent down the Torah to Moses! do you not find in the Torah (a rule about a man) who commits adultery. He then narrated the rest of the tradition relating to the stoning.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے بیان کیا، انہیں زہری نے بیان کیا، ہم سے مزینہ کے ایک آدمی نے بیان کیا جب ہم سعید بن المسیب کے پاس تھے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی کہ تم لوگ زانی کے متعلق تورات میں کیا حکم پاتے ہو ۔ اور راوی نے واقعہ رجم سے متعلق پوری حدیث بیان کی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrator. This version has:
A man from Muzainah who followed the knowledge and memorized it to me that Saeed bin al-Musayyab transmitted it. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect.
ہم سے عبدالعزیز بن یحییٰ ابو الاصبغ نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی ابن سلمہ نے، مجھ سے محمد بن اسحاق کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے,اس میں ہے کہ
مجھ سے مزینہ کے ایک آدمی نے جو علم کا شیدائی تھا اور اسے یاد رکھتا تھا بیان کیا ہے وہ سعید بن مسیب سے بیان کر رہا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی مفہوم کی ذکر کی.
Narrated Ikrimah:
The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Ibn Suriya': I remind you by Allah Who saved you from the people of Pharaoh, made you cover the sea, gave you the shade of clouds, sent down to you manna and quails, sent down you Torah to Moses, do you find stoning (for adultery) in your Book? He said: You have reminded me by the Great. It is not possible for me to belie you. He then transmitted the rest of the tradition.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، ہم سے سعید نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے, عکرمہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یعنی ابن صوریا سے فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی یاد دلاتا ہوں جس نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، تمہارے لیے سمندر میں راستہ بنایا، تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا، اور تمہارے اوپر من و سلوی نازل کیا، اور تمہاری کتاب تورات کو موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا، کیا تمہاری کتاب میں رجم ( زانی کو پتھر مارنے ) کا حکم ہے؟ ابن صوریا نے کہا: آپ نے بہت بڑی چیز کا ذکر کیا ہے لہٰذا میرے لیے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Narrated Awf bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave a decision between two men, and the one against whom the decision was given turned away and said: For me Allah sufficient, and He is the best dispenser of affairs. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah, Most High, blames for falling short, but apply intelligence, and when the matter gets the better of you, say; For me Allah sufficient, and He is the best disposer of affairs.
ہم سے عبد الوہاب بن نجدہ اور موسیٰ بن مروان الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، وہ بحیر بن سعد سے، وہ خالد بن معدان سے اور سیف کی سند سے, عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کیا، تو جس کے خلاف فیصلہ دیا گیا واپس ہوتے ہوئے کہنے لگا: مجھے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہتر کار ساز ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیوقوفی پر ملامت کرتا ہے لہٰذا زیر کی و دانائی کو لازم پکڑو، پھر جب تم مغلوب ہو جاؤ تو کہو: میرے لیے بس اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔
Narrated Ash-Sharid رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Delay in payment on the part of one who possesses means makes it lawful to dishonour and punish him. Ibn al-Mubarak said that dishonour means that he may be spoken to roughly and punish means he may be imprisoned for it.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، ان سے وبر بن ابی دلائلہ نے، وہ محمد بن میمون کی سند سے، انہوں نے عمرو بن عبداللہ کی سند سے, شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا اس کی ہتک عزتی اور سزا کو جائز کر دیتا ہے ۔ ابن مبارک کہتے ہیں: ہتک عزتی سے مراد اسے سخت سست کہنا ہے، اور سزا سے مراد اسے قید کرنا ہے۔
Hirmas bin Habib a man from the people of the desert narrated from his father, that his Grandfather:
I brought my debtor to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said to me: Stick to him. He again said to me: O brother of Banu Tamim, what do you want to do with your prisoner.
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمائل نے بیان کیا، کہا ہم کو صحرا کے ایک آدمی حرماس بن حبیب نے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک قرض دار کو لایا تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اس کو پکڑے رہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے بنو تمیم کے بھائی تم اپنے قیدی کو کیا کرنا چاہتے ہو؟ ۔
Bahz bin Hakim, on his father's authority, said that his grandfather told:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم imprisoned a man on suspicion.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے معمر کی سند سے، بہز بن حکیم سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔