Bahz ibn Hakim reported from his grandfather:
(Ibn Qudamah's version has: His grandfather's brother or uncle reported: ) - the narrator Mu'ammal said: - He (his grandfather Muawiyah) got up before the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم who was giving sermon: and he said: Why have your companions arrested my neighbours? He turned away from him twice. He (his grandfather Muawiyah) then mentioned something. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then said: Let his neighbours go. (Mu'ammal did not mention the words He was giving sermon. )
ہم سے محمد بن قدامہ اور معمل بن ہشام نے بیان کیا۔ ابن قدامہ نے کہا: مجھ سے اسماعیل نے بہز بن حکیم سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے بیان کیا
ابن قدامہ کی روایت میں ہے کہ ان کے بھائی یا ان کے چچا اور مومل کی روایت میں ہے وہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوئے اور آپ خطبہ دے رہے تھے تو یہ کہنے لگے: کس وجہ سے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا گیا ہے؟ تو آپ نے ان سے دو مرتبہ منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کچھ ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو اور مومل نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ خطبہ دے رہے تھے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
I intended to go (on expedition) to Khaybar. So I came to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, greeted him and said: I am intending to go to Khaybar. He said: When you come to my agent, you should take from him fifteen wasqs (of dates). If he asks you for a sign, then place your hand on his collar-bone.
ہم سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے چچا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے ابن اسحاق سے اور ابو نعیم وہب بن کیسان سے , جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے خیبر کی جانب نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا پھر میں نے عرض کیا: میں خیبر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے وکیل کے پاس جانا تو اس سے پندرہ وسق کھجور لے لینا اور اگر وہ تم سے کوئی نشانی طلب کرے تو اپنا ہاتھ اس کے گلے پر رکھ دینا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If you dispute over a pathway, leave the margin of seven yards.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے المثنیٰ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، وہ بشیر بن کعب العدوی کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی راستہ کے متعلق جھگڑو تو سات ہاتھ راستہ چھوڑ دو ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you asks permission for inserting a wooden peg in his wall, he should not prevent him. So they (the people) lowered down their heads. Then he (Abu Hurairah رضی اللہ عنہ) said: What is the matter ? I am seeing you are neglecting (to hear this tradition), I shall spread it among you. Abu Dawud said: This is the tradition of Ibn Abi Khalaf is more perfect.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے یہ سن کر لوگوں نے سر جھکا لیا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے جو میں تمہیں اس حدیث سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا ( یعنی اسے تم سے بیان کر کے ہی چھوڑوں گا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن ابی خلف کی حدیث ہے اور زیادہ کامل ہے۔
Narrated Abu Sirmah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone harms (others), Allah will harm him, and if anyone shows hostility to others, Allah will show hostility to him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے یحییٰ کی سند سے، محمد بن یحییٰ بن حبان سے، لولوہ کی سند سے، وہ ابو ابوصرمہ رضی اللہ عنہ کی سند سے, ابوداؤد نے کہا: اس حدیث میں قتیبہ کے علاوہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف پہنچائے گا، اور جس نے کسی سے دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ اس سے دشمنی کرے گا ۔
Abu Jafar Muhammad bin Ali reported from Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ :
He had a row of palm-trees in the garden of a man of the Ansar. The man had his family with him. Samurah رضی اللہ عنہ used to visit his palm-trees, and the man was annoyed by that and felt it keenly. So he asked him (Samurah) to sell them to him, but he refused. He then asked him to take something else in exchange, but he refused. So he came to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned it to him. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked him to sell it to him, but he refused. He asked him to take something else in exchange, but he refused. He then said: Give it to him and you can have such and such, mentioning something with which he tried to please him, but he refused. He then said: You are a nuisance. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said to the Ansari: Go and uproot his palm-trees.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے یحییٰ کی سند سے، محمد بن یحییٰ بن حبان سے، لولوہ کی سند سے، وہ ابو سرمہ کی سند سے, ابوداؤد نے کہا, اس حدیث میں قتیبہ کے علاوہ, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک انصاری کے باغ میں ان کے کھجور کے کچھ چھوٹے چھوٹے درخت تھے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے اہل و عیال بھی رہتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ جب اپنے درختوں کے لیے جاتے تو انصاری کو تکلیف ہوتی اور ان پر شاق گزرتا اس لیے انصاری نے ان سے اسے فروخت کر دینے کا مطالبہ کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، پھر اس نے ان سے یہ گزارش کی کہ وہ درخت کا تبادلہ کر لیں وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا، تو آپ نے بھی ان سے فرمایا: اسے بیچ ڈالو پھر بھی وہ نہ مانے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درخت کے تبادلہ کی پیش کش کی لیکن وہ اپنی بات پر اڑے رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے ہبہ کر دو، اس کے عوض فلاں فلاں چیزیں لے لو بہت رغبت دلائی مگر وہ نہ مانے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «مضار» یعنی ایذا دینے والے ہو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا: جاؤ ان کے درختوں کو اکھیڑ ڈالو ۔
Narrated Abdullah bin az-Zubayr رضی اللہ عنہما :
A man disputed with az-Zubayr رضی اللہ عنہ about streamlets in the lava plain which was irrigated by them. The Ansari said: Release the water and let it run, but az-Zubayr رضی اللہ عنہ refused. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to az-Zubayr رضی اللہ عنہ : Water (your ground), Zubayr رضی اللہ عنہ , then let the water run to your neighbour. The Ansari then became angry and said: Messenger of Allah! it is because he is your cousin! Thereupon the face of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم changed colour and he said: Water (your ground), then keep back the water till it returns to the embankment. Az-Zubayr رضی اللہ عنہ said: By Allah! I think this verse came down about that: But no, by thy Lord! they can have no (real) faith, until they make thee judge. . . . .
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، لیث نے زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے زبیر رضی اللہ عنہ سے حرۃ کی نالیوں کے سلسلہ میں جھگڑا کیا جس سے وہ سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی کو بہنے دو، لیکن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو پھر پانی کو اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو یہ سن کر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! یہ آپ کے پھوپھی کے لڑکے ہیں نا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنے کھیت سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ کھیت کے مینڈھوں تک بھر جائے ۔ زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں یہ آیت «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك» قسم ہے تیرے رب کی وہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپ کو اپنا فیصل نہ مان لیں ( سورة النساء: ۶۵ ) اسی بابت اتری ہے
Narrated Thalabah bin Abu Malik:
He heard his elders say that a man from the Quraysh had his share with Banu Qurayzah (in water). He brought the dispute to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about al-Mahzur, a stream whose water they shared together. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then decided that when water reached the ankles waters should not be held back to flow to the lower.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے، وہ الولید کی سند سے، یعنی ابن کثیر نے، ابو مالک بن ثعلبہ کی سند سے, ثعلبہ بن ابی مالک قرظی کہتے ہیں
انہوں نے اپنے بزرگوں سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ قریش کے ایک آدمی نے جو بنو قریظہ کے ساتھ ( پانی میں ) شریک تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مہزور کے نالے کے متعلق جھگڑا لے کر آیا جس کا پانی سب تقسیم کر لیتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جب تک پانی ٹخنوں تک نہ پہنچ جائے اوپر والا نیچے والے کے لیے نہ روکے۔
Amr bin Shuaib on his father's authority said that his grandfather told:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم decided regarding the stream al-Mahzur that its water should be held back till it reached the ankles, and that the upper waters should then be allowed to flow to the lower.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، ہم سے المغیرہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، مجھ سے ابوعبدالرحمٰن بن حارث نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہما سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی اس وقت تک روکا جائے جب تک کہ ٹخنے کے برابر نہ پہنچ جائے، پھر اوپر والا نیچے والے کے لیے چھوڑ دے۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Two men brought their dispute about the precincts of a palm-tree to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. According to a version of this tradition, he ordered to measure and it was measured. It was found seven yards. According to another version, it was found five yards. He made a decision according to that. Abdul Aziz said: He ordered to measure with a branch of its branches. It was then measured.
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ان سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، وہ ابو طولہ سے اور عمرو بن یحییٰ نے اپنے والد سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
دو شخص ایک کھجور کے درخت کی حد کے سلسلے میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ایک روایت میں ہے آپ نے اس کے ناپنے کا حکم دیا جب ناپا گیا تو وہ سات ہاتھ نکلا، اور دوسری روایت میں ہے وہ پانچ ہاتھ نکلا تو آپ نے اسی کا فیصلہ فرما دیا۔ عبدالعزیز کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی درخت کی ایک ٹہنی سے پیمائش کرنے کے لیے کہا تو پیمائش کی گئی۔