Narrated Abdur Rahman al-Himyari:
A companion of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم reported him as saying: When two people come together to issue an invitation, accept that of the one whose door is nearer in neighbourhood, but if one of them comes before the other accept the invitation of the one who comes first.
ہناد بن سری نے ہم سے عبد السلام بن حرب کی سند سے، ابو خالد دالانی کی سند سے، ابو الاعلٰی عودی کی سند سے، حمید بن عبدالرحمٰن حمیری کی سند سے
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: When the evening meal is brought before one of you and the congregational prayer is also ready, he should not get up until he finishes (eating). Musaddad’s version adds: When the evening meal was put before Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما, or it was brought to him, he did not get up until he finished it, even if he heard call to prayer (just before it), and even if he heard the recitation of the Quran by the leader-in-prayer.
احمد بن حنبل اور مسدد نے معنی بیان کیا ہے, احمد نے کہا, مجھ سے یحییٰ القطان نے بیان کیا، عبید اللہ سے، انہوں نے کہا: مجھ سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو ( نماز کے لیے ) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ ( کھانے سے ) فارغ ہو لے ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Prayer should not be postponed for taking meals nor for any other thing.
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، ہم سے معاذ نے، یعنی ابن منصور نے، ہم سے محمد بن میمون کی سند سے، جعفر بن محمد کی سند سے، اپنے والد سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے یا کسی اور کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کی جائے ۔
Narrated Abdullah ibn Ubaydullah bin Umayr said:
I was with my father in the time of Ibn az-Zubayr sitting beside Abdullah ibn Umar. Then Abbad bin Abdullah ibn az-Zubayr said: We have heard that the evening meal is taken just before the night prayer. Thereupon Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said: Woe to you! what was their evening meal? Do you think it was like the meal of your father?
ہم سے علی بن مسلم طوسی نے بیان کیا، ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، ہم سے ضحاک بن عثمان نے بیان کیا،عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ
میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے شام کا کھانا شروع کر دیا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟ ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out from the privy and was presented to him. They (the people) asked: Should we bring you water for ablution? He replied: I have been commanded to perform ablution when I get up for prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، عبداللہ بن ابی ملیکہ کی سند سے , عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وضو کرنے کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔
Narrated Salman al-Farsi رضی اللہ عنہ :
I read in the Torah that the blessing of food consists in ablution before it. So I mentioned it to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He said: The blessing of food consists in ablution before it and ablution after it. Sufyan disapproved of performing ablution before taking food. Abu Dawud said: It is weak.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے قیس نے بیان کیا، ابو ہاشم کی سند سے، وہ زاذان کی سند سے , سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی ۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came out from the valley of a mountain where he had eased himself. There were some dried dates on a shield before us. We called him and he ate with us. He did not touch water.
ہم سے احمد بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے چچا یعنی سعید بن الحکم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے خالد بن یزید نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم never expressed disapproval of food; if he desired it, he ate it, and if he disliked it, he left it alone.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش سے اور ابوحازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔
Narrated Wahshi bin Harb رضی اللہ عنہ :
The Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم we eat but we are not satisfied. He said: Perhaps you eat separately. They replied: Yes. He said: If you gather together at your food and mention Allah's name, you will be blessed in it. Abu Dawud said: If you are invited to a wedding feast before you, do not take it until the owner of the house (i.e. the host) allows you (to eat).
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: وحشی بن حرب حبشی حمصی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے ( اللہ کا نام لے کر ) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک ( میزبان ) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
He heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: When a man enters his house and mention Allah’s name on entering and on his food, the devil says: You have no place to spend the night and no evening meal; but when he enters without mentioning Allah’s name on entering, the devil says: You have found a place to spend the night, and when he does not mention Allah’s name at his food, he says: You have found a place to spend the night and an evening meal.
ہم سے یحییٰ بن خلف نے بیان کیا، ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، وہ ابن جریج سے، انہوں نے کہا: مجھے ابو الزبیر نے خبر دی، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان ( اپنے چیلوں سے ) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا ۔
Narrated Huzaifah رضی اللہ عنہ :
When we were at food with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم none of us put in his hand till the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم put his hand first. Once we were at food with him. A nomad Arab came in as though he were being pushed, and he was about to put his hand in food when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم seized him by the hand. Then a girl came in as though she were being pushed, and she was about to put her hand in the food when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم seized her by the hand, and he said: The devil considers the food when Allah’s name is not mentioned over it, and he brought his nomad Arab that it might be lawful by means of him, so I seized his hand: then he brought this girl that it might be lawful by means of her, so I seized her hand. By Him in Whose hand my soul is, His hand is in my hand along with their hands.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ خیثمہ رضی اللہ عنہ سے, حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہ, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you eats, he should mention Allah's name; if he forgets to mention Allah's name at the beginning, he should say: In the name of Allah at the beginning and at the end of it.
ہم سے مومل بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہشام کی سند سے، یعنی ابن ابی عبداللہ الدستوی نے، وہ بدیل کی سند سے، عبداللہ بن عبید کے واسطہ سے، ان میں سے ام کلثوم نامی ایک عورت کے واسطہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں ( اللہ کا نام ) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے بسم الله أوله وآخره ( اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے ) ۔
Narrated Umayyah bin Makhshi رضی اللہ عنہ :
Umayyah was sitting and a man was eating. He did not mention Allah's name until there remained the last morsel. When he raised it to his mouth, he said: In the name of Allah at the beginning and at the end of it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم laughed and said: The devil kept eating along with him, but when he mentioned Allah's name, he vomited what was in his belly. Abu Dawud: Jabir bin Subh is grandfather of Sulaiman bin Harb from his mother's side.
ہم سے مومل بن الفضل حرانی نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن یونس نے بیان کیا، ہم سے جابر بن سبحان نے بیان کیا, مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے) وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی ۔ابوداؤد: جابر بن سبح اپنی والدہ کی طرف سے سلیمان بن حرب کے دادا ہیں۔
Abu Juhaifah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: I do not eat while reclining.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، علی بن الاقمر کی سند سے، انہوں نے کہا: ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ( کیونکہ یہ متکبرین کا طریقہ ہے ) ۔
Narrated Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was never seen reclining while eating, nor walking with two men at his heels.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت البنانی سے اور شعیب بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہماسے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے، اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمیوں کو چلتے دیکھا گیا ( بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیچ میں یا سب سے پیچھے چلا کرتے تھے ) ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent me (for some work), and when I returned to him found him eating dates and squatting.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ رازی نے بیان کیا، انہیں وکیع نے خبر دی،مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کہیں ) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you eats, he must not eat from the top of the dish, but should eat from the bottom; for the blessing descends from the top of it.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن السائب سے اور سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے ۔
Narrated Abdullah bin Busr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had a bowl called gharra'. It was carried by four persons. When the sun rose high, and they performed the forenoon prayer, the bowl in which tharid was prepared was brought, and the people gathered round it. When they were numerous, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Allah has made me a respectable servant, and He did not make me an obstinate tyrant. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Eat from it sides and leave its top, the blessing will be conferred on it
ہم سے عمرو بن عثمان الحمصی نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن عرق نے بیان کیا، عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، مطلب یہ ہے اس میں ثرید بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ایک اعرابی کہنے لگا: بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک ( متواضع ) بندہ بنایا ہے، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade two kinds of food: to sit at cloth on which wine is drunk, and to eat by a man while lying on his stomach. Abu Dawud said: Jafar did not hear this tradition from al-Zuhri. His tradition is rejected.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، ان سے جعفر بن برقان نے، وہ زہری سے، وہ سلیم کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے ( اس کی دلیل اگلی سند ہے ) ۔
The tradition mentioned above has been transmitted by al-Zuhri from a different chain of narrators.
ہم سے ہارون بن زید بن ابی الزرقا نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے جعفر نے بیان کیا کہ اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔