Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to eat melon with fresh dates, and he used to say: The heat of the one is broken by the coolness of the other, and the coolness of the one by the heat of the other.
ہم سے سعید بن نصیر نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ہم اس ( کھجور ) کی گرمی کو اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک سے اور اس ( تربوز ) کی ٹھنڈک کو اس ( کھجور ) کی گرمی سے توڑتے ہیں ۔
It was narrated that the two Sulami sons of Busr said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to visit us and we offered him butter and dates, for he liked butter and dates.
ہم سے محمد بن وزیر نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مازید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابن جبیر سے سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے سلیم بن عامر نے بیان کیا، بسر سلمی کے لڑکے عبداللہ و عطیہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیا، آپ مکھن اور کھجور پسند کرتے تھے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
We used to go out on campaigns with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم . We got the vessels and skins of the polytheists and used them. But he did not object to them (i.e. us) for that (action).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلٰی نے اور ان سے اسماعیل نے، برد بن سنان نے عطاء کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے تو ہم مشرکین کے برتن اور مشکیزے پاتے تو انہیں کام میں لاتے تو آپ اس کی وجہ سے ہم پر کوئی نکیر نہیں فرماتے۔
Abu Thalabah al-khushani رضی اللہ عنہ said:
He asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم: We live in the neighbourhood of the People of the Book and they cook in their pots (the flesh of) swine and drink wine in their vessels. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If you find any other pots, then eat in them and drink. But if you do not find any others, then wash them with water and eat and drink (In them).
ہم سے نصر بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن العلاء بن زبر نے ابو عبیداللہ مسلم بن مشکم کی سند سے خبر دی، ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہا: ہم اہل کتاب کے پڑوس میں رہتے، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں کھاؤ پیئو، اور اگر ان کے علاوہ برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو ڈالو پھر ان میں کھاؤ اور پیو ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent us on an expedition and made Abu Ubaidah bin al-Jarrah رضی اللہ عنہ our leader. We had to meet a caravan of the Quraish. He gave us a bag of dates as a light meal during the journey. We had nothing except that. Abu Ubaidah رضی اللہ عنہ would give each of us one date. We used to suck them as a child sucks, and drink water after that and it sufficed us that day till night. We used to beat leaves off the trees with our sticks (for food), wetted them with water and ate them. We then went to the coast of the sea. There appeared to us a body like a great mound. When we came to it, we found that it was an animal called al-anbar. Abu Ubaidah رضی اللہ عنہ said: It is a carrion, and it is not lawful for us. He then said: No, we are the Messengers of the Apostle of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and we are in the path of Allah. If you are forced by necessity (to eat it), then eat it. We stayed feeding on it for one mouth, till we became fat, and we were three hundred in number. When we came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, we mentioned it to him. He said: It is a provision which Allah has brought forth for you, and give us some to eat if you have any meat of it with you. So we sent some of it to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he ate (it).
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا کر قریش کا ایک قافلہ پکڑنے کے لیے روانہ کیا اور زاد سفر کے لیے ہمارے ساتھ کھجور کا ایک تھیلہ تھا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے توریت کے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم ( کھا کھا کر ) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے کھایا۔
Maimunah رضی اللہ عنہا said:
A mouse fell into clarified butter. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was informed of it. He said: Throw what is around it and eat.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے الزہری نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن عبداللہ نے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک چوہیا گھی میں گر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی، آپ نے فرمایا: ( جس جگہ گری ہے ) اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینک دو اور ( باقی ) کھاؤ ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When a mouse falls into clarified butter, if it is sold, throw the mouse and what is around it away, but if it is in a liquid state, do not go near it. Al-Hasan said: Abdur Razzaq said: This tradition has been transmitted by Mamar, from az-Zuhri, from Ubaydullah bin Abdullah Ibn Abbas, from Maymunah, from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے احمد بن صالح اور حسن بن علی نے بیان کیا - اور قول حسن کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو ( اور باقی کھا لو ) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ ۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے۔
It was narrated from Mamar, from Az-zuhri, from Ubaidullah, from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما from Maymunah رضی اللہ عنہا , from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم like the tradition narrated by az-Zuhri, from Ibn al-Musayyab.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن بوذویہ نے خبر دی، انہیں معمر کی سند سے، وہ زہری نے، عبید اللہ بن عبداللہ سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, اس سند سے بھی ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے زہری کی حدیث کے مثل روایت ہےجسے انہوں نے ابن مسیب کے واسطہ سے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ) روایت کیا ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when a fly alights in anyone’s vessel, he should plunge it all in, for in one of its wings there is a disease, and in the other is a cure. It prevents the wing of it is which there is a cure, so plunge it all in (the vessel).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر نے بیان کیا، یعنی ابن المفضل نے ابن عجلان کی سند سے اور سعید مقبری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ate food, he licked his three fingers. And he said: If the morsel of one of you falls down, he should wipe away anything injurious on it and eat it and not leave it for the devil. And he ordered us to clean the dish, for one of you does not leave it for the devil. And he ordered us to clean the dish, for one of you does not know in what part of his food the blessing lies.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If the servant of any of you prepares food for him, and he brings it to him, while he had suffered its heat and smoke. He should make him sit with him to eat. If the food is scanty, he should put one or two morsels in his hand.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن قیس نے بیان کیا، موسیٰ بن یسار سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: When one of you eats, he must not wipe his hand with a handkerchief till he licks it or gives it to someone to lick.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ابن جریج نے عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا کسی کو چٹا نہ دے ۔
Kaab bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to eat with three fingers and not wipe his before licking it.
ہم سے النفیل نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد کی سند سے، انہوں نے ابن ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور اپنا ہاتھ جب تک چاٹ نہ لیتے پونچھتے نہیں تھے۔
Abu Umamah رضی اللہ عنہ said:
When the food cloth was removed, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: “praise be to Allah abundantly and sincerely, of such a nature as is productive of blessing, is not insufficient, Abandoned, or ignored, O our lord. ”
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ثور کی سند سے، خالد بن معدان سے,ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his food, he said: Praise be to Allah Who has given us food and drink and made us Muslims.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے ابو ہاشم الواسطی سے، اسمٰعیل بن رباح سے، اپنے والد یا کسی اور سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ۔
Narrated Abu Ayyub al-Ansari رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ate or drank, he said: Praise be to Allah Who has given food and drink and made it easy to swallow, and provided an exit for it.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعم وسقى، وسوغه، وجعل له مخرجا» ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی ۔
Narrated Abu Hurairah:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone spends the night with grease on his hand which he has not washed away, he can blame only himself if some trouble comes to him.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
Abul Haytham bin at-Tayhan prepared food for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and he invited the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions. When they finished (food), the said: If some people enter the house of a man, his food is eaten and his drink is drunk, and they supplicate (to Allah) for him, this is his reward.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے یزید ابو خالد الدلانی نے ایک آدمی کے واسطہ سے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to visit Saad bin Ubaydah رضی اللہ عنہ , and he brought bread and olive oil, and he ate (them). Them). Then the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May the fasting (men) break their fast with you, and the pious eat your food, and the angels pray for blessing on you.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: «أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة» تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور تمہارے لیے دعائیں کریں ۔