Narrated Abdur Rahman bin Shibl رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to eat the flesh of lizard.
ہم سے محمد بن عوف طائی نے بیان کیا، ان سے حکم بن نافع نے بیان کیا، ان سے ابن عیاش نے بیان کیا، ان سے ضمضم بن زرعہ نے، شریح بن عبید کی سند سے، ابو راشد الحبرانی کی سند سے, عبدالرحمٰن بن شبل اوسی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۔
Narrated Safinah رضی اللہ عنہ :
I ate the flesh of a bustard along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے الفضل بن سہل نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے بریح بن عمربن سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( پانی کی چڑیا ) سرخاب کا گوشت کھایا۔
Narrated at-Talabb bin Thalabah at-Tamimi رضی اللہ عنہ :
I accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, but I did not hear about the prohibition of (eating) insects and little creatures of land.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے غالب بن حجرہ نے بیان کیا، مجھ سے ملقام بن تلب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کیڑے مکوڑوں کی حرمت کے متعلق نہیں سنا۔
It was narrated from Eisa bin Numailah that his father:
I was with Ibn Umar رضی اللہ عنہما . He was asked about eating hedgehog. He recited: Say: I find not in the message received by me by inspiration any (meat) forbidden. An old man who was with him said: I heard Abu Hurairah say: It was mentioned to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Noxious of the noxious. Ibn Umar رضی اللہ عنہما said: If the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had said it, it is as he said that we did not know.
ہم سے ابراہیم بن خالد کلبی ابو ثور نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا، عیسیٰ بن نمیلہ ے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے ۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
The people of pre-Islamic times used to eat some things and leave others alone, considering them unclean. Then Allah sent His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and sent down His Book, marking some things lawful and others unlawful; so what He made lawful is lawful, what he made unlawful is unlawful, and what he said nothing about is allowable. And he recited: Say: I find not in the message received by me by inspiration any (meat) forbidden to be eaten by one who wishes to eat it. . . . up to the end of the verse.
ہم سے محمد بن داؤد بن صبیح نے بیان کیا، ہم سے الفضل بن دقین نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی ہم سے ابن شریک المکی نے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار کی سند سے، انہوں نے ابو الشعثاء کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا اخیر تک پڑھی۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about the hyena. He replied: It is game, and if one who is wearing ihram (pilgrim's robe) hunts it, he should give a sheep as atonement.
ہم سے محمد بن عبداللہ الخزاعی نے بیان کیا، ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبید نے، وہ عبدالرحمٰن بن ابی عمار کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا ( لگڑ بگڑ ) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تو اسے ایک دنبے کا دم دینا پڑے گا.
Abu Thalabah al-Khushani رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited eating fanged beast of pery.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو ادریس الخولانی کی سند سے بیان کیا ہے, ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ کھانے والے جانوروں میں سے ہر دانت والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited the eating of every beast of prey with fang, and every bird with a talon.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو بشر کی سند سے، میمون بن مہران سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Al-Miqdam bin Madikarib رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Beware, the fanged beast of prey is not lawful, nor the domestic asses, nor the find from the property of a man with whom treaty has been concluded, except that he did not need it. If anyone is a guest of people who provide no hospitality for him, he is entitled to take from them the equivalent of the hospitality due to him.
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے الزبیدی کی سند سے، مروان بن رباح التغلبی کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن ابی عوف کی سند سے, مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے ۔
Narrated Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما :
On the day of Khaybar the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited eating every beast of prey, and every bird with a talon.
ہم سے محمد بن بشار نے ابن ابی عدی کی سند سے، ابن ابی عروبہ کی سند سے، علی بن الحکم سے، میمون بن مہران سے، سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا۔
Narrated Khalid bin al-Walid رضی اللہ عنہ :
I went with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to fight at the battle of Khaybar, and the Jews came and complained that the people had hastened to take their protected property (as a booty), so the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: The property of those who have been given a mules, every fanged beast of prey, and every bird with a talon are forbidden for you.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، مجھ سے ابوسلمہ سلیمان بن سلیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن یحییٰ بن المقدام نے اپنے دادا مقدام بن معد کریب کی سند سے بیان کیا, خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade payment for a cat. Ibn Abdul Malik said: to eat a cat and to enjoy its price.
ہم سے احمد بن حنبل اور محمد بن عبد الملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے عمر بن زید صنعانی سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا۔ ابن عبدالملک کی روایت میں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے کے الفاظ ہیں۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
On the day of Khaibar the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us to eat the flesh of domestic asses, and ordered us to eat horse-flesh. Amr said: I informed Abu al-Shatha’ about this tradition. He said: Al-Hakam al-Ghifari among us said this, and the” ocean” denied that, intending thereby Ibn’ Abbas رضی اللہ عنہما .
ہم سے ابراہیم بن حسن المصیصی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، مجھے ایک آدمی نے خبر دی، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» ( عالم ) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۔
Narrated Ghalib bin Abjar:
We faced a famine, and I had nothing from my property which I could feed my family ex except a few asses, and the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the flesh of domestic asses. So I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, we are suffering from famine, and I have no property which I feed my family except some fat asses, and you have forbidden the flesh of domestic asses. He said: Feed your family on the fat asses of yours, for I forbade them on account of the animal which feeds on the filth of the town, that is, the animal which feeds on filth. Abu Dawud said: This Abdur-Rahman is Ibn Maqil. Abu Dawud said: Suh'bah transmitted this tradition from Ubaid Abi al-Hasan, from Abdur-Rahman bin Maq'il, fromAbdur-Rahman bin Bishr, from some people of Muzainah stating that Abjar, the chief of Muzainah, or Ibn Abjar asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے عبداللہ بن ابی زیاد نے بیان کیا، ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے بنی اسرائیل نے، ان سے منصور نے، ان سے عبید ابو الحسن نے، انہوں نے عبدالرحمٰن سے, غالب بن ابجر کہتے ہیں
ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔
Muhammed bin Sulaiman narrated from Abu Nuaim, from Mis’ar, from Ibn Ubaid, from Ibn Maqil, from two men of Muzainah, one from the other, one of them is Abdullah bin Amr bin ‘Uwaim, and the other is Ghalib bin al-Abjar. Mis’ar said:
I think it was Ghalib who had come to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم with tradition.
ہم سے محمد بن سلیمان نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے اور عبید رضی اللہ عنہ سے, ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں,اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں
میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات ( قحط والے معاملے ) کو لے کر آئے تھے۔
Narrated Amr bin Shuaib from his father:
On the day of Khaybar the Messenger of Allah (ﷺ) forbade (eating) the flesh of domestic asses, and the animal which feeds on filth: riding it and eating its flesh.
ہم سے سہل بن بکر نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے، ابن طاؤس سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Abu Yafur said:
I heard Ibn Abi Awfa رضی اللہ عنہ say when I asked him about (eating) locusts: I went on six or seven expeditions along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and we ate them (locusts) along with him.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابویعفور کہتے ہیں
میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔
Narrated Salman al-Farsi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about (eating) locusts. He replied: They are the most numerous of Allah's hosts. I neither eat them nor declare them unlawful. Abu Dawood said: Al-Mu'tamir reported from his father, from Abu 'Uthman, from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم, without mentioning Salman رضی اللہ عنہ.
ہم سے محمد بن الفراج البغدادی نے بیان کیا، ہم سے ابن الزبیر نے بیان کیا، ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ابو عثمان النہدی کی سند سے, سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے ( یعنی مرسلاً روایت کی ہے ) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Salman through a different chain of narrators. This version goes: Salman said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was asked about locusts. He replied in a similar way (as mentioned above) saying: The most numerous of Allah’s host. The narrator Ali said: His name is Fa’id, that is the name of al-Awwam. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Hammad bin Salamah, from Abu al-Awwam from Abu uthman, from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He did not mention salman رضی اللہ عنہ (i.e., the companions).
ہم سے نصر بن علی اور علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے زکریا بن یحییٰ بن عمیرہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو العوام الجزار کی سند سے، انہوں نے ابو عثمان النہدی کی سند سے, سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ایسے ہی فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں ۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: What the sea throws up and is left by the tide you may eat, but what dies in the sea and floats you must not eat. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Sufyan al-Thawri, Ayyub and Hammad from Abu al-Zubair as the statement of Jabor himself (and not from the Prophet). It has been also transmitted direct from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم through a weak chain by Abu Dhi'b, from Abu al-Zubair on the authority if Jabir from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سلیم الطائفی نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن امیہ نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھاؤ، اور جو اس میں مر کر اوپر آ جائے تو اسے مت کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ۔