Khalid al-Hadhdha asked:
Al-Hasan about the Quranic verse: “Can lead (any) into temptation concerning Allah, except such as are (themselves) going to the blazing fire. ” He said: Except the one whom Allah destined that he should go to Hell.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا, خالد الخداء کہتے ہیں کہ
میں نے حسن بصری سے کہا «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» تو انہوں نے کہا: «إلا من هو صال الجحيم» کا مطلب ہے: سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کر دیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔
Humaid said:
Al-Hasan used to say that his fall from the heaven on the earth is dearer to him than uttering: The matter is in my hand.
ہم سے ہلال بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا,حمید کہتے ہیں کہ
حسن بصری کہتے تھے: آسمان سے زمین پر گر پڑنا اس بات سے مجھے زیادہ عزیز ہے کہ میں کہوں: معاملہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۔
Humaid said:
Al-Hasan came to us. The jurists of Makkah told me that I should speak to him that some day he should hold a meeting for them and preach to them. He said: Yes. So they gathered and he addressed them. I did not see anyone on orator greater than him. A man said: Abu Saeed, who created Satan? He replied: Glory be to Allah! Is there any creator other than Allah? Allah created Satan, and he created good and created evil. The man said: May Allah ruin them! How do they lie to this old man.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, حمید کہتے ہیں کہ
حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔
Humaid al-Tawil asked:
Al-Hasan about the verse: “Even so do We let it creep into the hearts of the sinners. ” He said: Polytheism
ہم سے ابن کثیر نے بیان کیا , ہم سے سفیان نے حمید الطویل کی سند سے بیان کیا
حسن بصری آیت کریمہ: «كذلك نسلكه في قلوب المجرمين» اسی طرح سے ہم اسے مجرموں کے دل میں ڈالتے ہیں ( سورۃ الحجر: ۱۱۲ ) کے سلسلہ میں کہتے ہیں: اس سے مراد شرک ہے۔
Narrator Ubaid As-Sayd:
Explaining the Quranic verse; “And between them and their desire is placed a barrier. ” Al-Hasan said: Between them and their faith.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا کہ ہم کو سفیان نے ایک شخص کے واسطہ سے خبر دی جس کا نام ابن کثیر کے علاوہ کسی اور نے رکھا تھا، سفیان سے اور عبید السید سے
حسن بصری آیت کریمہ: «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی ( سورۃ سبا: ۵۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی۔
Ibn Awn said:
I was a prisoner in Syria. A man called me from behind. I turned towards him and suddenly found that it was Raja bin Haiwah. He said: Abu Awn, what is this that the people are telling about al-Hasan? I said: They are much lying to al-Hasan.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے سلیم نے بیان کیا، ابن عون کہتے ہیں کہ
میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا: اے ابوعون! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں۔
Ayyub said:
Two kinds of people have lied to al-Hasan: people who believed in free will and they intended that they publicise their belief by it; and people who had enmity with and hostility (for al-Hasan), saying: Did he not say so and so? Did he not say so and so?
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا, ایوب کہتے ہیں
حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں: ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں: کیا یہ ان کا قول نہیں؟ کیا یہ ان کا قول نہیں؟
Yahya bin Kathir al-Anbari said:
Qurrah bin Khalid used to tell us: O young people! Do not think that al-Hasan denied predestination, for his opinion (i. e., belief) was sunnah and sight.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا, یحییٰ بن کثیر بن عنبری کہتے ہیں کہ
قرہ بن خالد ہم سے کہا کرتے تھے: اے نوجوانو! حسن کو قدریہ مت سمجھو، ان کی رائے سنت اور صواب تھی۔
Ibn Awn said:
If we learnt that the remark of al-Hasan would reach the extent that it has reached, we would write a book for his withdrawal and call witnesses to him; but we said: This is a remark that surprisingly came out (from him) and it will not be transmitted to others.
ہم سے ابن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے مومل بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا, ابن عون کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ
حسن کی بات ( غلط معنی کے ساتھ شہرت کے ) اس مقام کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی تو ہم لوگ ان کے اس قول کے بارے میں ان کے رجوع کی بابت ایک کتاب لکھتے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے، لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بات ہے جو نکل گئی ہے اور اس کے خلاف معنی پر محمول نہیں کی جائے گی ۔
Ayyub said:
Al-Hasan said: I will never return to it.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا, ایوب کہتے ہیں کہ
مجھ سے حسن بصری نے کہا: میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا، ( جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا ) ۔
Uthman said:
Al-Hasan never interpreted any Quranic verse but to establish (Divine decree).
ہلال ابن بشر نے ہمیں بتایا, عثمان ابن عثمان نے ہمیں بتایا, عثمان کہتے ہیں کہ
حسن نے جب بھی کسی آیت کی تفسیر کی تو تقدیر کا اثبات کیا۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
We used to say in the times of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: We do not compare anyone with Abu Bakr رضی اللہ عنہ. Umar رضی اللہ عنہ came next and then Uthman رضی اللہ عنہ. We then would leave (rest of) the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم without treating any as superior to other.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسود بن عامر نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was alive, we used to say: The most excellent member of the community of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم after himself is Abu Bakr, then Umar, then Uthman.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے انبسہ نے بیان کیا، ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ نے کہا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
Muhammad bin al-Hanafiyyah said:
I said to my father: Which of the people after the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم is best? He replied: Abu Bakr رضی اللہ عنہ. I then asked: Who comes next? He said: Umar. I was then afraid of asking him who came next, and he might mention Uthman رضی اللہ عنہ, so I said: You came next, O my father? He said: I am only a man among the Muslims.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے جامع بن ابی راشد نے بیان کیا، ہم سے ابو یعلیٰ نے بیان کیا, محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ
میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں ۔
Muhammad al-Firyabl said:
I heard Sufyan say: If anyone thinks that ‘Ali ( رضی اللہ عنہ) was more deserving for the Caliphate than both of them, he imputed error to Abu Bakr رضی اللہ عنہ, Umar رضی اللہ عنہ, the Muhajirun (Immigrants), and the Ansar (Helpers) Allah be pleased with all of them. I think that with this (belief) none of his action will rise to the heaven.
ہم سے محمد بن مسکین نے بیان کیا، ان سے محمد نے، یعنی الفریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے سفیان کو کہتے سنا: جو یہ کہے کہ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو خطاکار ٹھہرایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا۔
Sufyan al-Thawri said:
The Caliphs are five: Abu Bakr رضی اللہ عنہ, Umar رضی اللہ عنہ, Uthman رضی اللہ عنہ, ‘Ali رضی اللہ عنہ and Umar bin Abdul-Aziz.
ہم سے محمد بن فارس نے بیان کیا، ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ہم سے عباد السماک نے بیان کیا، انہوں نے کہا:سفیان ثوری کہا کرتے تھے
خلفاء پانچ ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: A man came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: I saw (in my dream) a piece of cloud from which ghee and honey were dropping. I saw the people spreading their hands. Some of them took much and some a little. I also saw a rope hanging from Heaven to Earth. I saw, Messenger of Allah, that you caught hold of it and ascended by it. Then another man caught hold of it and ascended it. Then another man caught hold of it and ascended it. Then another man caught hold of it, but it broke, and then it was joined and he ascended it. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said: May my parents be sacrificed for you, if you allow, I shall interpret it. He said: Interpret it. He said: The piece of cloud is the cloud of Islam; the ghee and honey that were dropping from it are the Quran, which contains softness and sweetness. Those who received much or little of it are those who learn much or little of the Quran. The rope hanging from Heaven to Earth is the truth which you are following. You catch hold of it and then Allah will raise you to Him. Then another man will catch hold of it and ascend it, Then another man will catch hold of it and it will break. But it will be joined and he will ascend it. Tell me. Messenger of Allah, whether I am right or wrong. He said: You are partly right and partly wrong. He said: I adjure you by Allah, you should tell me where I am wrong. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not take an oath.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسے محمد نے اپنی کتاب میں سے لکھا ہے، انہوں نے کہا: ہمیں معمر نے زہری کی سند سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر بیان کرو وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت ( شیرینی ) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں، اللہ آپ کو اٹھا لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دلاؤ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abbas رضی اللہ عنہما through a different chain of narrators. This version adds:
He refused to tell him (his mistake).
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن کثیر نے، زہری کی سند سے، عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے, اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے,لیکن اس میں یہ ہے کہ
آپ نے ان کو بتانے سے انکار کر دیا، ( کہ انہوں نے کیا غلطی کی ہے ) ۔
Narrated Abu Bakrah رضی اللہ عنہ :
One day the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Which of you had dream? A man said: It is I. I saw as though a scale descended from the sky. You and Abu Bakr were weighed and you were heavier; Abu Bakr and Umar were weighed and Abu Bakr was heavier: Umar and Uthman were weighed and Umar was heavier; than the scale was taken up. we saw signs of dislike on the face of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبداللہ الانصاری نے بیان کیا، ہم سے اشعث نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ایک شخص بولا: میں نے دیکھا: گویا ایک ترازو آسمان سے اترا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی۔
Abu Bakrah رضی اللہ عنہ said:
One day the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم asked: Which of you had a dream? He then mentioned the rest of the tradition to the same effect, but he did not mention the word “disliked”. Instead, he said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was grieved about that. He then said: There will be a caliphate on the model of prophecy, then Allah will give the kingdom to whom he wills.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے علی بن زید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اور چہرے پر ناگواری دیکھنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ( خواب ) برا لگا، اور فرمایا: وہ نبوت کی خلافت ہے، پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا سلطنت عطا کرے گا ۔