Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Last night a good man had a vision in which Abu Bakr seemed to be joined to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Umar to Abu Bakr, and Uthman to Umar. Jabir said: When we got up and left the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, we said: The good man is the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, and that their being joined together means that they are the rulers over this matter with which Allah has sent His Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Dawud said: It has been transmitted by Yunus and Shuaib, but they did not mention Amr bin Aban.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے الزبیدی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے عمرو بن ابان بن عثمان کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے ۔ جابر کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا: مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر ( دین ) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ told:
A man said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم! I saw (in a dream) that a bucket was hung from the sky. Abu Bakr came, caught hold of both ends of its wooden handle, and drank a little of it. Next came Umar who caught hold of both ends of its wooden handle and drank of it to his fill. Next came Uthman who caught hold of both ends of its handle and drank of it to his fill. Next came ‘All. He caught hold of both ends of its handle, but it became upset and some (water) from it was sprinkled on him.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن سلمہ نے اشعث بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد سے بیان کیا, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا، پھر عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، پھر عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا، پھر علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا۔
Makhul said:
The Romans will enter Syria and stay there for forty days, and no place will be saved from them but Damascus and 'Uman.
ہم سے علی بن سہل رملی نے بیان کیا، ہم سے ولید نے بیان کیا، ہم سے سعید بن عبدالعزیز نے بیان کیا،مکحول نے کہا
رومی شام میں چالیس دن تک لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے اور سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر بھی ان سے نہ بچے گا۔
Abu al-Ayas Abdur-Rahman bin Salam said:
A king of the foreigners will come and prevail over all the cities except Damascus.
ہم سے موسیٰ بن عامر المری نے بیان کیا، ہم سے ولید نے بیان کیا، عبدالعزیز بن العلاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو الأ عیس عبدالرحمٰن بن سلمان کو کہتے سنا کہ
عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا سوائے دمشق کے۔
Makhul reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The place of the assembly of Muslims at the time of war will be in a land called al-Ghutah.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے برد ابو العلاء نے بیان کیا،مکحول کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہ کہا جاتا ہے ۔
Awf said:
I heard al-Hajjaj addressing the people say: The similitude of Uthman with Allah is like the similitude of Jesus son of Mary. He then recited the following verse and explained it: “Behold! Allah said: O Jesus! I will take thee and raise thee to Myself and clear thee (of the falsehood) of those who blaspheme. ” He was making a sign with his hand to us and to the people of Syria.
ہم سے ابو ظفر عبدالسلام نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر نے بیان کیا, عوف کہتے ہیں کہ
میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں ( سورۃ آل عمران: ۵۵ ) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔
Al-Rabi bin Khalid al-Dabbi said:
I heard al-Hajjaj say in his address: Is the messenger of one of you sent for some need is more respectable with him or his successor among his people? I thought in my mind: I make a vow for Allah that I shall never pray behind you. If I find people who fight against you, I shall fight against you along with them. Ishaq added in his version: He fought in the battle of al-Jamajim until he was killed.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل الطالقانی نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا, ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے جریر نے مغیرہ کی سند سے بیان کیا، ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ
میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے ( پیغام لے جا رہا ) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔
Asim said:
I heard al-Hajjaj say on the pulpit: Fear Allah as much as possible; there is no exception in it. Hear and obey the Commander of the Faithful Abd al-Malik; there is no exception in it. I swear by Allah, if order people to come but from a certain gate of the mosque, and they come out from another gate, their blood and their properties will be lawful for me. I swear by Allah, if I seize the tribe of Rabiah for the tribe of Mudar, it is lawful for me from Allah. Who will apologies to me for the slave of Hudhail (i. e. Abdullah bin Masud) who thinks that his reading of the Quran is from Allah. I swear by Allah, it is a rhymed prose of the Bedouins. Allah did not reveal it to his Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Who will apologies to me for these clients (non-Arab). One of them thinks that he will throw a stone and when it falls (on the ground) he says: Something new has happened. I swear by Allah, I shall leave them (ruined and perished) like the day that passes away. He said: I mentioned it to al-Amash. He said: I swear by Allah, I heard it from him.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، عاصم کہتے ہیں کہ
میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل ( عبداللہ بن مسعود ہذلی ) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ ( فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے ) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا ( جو اب کبھی نہیں آنے والا ) ۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔
Al-Amash said:
These clients (i.e. non-Arabs) are to be struck and cut off. I swear by Allah, if I strike a stick with a stick, I would annihilate them like the day that passed away. Al-hamra means clients or non-Arabs.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا, اعمش کہتے ہیں کہ
میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: یہ گورے ( عجمی ) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ، موالی ( غلامو ) سنو، اللہ کی قسم، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا، یعنی عجمیوں کو۔
Sulaiman al-Amash said:
I prayed the Friday prayer with al-Hajjaj and he addressed. He then transmitted the tradition of Abu Bakr bin Ayyash. He said in it: Hear and obey the caliph of Allah and his select Abd al-Malik bin Marwan. He then transmitted the rest of the tradition, and said: If I seized Rabiah for Mudar. But he did not mention the story of the clients (i.e. non Arabs).
ہم سے قطن بن نسیر نے بیان کیا، ہم سے جعفر نے بیان کیا، ہم سے ابن سلیمان نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن سلیمان نے شریک کی سند سے بیان کیا, سلیمان الاعمش کہتے ہیں
میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، اس نے خطبہ دیا، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت ( ۴۶۴۳ ) ذکر کی، اس میں ہے کہ اس نے کہا: سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا: اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں ( تو یہ غلط نہ ہو گا ) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated Safinah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Caliphate of Prophecy will last thirty years; then Allah will give the Kingdom of His Kingdom to anyone He wills. Saeed told that Safinah said to him: Calculate Abu Bakr رضی اللہ عنہ caliphate as two years, Umar رضی اللہ عنہ as ten, Uthman رضی اللہ عنہ as twelve and Ali رضی اللہ عنہ so and so. Saeed said: I said to Safinah رضی اللہ عنہ : They conceive that Ali رضی اللہ عنہ was not a caliph. He replied: The buttocks of Marwan told a lie.
ہم سے سوار بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، وہ سعید بن جمحان رضی اللہ عنہ سے, سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال رہے گی، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا دے گا سعید کہتے ہیں: سفینہ نے مجھ سے کہا: اب تم شمار کر لو: ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال، عمر رضی اللہ عنہ دس سال، عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال، اور علی رضی اللہ عنہ اتنے سال۔ سعید کہتے ہیں: میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ ( مروانی ) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے، انہوں نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنی مروان کے چوتڑ جھوٹ بولتے ہیں۔
Safinah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The caliphate of Prophecy will last thirty years; then Allah will give the Kingdom to whom he wishes; or his kingdom to whom he wishes.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے بیان کیا، وہ العوام بن حوشب کی سند سے، وہ سعید بن جمحان کی سند سے, سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا، دے گا ۔
Narrated Abdullah bin Zalim al-Mazini said:
I heard Saeed bin Zayd ibn Amr bin Nufayl رضی اللہ عنہ say: When so and so came to Kufah, and made so and so stand to address the people, Saeed ibn Zayd caught hold of my hand and said: Are you seeing this tyrant? I bear witness to the nine people that they will go to Paradise. If I testify to the tenth too, I shall not be sinful. I asked: Who are the nine? He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said when he was on Hira': Be still, Hira', for only a Prophet, or an ever-truthful, or a martyr is on you. I asked: Who are those nine? He said: The Messenger of Allah, Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, Talhah, az-Zubayr, Saad ibn Abu Waqqas and Abdur Rahman ibn Awf. I asked: Who is the tenth? He paused a moment and said: it is I. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Ashjai, from Sufyan, from Mansur, from Hilal bin Yasaf, from Ibn Hayyan on the authority of Abdullah bin Zalim through his different chain of narrators in a a similar manner.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے ابن ادریس سے، ہمیں حصین نے ہلال بن یساف سے، عبداللہ بن ثلیم اور سفیان سے، منصور سے، ہلال بن یساف سے, عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ
میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم اس ظالم کو نہیں دیکھتے پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص ( کے جنت میں داخل ہونے ) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، ( ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے ) «آثم» کہتے ہیں ) ، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء ( پہاڑی ) پر تھے: حراء ٹھہر جا ( مت ہل ) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdur Rahman bin al-Akhnas said:
When he was in the mosque, a man mentioned Ali (رضی اللہ عنہ). So Saeed bin Zayd رضی اللہ عنہ got up and said: I bear witness to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم that I heard him say: Ten persons will go to Paradise: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم will go to Paradise, Abu Bakr will go to Paradise, Umar will go to Paradise, Uthman will go to Paradise, Ali will go to Paradise, Talhah will go to Paradise: az-Zubayr ibn al-Awwam will go to paradise, Saad bin Malik will go to Paradise, and Abdur Rahman bin Awf will go to Paradise. If I wish, I can mention the tenth. The People asked: Who is he: So he kept silence. The again asked: Who is he: He replied: He is Saeed bin Zayd.
ہم سے حفص بن عمر النمری نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، حر بن الصیاح کی سند سے, عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ
وہ مسجد میں تھے، ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کا ( برائی کے ساتھ ) تذکرہ کیا، تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: دس لوگ جنتی ہیں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر بن عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں اور اگر میں چاہتا تو دسویں کا نام لیتا، وہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ تو وہ خاموش رہے، لوگوں نے پھر پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو کہا: وہ سعید بن زید ہیں۔
Rabah bin al-Harith said:
I was sitting with someone in the mosque of Kufah while the people of Kufah were with him. Then Saeed bin Zayd bin Amr bin Nufayl came and he welcomed him, greeted him, and seated him near his foot on the throne. Then a man of the inhabitants of Kufah, called Qays bin Alqamah, came. He received him and began to abuse him. Saeed asked: Whom is this man abusing? He replied: He is abusing Ali رضی اللہ عنہ . He said: Don't I see that the companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم are being abused, but you neither stop it nor do anything about it? I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say--and I need not say for him anything which he did not say, and then he would ask me tomorrow when I see him --Abu Bakr رضی اللہ عنہ will go to Paradise and Umar will go to Paradise. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect (as in No. 4632). He then said: The company of one of their man whose face has been covered with dust by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم is better than the actions of one of you for a whole life time even if he is granted the life-span of Noah.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے صدقہ بن المثنیٰ النخعی نے بیان کیا, ریاح بن حارث کہتے ہیں
میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص ۱؎ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا، اور دعا دی، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا، لیکن اس نے برا بھلا کہا اور سب وشتم کیا، سعید بولے: یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے، وہ بولے: کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا، پھر ان ( صحابہ ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ascended Uhud, and Abu Bakr, Umar and Uthman followed him. It began to shake with them. The prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم struck it with his foot and said: Be still, for only a prophet, an ever-truthful and two martyrs are on you.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا, ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ المعنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا: ٹھہر جا اے احد! ( تیرے اوپر ) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Gabriel came and taking me by the hand showed the gate of Paradise by which my people will enter. Abu Bakr رضی اللہ عنہ then said: Messenger of Allah! I wish I had been with you so that I might have looked at it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: You, Abu Bakr, will be the first of my people to enter Paradise.
ہم سے ہناد بن ساری نے عبدالرحمٰن بن محمد المحربی کی سند سے، عبدالسلام بن حرب سے، ابو خالد الدلانی سے، ابو خالد سے جو خاندان جدہ کے مؤکل تھے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اے ابوبکر! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No one of those who took the oath of allegiance under the tree will go to hell.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور یزید بن خالد رملی نے بیان کیا کہ ان سے لیث نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے ) ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying – will be according to the version of Musa: Perhaps Allah, and Ibn Sinan’s version has: Allah looked at the participants of the battle of Badr (with mercy) and said: Do whatever you wish; I have forgiven you.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا, ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں حماد بن سلمہ نے عاصم کی سند سے، وہ ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( موسیٰ کی روایت میں «فلعل الله» کا لفظ ہے، اور ابن سنان کی روایت میں «اطلع الله» ہے ) اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا: جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۔
Al-Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہما said:
The prophet صلی اللہ علیہ وسلم went out during the time of (treaty of) al-Hudaibiyyah. He then mentioned the rest of the tradition. He said: Urwah bin Masud then came to him and began to speak to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Whenever he talk to him, he caught his beard ; and al-Mughirah bin Shubah was standing near the head of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم with a sword with him and a helmet on him. He then struck his hand with the handle of the sword, saying: Keep away your hand from his beard. Urwah then raised his head and said: Who is this ? The prophet said: Al-Mughirah bin Shubah.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا کہ ان سے محمد بن ثور نے معمر کی سند سے، زہری کی سند سے، عروہ بن زبیر کی سند سے, مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔