Al-Hajjaj bin Al-Minhal said:
Explaining the tradition “Every child is a born on Islam”, Hammad bin Salamah said: In our opinion it means that covenant which Allah had taken in the loins of their fathers when He said: “Am I not your Lord? They said: Yes.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا,حجاج بن منہال کہتے کہ
میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: «ألست بربكم قالوا بلى» کیا میں تمہارا رب ( معبود ) نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا تھا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
Amir reported the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The woman who buries alive her new-born girl and the girl who is buried alive both will go to Hell. This tradition has also been transmitted by Ibn Masud from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect through a different chain of narrators.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وائدہ» ( زندہ درگور کرنے والی ) اور «مؤودہ» ( زندہ درگور کی گئی دونوں ) جہنم میں ہیں ۱؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
A man asked: where is my father, Messenger of Allah? He replied! Your father is in Hell. When he turned his back, he said: My father and your father are in Hell.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد جہنم میں ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: The devil flows in a man like his blood.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ابن آدم ( انسان ) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے ۔
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not sit with those who believe in free will and do not address them before they address you.
ہم سے احمد بن سعید ہمدانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابن لحیہ، عمرو بن حارث اور سعید بن ابی ایوب نے عطاء بن دینار کی سند سے اور حکیم بن شریک الحلیث کی سند سے,یحییٰ بن میمون کی سند سے، ربیعہ الجراشی کی سند سے، ابو ہریرہ کی سند سے،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے بات چیت میں پہل کرو ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as sayings: People will continue to ask one another (questions) till this is pronounced: Allah created all things, but who created Allah ? Whoever comes across anything of that, he should say: I believe in Allah.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ ہشام سے اور اپنے والد سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him. Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan.
ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ یعنی ابن الفضل نے، کہا ہم کو محمد نے، ان سے ابن اسحاق نے، کہا مجھ سے بنو تیم کے آزاد ہونے والے عتبہ بن مسلم نے بیان کیا، مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
Narrated Al-Abbas bin Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ :
I was sitting in al-Batha with a company among whom the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was sitting, when a cloud passed above them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم looked at it and said: What do you call this? They said: Sahab. He said: And muzn? They said: And muzn. He said: And anan? They said: And anan. Abu Dawud said: I am not quite confident about the word anan. He asked: Do you know the distance between Heaven and Earth? They replied: We do not know. He then said: The distance between them is seventy-one, seventy-two, or seventy-three years. The heaven which is above it is at a similar distance (going on till he counted seven heavens). Above the seventh heaven there is a sea, the distance between whose surface and bottom is like that between one heaven and the next. Above that there are eight mountain goats the distance between whose hoofs and haunches is like the distance between one heaven and the next. Then Allah, the Blessed and the Exalted, is above that.
ہم سے محمد بن صباح البزاز نے بیان کیا، کہا ہم کو ولید بن ابی ثور نے سماک کی سند سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عمیرہ نے احنف بن قیس کی سند سے,عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: تم اسے کیا نام دیتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: «سحاب» ( بادل ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «مزن» بھی لوگوں نے کہا: ہاں «مزن» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «عنان» بھی لوگوں نے عرض کیا: اور «عنان» بھی، ( ابوداؤد کہتے ہیں: «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Simak through a different chain of narrators to the same effect.
ہم سے احمد بن ابی سریج نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد اور محمد بن سعید کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمرو بن ابی قیس نے اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
The tradition mentioned above has again been transmitted by Simak through a different chain of narrators and to the same effect as this lengthy tradition.
ہم سے احمد بن حفص نے بیان کیا : مجھ سے میرے والد نے بیان کیا : ہم سے ابراہیم بن طہمان نے سماک کی سند سے بیان کیا ۔ اس طویل حدیث کا مفہوم یہ ہے.
Muhammad bin Jubair bin Mutim رضی اللہ عنہ said from his father on the authority of his grandfather:
An A’rab (a nomadic Arab) came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: People suffering distress, the children are hungry, the crops are withered, and the animals are perished, so ask Allah to grant us rain, for we seek you as our intercessor with Allah, and Allah as intercessor with you. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Woe to you: Do you know what you are saying? Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم declared Allah’s glory and he continued declaring His glory till the effect of that was apparent in the faces of his Companions. He then said: Woe to you: Allah is not to be sought as intercessor with anyone. Allah’s state is greater than that. Woe to you! Do you know how great Allah is? His throne is above the heavens thus (indicating with his fingers like a dome over him), and it groans on account of Him as a saddle does because of the rider. Ibn Bashshar said in his version: Allah is above the throne, and the throne is above the heavens. He then mentioned the rest of the tradition. Abdul-A’la, Ibn al- Muthana and Ibn Bashshar transmitted it from Ya’qub bin ‘Utbah and Jubair bin Muhammad bin Jubair from his father on the authority of his grandfather. Abu Dawud said: This tradition with the chain of Ahmad bin Saad is sound. It has been approved by the body (of traditionists), which includes Yahya bin Ma’in and Ali bin al-Madani, and a group has transmitted it from Ibn Ishaq, as Ahmad also said. And so far as I have been informed Abdul-A’la, Ibn al-Muthanna, and Ibn Bashshar had heard from the same copy (of the collection of tradition).
ہم سے عبد الاعلی بن حماد، محمد بن المثنی، اور احمد بن سعید رباطی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں وہب بن جریر نے خبر دی ہے۔ احمد نے کہا: ہم نے اسے اس کی نقل سے لکھا ہے اور یہ اس کا لفظ ہے۔ اس نے کہا: میرے والد نے ہم سے بیان کیا, جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جا سکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ( آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا ) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے ) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: I have been permitted to tell about one of Allah’s angels who bears the throne that the distance between the lobe of his ear and his shoulder is a journey of seven hundred years.
ہم سے احمد بن حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، وہ محمد بن المنکر سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۔
Abu Yunus Sulaim bin Jubair, client of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, said:
I heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ recite this verse: “Allah doth command you to render back your trusts to those to whom they are due” up to “For Allah is he who heareth and seeth all things”. He said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم putting his thumb on his ear and finger on his eye. Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم reciting this verse and putting his fingers. Ibn Yunus said that al-Muqri said. “Allah hears and sees” means that Allah has the power of hearing and seeing. Abu Dawud said: This is a refutation of the Jahmiyyah.
ہم سے علی بن نصر اور محمد بن یونس نسائی نے بھی یہی مطلب بیان کیا, انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن یزید مقری نے خبر دی ہے,حرملہ یعنی ابن عمران نے ہمیں خبر دی۔ مجھ سے ابو یونس سلیم بن جبیر نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔ ۔ ۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے ( سورۃ النساء: ۵۸ ) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، ( یعنی شہادت کی انگلی کو ) ، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی«إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا رد ہے ۔
Jarir bin Abdullah رضی اللہ عنہ said:
When we are were sitting with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he looked at the moon on the night when it was full, that is, fourteenth, and said: You will see your Lord as you see this (moon) and have no doubts about seeing him. If, therefore, you can keep from being prevented from prayer before the sun rises and before it sets, do so. He then recited: ”Celebrate the praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting”.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہیں جریر، وکیع نے، اور انہیں ابو اسامہ نے، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے، وہ قیس بن ابی حازم کی سند سے, جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی زحمت نہ ہو گی، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو پھر آپ نے یہ آیت «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» اور اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے ( سورۃ طہٰ: ۱۳۰ ) پڑھی ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The people asked: Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied: Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked: Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them.
ہم سے اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے ان سے روایت کرتے ہوئے سنا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۔
Narrated Abu Razin al-Uqayli رضی اللہ عنہ :
I asked: Messenger of Allah! will each one of us see his Lord? Ibn Muadh's version has: being alone with Him, on the Day of Resurrection? And what sign is there is His creation? He replied: Abu Razin! does each one of you not see the moon? Ibn Muadh's version has: on the night when it is full, being alone with it? Then the agreed version goes: I said: Yes. He said: Allah is more great. Ibn Muadh's version has: It is only part of Allah's creation, but Allah is more glorious and greater.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں حماد نے خبر دی۔ ہمیں ح اور عبیداللہ بن معاذ نے خبر دی، ہمیں میرے والد نے خبر دی، ہمیں شعبہ المعنا نے خبر دی، انہیں یعلیٰ بن عطاء نے وکیع کی سند سے، موسیٰ نے کہا: ابن اداس رضی اللہ عنہ نے,ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو ( قیامت کے دن ) بلا رکاوٹ دیکھے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابورزین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah will fold the heavens an the day of Resurrection, then seizing them in His right hand he will say: I am the king. Where are the mighty men? Where are the proud men? He will then fold the earths and take them in his other hand (According to the version of Ibn al-Ala), and then say; I am the King. Where are the mighty men? Where are the proud men?
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن الاعلٰی نے بیان کیا کہ انہیں ابو اسامہ نے عمر بن حمزہ کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا: سالم نے کہا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟ ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying; Our lord gets down every night to the heaven of this world when a third night remains and says: (Is there anyone) who prays to Me so that I may accept his prayer? (Is there anyone) who asks of Me so that I may give him? (Is there anyone) who asks for my forgiveness so that I may forgive him?
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے اور ابو عبداللہ الاثر کی سند سے بیان کیا ہے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم presented himself to the people at Arafat, saying: Is there any man who takes me to his people? The Quraysh have prevented me from preaching the word of my Lord.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن مغیرہ نے بیان کیا، سالم کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو موقف ( عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
I thought in my mind that my affair was far inferior to the speaking of Allah about me with a command that will be recited.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، مجھے یونس بن یزید نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، اور انہیں سعید بن المسیب نے خبر دی، اور انہیں سعید بن المسیب نے اور اعلقمۃ بن وقاص نے, عبداللہ نے مجھے اطلاع دی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎۔