Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Injunctions about Witr
كتاب الوتر
Chapter 8
Uqbah bin Amir al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
When we were in the Suffah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked: Which of you would like to go out every morning to Buthan or Al-'Aqiq and bring two large humped and fat she-camels without being guilty of sin and severing ties of relationship ? They (the people) said: Messenger of Allah, we would all like that. He said: If any one of you goes out in the morning to the mosque and learns two verses of the Book of Allah, the Exalted, it is better for him than two she-camels, and three verses are better for him than three she-camels, and so on than their numbers in camels.
ہم سے سلیمان بن داؤد المہری نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن علی بن رباح نے اپنے والد سے بیان کیا, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ ( چبوترے ) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: All praise be to Allah, the Lord of the Universe (1) is the epitome or basis of the Quran, the epitome or basis of the Book, and the seven oft-repeated verses.
ہم سے احمد بن ابی شعیب حرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی ذہب نے مقبری کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ہے۔
Abu Saeed bin al-Mu'alla رضی اللہ عنہ said:
When he was praying the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed by him and he called him. He said: I prayed ant then I came to him. He asked: What prevented you from answering me ? He replied: I was praying. He said: Has not Allah said: O you who believe, respond to Allah and the Messenger when he calls you to that which gives you life ? (8: 24) Let me teach you the greatest surah from the Quran or in the Quran (the narrator Khalid doubted) before I leave the mosque. I said: (I shall memorize) your saying. He said: It is: Praise be to Allah, the Lord of the Universe which is the seven oft-repeated verses, and the mighty Quran.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے حفص بن عاصم کو بیان کرتے ہوئے سنا, ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں ( نماز پڑھ کر ) آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ ، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے ) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was given seven repeated long surahs, while Moses was given six, When he threw the tablets, two of them were withdrawn and four remained.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، مسلم البطین کی سند سے، وہ سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں ( جن پر تورات لکھی ہوئی تھی ) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
Ubayy bin Kab said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Abu al-Mundhir, which verse of Allah's Book that you have is creates ? I replied: Allah and His Messenger know best. He said: Abu al-Mundhir, which verse of Allah's that you have is greatest ? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on the beast and said: May knowledge be pleasant for you, Abu al-Mundhir.
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، ہم سے سعید بن ایاس نے بیان کیا، ان سے ابو السلیل نے، وہ عبداللہ بن رباح الانصاری کی سند سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ہے؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ ، میں نے عرض کیا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو ۔
Abu Saeed al-Khudri said:
A man heard another man reciting Say, He is Allah, One He was repeating it. When the next morning came, he went to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned to him. The man tool it (this surah) as a small one. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: By Him in Whose Hand is my life, it is equivalent to a third of the Quran.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، عبدالرحمٰن بن عبد اللہ بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے دوسرے شخص کو «قل هو الله أحد» باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ ( سورۃ ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے.
Narrated Uqbah Ibn Amir:
I was driving the she-camel of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم during a journey. He said to me: Uqbah, should I not teach you two best surahs ever recited? He then taught me: Say, I seek refuge in the Lord of the dawn, and Say, I seek refuge in the Lord of men. He did not see me much pleased (by these two surahs). When he alighted for prayer, he led the people in the morning prayer and recited them in prayer. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he turned to me and said: O Uqbah, how did you see.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معاویہ نے بیان کیا، وہ علاء بن حارث کی سند سے، انہوں نے معاویہ کے آزاد کردہ غلام القاسم کی سند سے,عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں ( کے سیکھنے ) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے ( سواری سے ) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
White I was travelling with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم between al-Juhfah and al-Abwa', a wind and intense darkness enveloped us, whereupon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم began to seek refuge in Allah, reciting: I seek refuge in the Lord of the dawn, and I seek refuge in the Lord of men. He then said: Uqbah, use them when seeking refuge in Allah, for no one can use anything to compare with them for the purpose. Uqbah added: I heard him reciting them when he led the people in prayer.
ہم سے عبداللہ بن محمد النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، وہ سعید بن ابی سعید المقبری سے اپنے والد سے, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی ۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: One who was devoted to the Quran will be told to recite, ascend and recite carefully as he recited carefully when he was in the world, for he will reach his abode when he comes to the last verse he recites.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ سفیان کے واسطہ سے، مجھ سے عاصم بن بہدلہ نے، زر کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ( حافظ قرآن یا ناظرہ خواں ) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۔
Qatadah said:
I asked Anas رضی اللہ عنہ about the recitation of the Quran by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم . He said: He used to express all the long accents clearly.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, قتادہ کہتے ہیں کہ
میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔
Narrated Yala Ibn Mumallak said:
He asked Umm Salamah رضی اللہ عنہا about the recitation and prayer of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. She said: What have you to do with his prayer? He would pray, then sleep as long as he had prayed, till morning. She then described his recitation and did so with an exposition word by word.
ہم سے یزید بن خالد بن موحب رملی نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ابن ابی ملیکہ کی سند سے, یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، پھر ام سلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔
Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ said:
On the day of the Conquest of Makkah I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم riding his she-camel reciting Surah al-Fath repeating each verse several times.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور ( ایک ایک آیت ) کئی بار دہرا رہے تھے۔
Narrated Al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Beautify the Quran with your voices.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش سے، انہوں نے طلحہ کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن عوسجہ سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ۔
Narrated Saad Ibn Abu Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He who does not chant the Quran is not one of us.
ابو الولید طیالسی، قتیبہ بن سعید اور یزید بن خالد بن موحب الرملی نے ہم سے اسی معنی میں بیان کیا ہے کہ لیث نے ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ کی سند سے اور عبداللہ بن ابی نہیک کی روایت سے, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ ۔
This tradition has also been transmitted by Saad (bin Abi Waqqas) رضی اللہ عنہ from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in a similar manner through a different chain of narrators.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے عمرو کی سند سے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، اور ان سے عبید اللہ بن ابی نہیک نے بیان کیا, اس سند سے بھی سعد رضی اللہ عنہ سےاسی کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Narrated Ubaydullah Ibn Yazid said:
AbuLubabah رضی اللہ عنہ passed by us and we followed him till he entered his house, and we also entered it. There was a man in a rusty house and in shabby condition. I heard him say: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: He is not one of us who does not chant the Quran. I (the narrator AbdulJabbar) said to Ibn Abu Mulaykah: Abu Muhammad, what do you think if a person does not have pleasant voice? He said: He should recite with pleasant voice as much as possible.
ہم سے عبد الاعلٰی بن حماد نے بیان کیا، ہم سے عبدالجبار بن ورد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی ملیکہ کو کہتے سنا, عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں
ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
Waki and Ibn Uyainah said (explaining the meaning of taghanni):
This means that the Quran makes a man neglect all other things, and be content with it.
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ
اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ ( دیگر کتب یا ادیان سے ) بے نیاز ہو جائے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah has not listened to anything as He does to a Prophet chanting the Quran with a loud voice.
ہم سے سلیمان بن داؤد مہری نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عمر بن مالک اور حیوہ نے بیان کیا، ان سے ابن الہدی نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث نے، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔
Narrated Saad Ibn Ubadah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No man recites the Quran, then forgets it, but will meet Allah on the Day of Judgment in a maimed condition (or empty-handed, or with no excuse).
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی زیاد کی سند سے، وہ عیسیٰ بن فاید سے, سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ہو کر ملے گا ۔
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ said:
I heard Hisham bin Hakim (bin Hizam رضی اللہ عنہ ) reciting Surah al-Furqan in a different manner from my way of reciting, and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had taught me to recite it. I nearly spoke sharply to him, but I delayed till he had finished. Then I caught his cloak at the neck, and I brought him to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم . I said: Messenger of Allah, I heard this man reciting Surah al-Furqan in a manner different from that in which you taught me to recite it. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم the told him to recite it. He then recited in the manner I heard him recite. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Thus was it sent down. He then said to me: Recite, I recited (it). He then said: Thus was it sent down. He said: The Quran was sent down in seven modes of reading, so recite according to what comes most easily.
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ بن زبیر کی سند سے، عبدالرحمٰن بن عبد القاری کی سند سے، انہوں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے فرمایا: تم پڑھو ، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو ، میں نے بھی پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر فرمایا: قرآن مجید سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ ۔