Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Injunctions about Witr
كتاب الوتر
Chapter 8
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
We counted that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would say a hundred times during a meeting: My Lord, forgive me and pardon me; Thou art the Pardoning and forgiving One .
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے، مالک بن مغول سے، محمد بن صقہ سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔
Narrated Zayd رضی اللہ عنہ , the client of the Prophet:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone says: I ask pardon of Allah than Whom there is no deity, the Living, the eternal, and I turn to Him in repentance, he will be pardoned, even if he has fled in time of battle.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن عمر بن مرہ الشنی نے بیان کیا، ان سے ابو عمر بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے بلال بن یساررضی اللہ عنہ کو سنا, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے«أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone continually asks pardon, Allah will appoint for him a way out of every distress, and a relief from every anxiety, and will provide for him from where he did not reckon.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے الحکم بن مصعب نے بیان کیا، ان سے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کر لے تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
Qatadah asked Anas رضی اللہ عنہ :
Which Supplication would the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم often make ? He replied: The supplication he would usually recite was: O Allah, give us in this world what is good and in the next what is good, and protect us from the punishment of Hell-fire . The version of Ziyad adds: When Anas wished to supplicate, he uttered this supplication. When he uttered some other supplication, he combined it with this supplication.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا, ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل المعنی نے بیان کیا،عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کر لیتے۔
Suhail bin Hunaif رضی اللہ عنہ reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone asks Allah for martyrdom sincerely, Allah make him reach the ranks of martyrs though he may die on his bed.
ہم سے یزید بن خالد رملی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن شریح نے بیان کیا، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔
Narrated Abu Bakr as-Siddiq: Asma bint al-Hakam said:
I heard Ali رضی اللہ عنہ say: I was a man; when I heard a tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, Allah benefited me with it as much as He willed. But when some one of his companions narrated a tradition to me I adjured him. When he took an oath, I testified him. Abu Bakr رضی اللہ عنہ narrated to me a tradition, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ narrated truthfully. He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saying: When a servant (of Allah) commits a sin, and he performs ablution well, and then stands and prays two rak'ahs, and asks pardon of Allah, Allah pardons him. He then recited this verse: And those who, when they commit indecency or wrong their souls, remember Allah (iii. 134).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن مغیرہ ثقفی نے علی بن ربیعہ الاسدی کی سند سے, اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا، مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی«والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله *** إلى آخر الآية» ۱؎ جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ ۔ ۔ آیت کے اخیر تک ۔
Muadh bin Jabal رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم caught his hand and said: By Allah, I love you, Muadh. I give some instruction to you. Never leave to recite this supplication after every (prescribed) prayer: O Allah, help me in remembering You, in giving You thanks, and worshipping You well. Muadh رضی اللہ عنہ willed this supplication to the narrator al-Sunabihi and al-Sunabihi to Abu Abdur-Rahman.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا، ہم سے حیوۃ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن مسلمہ کو کہتے سنا: مجھ سے ابوعبدالرحمٰن حبلی نے بیان کیا، انہوں نے صنعا کی روایت سے کہا, معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔
Narrated Uqbah Ibn Amir رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded me to recite Muawwidhatan (the last two surahs of the Quran) after every prayer.
ہم سے محمد بن سلمہ مرادی نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے لیث بن سعد کی سند سے بیان کیا، ان سے حنین بن ابی حکیم نے علی بن رباح لخمی کی سند سے بیان کیا, عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم liked to supplicate three times and to ask pardon (of Allah) three times.
ہم سے احمد بن علی بن سوید السدوسی نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد نے اسرائیل کی سند سے، ابواسحاق سے عمرو بن میمون کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
Narrated Asma daughter of Umays رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: May I not teach you phrases which you utter in distress? (These are: ) Allah, Allah is my Lord, I do not associate anything as partner with Him. Abu Dawud said: The narrator Hilal is a client of Umar bin Abdul-Aziz. The name of Jafar, a narrator, is Abdullah bin Jafar.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز بن عمر نے، ہلال کی سند سے، عمر بن عبدالعزیز سے، ابن جعفر کی سند سے, اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو «الله الله ربي لا أشرك به شيئًا» یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہلال، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔
Narrated Abu Musa al-Ashari رضی اللہ عنہ :
Once we accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on a journey. When we reached near Madina, the people began to say aloud: Allah is most great, and they raised their voice. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: O people, you are not supplicating one who is deaf and absent, but you are supplicating One Who is nearer to you than the neck of your riding beast. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then said: Abu Musa, should I not point out to you one of the treasures of Paradise? I asked: What is that? He replied: There is no might and there is no power except in Allah.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ثابت، علی بن زید اور سعید الجریری نے ابو عثمان النہدی کی سند سے, ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ ، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
Abu Musa Al-Ashari رضی اللہ عنہ said:
They (the Companions) accompanied the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم while they were climbing the turning of a hill. A man uttered loudly: There is no god but Allah, and Allah is most great when he ascended the hill. The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You are not supplicating one who is deaf or absent. He then said: Abdullah bin Qais. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ابو عثمان رضی اللہ عنہ سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے، ایک شخص تھا، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو «لا إله إلا الله والله أكبر» پکارتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Musa al-Ashari رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. This version adds:
The prophet ﷺ said: Be lenient to yourselves, O people.
ہم سے ابوصالح محبوب بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق الفزاری نے بیان کیا، عاصم کی سند سے، ابو عثمان کی سند سے, اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو ۔
Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone says I am pleased with Allah as Lord, with Islam as religion and with Muhammad صلی اللہ علیہ وسلم as Messenger Paradise will be his due.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے ابو الحسین زید بن الحباب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن شریح اسکندرانی نے بیان کیا، مجھ سے ابو ہانی الخولانی نے بیان کیا کہ میں نے ابو علی الجنبی رضی اللہ عنہ سے سنا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا تو جنت اس کے لیے واجب گئی ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone invokes blessings on me once, Allah will bless him ten times.
ہم سے سلیمان بن داؤد عتکی نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے علاء بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر ایک بار درود ( صلاۃ ) بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا ۔
Aws bin Was رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Among the most excellent of your days in Friday ; so invoke many blessings on me on that day, for your blessing will be submitted to me. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, how can our blessing be submitted to you, when your body is decayed ? He said: Allah has prohibited the earth from consuming the bodies of Prophets.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی الجعفی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے، وہ ابو اشعث الصنعانی کی سند سے, اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے تو ہمارے درود ( صلاۃ ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Do not invoke curse on yourselves, and do not invoke curse on your children, and do not invoke curse on your servants, and do not invoke curse on your property, lest you happen to do it at a time when Allah is asked for something and grants your request. Abu Dawud said: This Hadith has a continuous chain of narrators, Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah (did) met Jabir.
ہم سے ہشام بن عمار، یحییٰ بن الفضل اور سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن مجاہد ابو حضرہ نے عبادہ بن ولید بن عبادہ کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما :
A woman said to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم : Invoke blessing on me as well as on my husband. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah send blessing on you and your husband.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے نبیح العنزی کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلى الله عليك وعلى زوجك» اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے ۔
Abu Al-Darda رضی اللہ عنہا said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: When a Muslim supplicates for his absent brother the angels say: Amin, and may you receive the like.
ہم سے راجہ بن المرجہ نے بیان کیا، ہم سے نضر بن شمائل نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن ثروان نے بیان کیا، مجھ سے طلحہ بن عبید اللہ بن کریز نے بیان کیا,ام الدرادء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں, مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے ( غائبانہ ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The supplication which gets the quickest answer is that made by one distant Muslim for another.
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن زیاد نے بیان کیا، ابوعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے ۔