Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Injunctions about Witr
كتاب الوتر
Chapter 8
Asma daughter of Yazid رضی اللہ عنہا reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Allah's Greatest Names is in these two verses: And your Ilaah (God) is One Ilaah (God), none has the right to be worshipped but He, the Ever-Merciful, the Mercy-Giving' and the beginning of Surah Al Imran, A. L. M Allah, there is no deity but He, the Living, the Eternal.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن ابی زیاد نے بیان کیا، وہ شہر بن حوشب کی سند سے, اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا اسم اعظم ( عظیم نام ) ان دونوں آیتوں«وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» میں ہے ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The quilt of Aishah رضی اللہ عنہا was stolen. She began to curse the person who had stolen it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم began to tell her: Do not lighten him. Abu Dawud said: The meaning of the Arabic words la tasbikhi 'anhu means do not lessen him or lighten him .
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، وہ عطاء کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔
Narrated Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ :
I sought permission of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to perform Umrah. He gave me permission and said: My younger brother, do not forget me in your supplication. He (Umar) said: He told me a word that pleased me so much so that I would not have been pleased if I were given the whole world. The narrator Shubah said: I then met Asim at Madina. He narrated to me this tradition and reported the wordings: My younger brother, share me in your supplication.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے، عاصم بن عبید اللہ سے، سلیم بن عبداللہ سے اپنے والد سے, عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ ( راوی حدیث ) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔
Narrated Saad Ibn Abu Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed by me while I was supplicating by pointing with two fingers of mine. He said: Point with one finger; point with one finger. He then himself pointed with the forefinger.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سےاعمش نے بیان کیا، وہ ابو صالح کی سند سے,سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
Narrated Saad Ibn Abu Waqqas رضی اللہ عنہ :
Once Saad رضی اللہ عنہ, with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, visited a woman in front of whom were some date-stones or pebbles which she was using as a rosary to glorify Allah. He (the Prophet) said: I tell you something which would be easier (or more excellent) for you than that. He said (it consisted of saying): Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created in Heaven; Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created on Earth; Glory be to Allah as many times as the number of that which He has created between them; Glory be to Allah as many times as the number of that which He is creating; Allah is most great a similar number of times; Praise (be to Allah) a similar number of times; and There is no god but Allah a similar number of times; There is no might and no power except in Allah a similar number of times.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی کہ ان سے سعید بن ابی ہلال نے بیان کیا، ان سے خزیمہ رضی اللہ عنہ نے، وہ عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ
ایک مرتبہ سعد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك . ولا إله إلا الله مثل ذلك . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ۔
Narrated Yusayrah رضی اللہ عنہا , mother of Yasir:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded them (the women emigrants) to be regular (in remembering Allah by saying): Allah is most great ; Glory be to the King, the Holy ; there is no god but Allah ; and that they should count them on fingers, for they (the fingers) will be questioned and asked to speak.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے ہانی بن عثمان نے بیان کیا، وہ حمیدہ بنت یاسر سے, یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے ( قیامت کے روز ) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۔
Narrated Abdullah Ibn Amr Ibn al-As رضی اللہ عنہما:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم counting the glorification of Allah on fingers. Ibn Qudamah said (in his version: With his right hands .
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ اور محمد بن قدامہ نے بیان کیا, ہم سے عثمان نے الاعمش کی سند سے، عطاء بن السائب سے، اپنے والد سے,عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا ( ابن قدامہ کی روایت میں ہے ) : اپنے دائیں ہاتھ پر ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went out from Juwayriyyah رضی اللہ عنہا (wife of the Prophet). Earlier her name was Barrah, and he changed it. When he went out she was in her place of worship, and when he returned she was in her place of worship. He asked: Have you been in your place of worship continuously? She said: Yes. He then said: Since leaving you I have said three times four phrases which, if weighed against all that you have said (during this period), would prove to be heavier: glory be to Allah , and I begin with praise of Him to the number of His creatures, in accordance with His good pleasure, to the weight of His throne and to the ink (extent) of His words.
ہم سے داؤد بن امیہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے جو طلحہ کے خاندان کے مؤکل کریب کی سند سے بیان کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے ( پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎آپ نے اسے بدل دیا ) ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے ( اتنی دیر میں ) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ۔
Narrated Abu Hurairah: Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
Prophet of Allah. The wealthy people have all the rewards; they pray as we pray; they fast as we fast; and they have surplus wealth which they give in charity; but we have no wealth which we may give in charity. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Abu Dharr, should I not teach you phrases by which you acquire the rank of those who excel you? No one can acquire your rank except one who acts like you. He said: Why not, Messenger of Allah? He said: Exalt Allah (say: Allah is Most Great) after each prayer thirty-three times; and praise Him (say: Praise be to Allah) thirty-three times; and glorify Him (say: Glory be to Allah) thirty-three times, and end it by saying, There is no god but Allah alone, there is no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due and He has power over everything . His sins will be forgiven, even if they are like the foam of the sea.
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، مجھ سے حسن بن عطیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن ابی عائشہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا
اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر ( ثواب میں ) بازی لے گئے ہیں، اور جو ( ثواب میں ) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے بعد ( ۳۳ ) بار «الله اكبر» ( ۳۳ ) بار «الحمد الله» ( ۳۳ ) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو جو ایسا کرے گا ) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
Al-Mughirah bin Shubah رضی اللہ عنہ reported:
Muawiyah رضی اللہ عنہ wrote to al-Mughirah bin Shubah: 'What would the the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم recite when he gave Taslim (salutation) in the prayer ?' Al-Mughirah dictated and wrote to Muawiyah: 'The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to say (at the end of the prayer after taslim): 'There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the dominion, to Him praise is due, and He is Omnipotent. O Allah no one cane withhold what You give and give what You withhold, and none benefits the fortunate person, for from You is the fortune. '
ہم سے مسدد نے بیان کیا , ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے اور مسیب بن رافع کی سند سے ورد کی سند سے بیان کیا , مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی پڑھتے تھے۔
Abu Zubair said:
I heard Abdullah bin al-Zubair رضی اللہ عنہما saying on the pulpit: When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم finished the prayer, he used to say (at the end of the prayer): 'There is no God but Allah, Alone, Who has no partner, to Him belongs the Kingdom, to Him praise is due, and He is Omnipotent. There is no God but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though the infidels should disapprove. To Him belongs wealth, to Him belongs grace and to Him is worthy accorded. There is no got but Allah to Whom we are sincere in devotion, even though infidels should disapprove.
ہم سے محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا, ہم سے ابن الیاس نے حجاج بن ابی عثمان کی سند سے بیان کیا, ابوالزبیر کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں ۔
Abu al-Zubair said:
Abdullah bin al-Zubair رضی اللہ عنہما used to recite this supplication after each (prescribed) prayer. He then narrated a similar supplication and added to it: There is no might and no power except in Allah; there is no god but Allah Whom alone we worship. To Him belongs wealth. The narrator then transmitted the rest of tradition.
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ہشام بن عروہ سے, ابوالزبیر کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد «لا إله إلا الله ***» کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا: «ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة ***» اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔
Narrated Zayd Ibn Arqam رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saying (the version of Sulayman has: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to say) after his prayer: - O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that Thou art the Lord alone Who hast no partner; O Allah, Our Lord and Lord of everything, I bear witness that Muhammad is Thy servant and Thy Messenger ; O Allah, our Lord and Lord of everything, I bear witness that all the servants are brethren; O Allah, our Lord and Lord of everything make me sincere to Thee, and my family too at every moment, in this world and in the world hereafter, O Possessor of glory and honour, listen to me and answer. Allah is incomparably great. O Allah, Light of the heavens and of the earth . The narrator Sulaiman bin Dawud said: Lord of the heavens and of the earth, Allah is incomparably great. Allah is sufficient for me; and the excellent guardian is He; Allah is incomparably great.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، اور یہ مسدد کی حدیث ہے، اور سلیمان بن داؤد العتکی نے، انہوں نے کہا: ہم سے المعتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے داؤد الطفاوی کو سنا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مسلم البجلی نے بیان کیا، زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك، اللهم ربنا ورب كل شىء، أن العباد كلهم إخوة، اللهم ربنا ورب كل شىء، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ۔
Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم uttered salutation at the end of the prayer, he used to say: O Allah, forgive me my former and latter sins, what I have kept secret and what I have done openly, and what I have done extravagance; and what You know better than I do. You are the Advancer, the Delayer, there is no god but You.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا: ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجشون بن ابی سلمہ سے، عبدالرحمٰن العرج سے اور عبیداللہ بن رفع کی سند سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to supplicate Allah: My Lord, help me and do not give help against me; grant me victory, and do not grant victory over me; plan on my behalf and do not plan against me; guide me, and made my right guidance easy for me; grant me victory over those who act wrongfully towards me; O Allah, make me grateful to Thee, mindful of Thee, full of fear towards Thee, devoted to Thy obedience, humble before Thee, or penitent. My Lord, accept my repentance, wash away my sin, answer my supplication, clearly establish my evidence, guide my heart, make true my tongue and draw out malice in my breast.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو بن مرہ کی سند سے، وہ عبداللہ بن حارث کی سند سے، وہ طلیق بن قیس سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لك شاكرا لك، ذاكرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Amr bin Murrah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: And make right guidance easy for me. The narrator did not say: my right guidance .
ہم سے مسدد نے بیان کیا، یحییٰ نے کہا, سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے«يسر الهدى إلي» ہے۔ اس نے کہا: اور میرے لیے ہدایت آسان کر دے، اور یہ نہیں کہا: میری ہدایت۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم uttered taslim, he used to say: O Allah, You are As-Salam, and from you is As-Salam. You are blessed, O One of Magnificence and Generosity. Abu Dawud said: Sufyan heard eighteen traditions from Amr bin Murrah.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، عاصم الاحول کی سند سے اور خالد الحدیث نے عبداللہ بن حارث کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۔
Thawban, the client of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم finished the prayer, he asked forgiveness three times and said: O Allah. . . . . The narrator then narrated the tradition like that of Aishah رضی اللہ عنہا.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ نے اوزاعی کی سند سے، ابو عمار سے، ابو اسماء رضی اللہ عنہ سے, ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد «اللهم» کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
Narrated Abu Bakr as-Siddiq رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: He who asks pardon is not a confirmed sinner, even if he returns to his sin seventy times a day.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے مخلد بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن واقد عمری نے بیان کیا، وہ ابو نصیرہ سے، وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کی سند سے, ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ۔
Al-Agharr al-Muzani رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: My heart is invaded by unmindfulness, and I ask Allah's pardon a hundred times in the day.
ہم سے سلیمان بن حرب اور مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے ثابت کی سند سے، ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے, اغر مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دل پر غفلت کا پردہ آ جاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں ۔