Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Injunctions about Witr
كتاب الوتر
Chapter 8
Al-Zuhri said:
These modes of reading aimed at the same point, not different in respect of lawful and unlawful.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: زہری کہتے ہیں کہ
یہ حروف ( اگرچہ بظاہر مختلف ہوں ) ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں.
Ubayy bin Kab رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Ubayy, I was asked to recite the Quran and I was asked: 'In one mode or two modes?' The angel that accompanied me said: 'Say, in two modes', I said: 'In two modes', I was asked again: 'In two or three modes'. The matter reached up to seven modes. He then said: 'Each mode is sufficiently health-giving, whether you utter 'all-hearing and all-knowing' or instead 'all-powerful and all-wise'. This is valid until you finish the verse indicating punishment on mercy and finish the verse indicating mercy on punishment.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے ہمام بن یحییٰ نے، قتادہ کی سند سے، یحییٰ بن یعمر سے، سلیمان بن صرد الخزاعی کی سند سے بیان کیا, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چنانچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم «سميعا عليما» کہو یا«عزيزا حكيما» جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو ۔
Ubayy bin Kab رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was present at the pool of Banu Ghifar, Gabriel came to him and said: Allah has commanded you to make your community read (the Quran) in one harf. He (the Prophet) said: 'I beg Allah His pardon and forgiveness; my community has not strength to do so'. He then came for the second time and told him the same thing till he reached up to seven harfs. Finally, he said: 'Allah has commanded you to make your community read (the Quran) in seven harfs; in whichever mode they read, that will be correct.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، الحکم کی سند سے، مجاہد کی سند سے، ابن ابی لیلیٰ کی سند سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہو گا ۔
Narrated An-Numan Ibn Bashir رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Supplication (du'a') is itself the worship. (He then recited: ) And your Lord said: Call on Me, I will answer you (xI. 60).
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے منصور کی سند سے، ذر کی سند سے، یسیع الحضرمی کی سند سے, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت ہے ، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ( سورۃ غافر: ۶۰ ) ۔
Narrated Saad ibn Abu Waqqas: Ibn Saad رضی اللہ عنہ said:
My father (Saad Ibn Abu Waqqas) heard me say: O Allah, I ask Thee for Paradise, its blessings, its pleasure and such-and-such, and such-and-such; I seek refuge in Thee from Hell, from its chains, from its collars, and from such-and-such, and from such-and-such. He said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: There will be people who will exaggerate in supplication. You should not be one of them. If you are granted Paradise, you will be granted all what is good therein; if you are protected from Hell, you will be protected from what is evil therein.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے شعبہ کی سند سے، زیاد بن مخراق سے، ابو نعامہ سے، ابن سعد کی سند سے، انہوں نے کہا
میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے ۔
Narrated Fudalah Ibn Ubayd رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم heard a person supplicating during prayer. He did not mention the greatness of Allah, nor did he invoke blessings on the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: He made haste. He then called him and said either to him or to any other person: If any of you prays, he should mention the exaltation of his Lord in the beginning and praise Him; he should then invoke blessings on the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم; thereafter he should supplicate Allah for anything he wishes.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ہم سے حیوہ نے بیان کیا، انہیں ابو ہانی حمید بن ہانی نے خبر دی کہ ان سے ابو علی عمرو بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم liked comprehensive supplication and abandoned other kinds.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے اسود بن شیبان نے، وہ ابو نوفل کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعائیں پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: One of you should not say (in his supplication): O Allah, forgive me if You please, show mercy to me if You please. ' Rather, be firm in your asking, for no one can force Him.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: One of you is granted an answer (to his supplication) provided he does not say: 'I prayed but I was not granted an answer. '
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابو عبید کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not cover the walls. He who sees the letter of his brother without his permission, sees Hell-fire. Supplicate Allah with the palms of your hands; do not supplicate Him with their backs upwards. When you finish supplication, wipe your faces with them. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted through a different chains by Muhammad bin Kab; all of them are weak. The chain I have narrated is best of them; but it is also weak.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالملک بن محمد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن یعقوب بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے روایت کرنے والے محمد بن کعب القرظِی کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیواروں پر پردہ نہ ڈالو، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق ( سند ) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔
Narrated Malik ibn Yasar as-Sakuni, al-Awf i رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: When you make requests to Allah, do so with the palms of your hands, and not backs, upwards. Abu Dawud said: The narrator Sulaiman bin Abd al-Hamid said: according to us Malik bin Yasar was a Companion of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے سلیمان بن عبد الحمید البحرانی نے بیان کیا: میں نے اسے اسماعیل کی اصل عبارت میں پڑھا ہے، یعنی ابن عیاش, مجھ سے ضمضم نے بیان کیا، شریٰح کی سند سے، ہم سے ابو ذبیح نے بیان کیا، ان سے ابوبحریہ السکونی نے بیان کیا , مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن عبدالحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم supplicating Allah in this manner with the palms of his hands and also with their backs upwards.
ہم سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، ہم سے سلم بن قتیبہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن نبھان نے قتادہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی ۔
Narrated Salman al-Farsi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Your Lord is munificent and generous, and is ashamed to turn away empty the hands of His servant when he raises them to Him.
ہم سے مومل بن الفضل حرانی نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن یونس نے بیان کیا، ان سے جعفر نے بیان کیا، ہم سے الانماط کے مصنف ابن میمون نے بیان کیا، مجھ سے ابو عثمان نے بیان کیا, سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم ( کرم والا ) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما as saying:
When asking for something you should raise your hands opposite to your shoulders; when asking for forgiveness you should point with one finger; and when making an earnest supplication you should spread out both your hands.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن خالد نے بیان کیا، ان سے عباس بن عبداللہ بن معبد بن العباس بن عبد المطلب نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال ( عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا ) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔
In another version Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
Earnest supplication should be made like this: he raised his hand and made his palms in the direction of his face.
ہم سے عمرو بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عباس بن عبداللہ بن معبد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے, اس میں ہے
دعا اس طرح کی جائے اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی۔
(Another chain) from Ibrahim bin Abdullah, from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: -And he mentioned similar (to no. 1489).
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے بیان کیا, اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Yazid Ibn Saeed al-Kindi رضی اللہ عنہ :
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم made supplication (to Allah) he would raise his hands and wipe his face with his hands.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابن لحیہ نے بیان کیا، ان سے حفص بن ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے سائب بن کی سند سے بیان کیا, یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔
Narrated Abdullah bin Buraydah رضی اللہ عنہ from his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم heard a man saying: O Allah, I ask Thee, I bear witness that there is no god but Thou, the One, He to Whom men repair, Who has not begotten, and has not been begotten, and to Whom no one is equal, and he said: You have supplicated Allah using His Greatest Name, when asked with this name He gives, and when supplicated by this name he answers.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ مالک بن مغول سے، عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اپنے والد کی سند سے بیان کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے ۔
The aforesaid tradition has been transmitted through a different chain of narrators by Malik bin Mighul:
This verso adds: He has asked Allah using His Greatest Name.
ہم سے عبدالرحمٰن بن خالد رقی نے بیان کیا، ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، ہم سے مالک بن مغول نے یہ حدیث بیان کی، جس میں انہوں نے کہا
اس میں ہے: «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم ( عظیم نام ) کا حوالہ دے کر سوال کیا ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
I was sitting with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and a man was offering prayer. He then made supplication: O Allah, I ask Thee by virtue of the fact that praise is due to Thee, there is no deity but Thou, Who showest favour and beneficence, the Originator of the Heavens and the earth, O Lord of Majesty and Splendour, O Living One, O Eternal One. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم then said: He has supplicated Allah using His Greatest Name, when supplicated by this name, He answers, and when asked by this name He gives.
ہم سے عبدالرحمٰن بن عبید اللہ حلبی نے بیان کیا، ہم سے خلف بن خلیفہ نے بیان کیا، حفص کی سند سے یعنی انس رضی اللہ عنہ کے بھتیجے نے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، ( نماز سے فارغ ہو کر ) اس نے دعا مانگی: «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے! یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم ( عظیم نام ) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔