Jabla bin sahim said:
I heard the Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said: “The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating two dates at once unless he asks his companions permission to do so.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
It was narrated from Sa’d, he freed slave of Abu Bakr رضی اللہ عنہ – and Sa’d رضی اللہ عنہ used to serve the Messenger of Allah (ﷺ) and he liked this Hadith – that:
The Prophet (ﷺ) forbade eating two dates at once.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عامر خزاز نے بیان کیا، حسن رضی اللہ عنہ سے, ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی) سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، یعنی کھجوروں کو۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he was brought some old dates; he started to inspect them.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو قتیبہ نے بیان کیا، وہ ہمام کی سند سے، وہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۔
It was narrated that the two sons of Busr, who were of the tribe of Sulaim, said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us. We placed a velvet cloth of ours beneath him and sprinkled water on it.* He sat on it, and Allah sent down Revelation to him in our house. We offered him butter and dates, and he (ﷺ) liked butter.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیم بن عامر نے بیان کیا، وہ بسر سلمی کے دو بیٹے (رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا، آپ اس پر بیٹھ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے۔
‘Abdul-‘Aziz bin Abu Hazim said: My father told me:
I asked Sahl bin Sa’d رضی اللہ عنہ : “Did you ever see dough made from well-sifted flour?” He said: “I never saw dough made from well-sifted flour until the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.” I said: “Did they have sieves at the time of the Messenger of Allah (ﷺ)?” He said: “I never saw a sieve until the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.” I said: “How did you eat barley that was not sifted?” He said: “We used to blow on it, and whatever flew away, flew away, and whatever was left we made dough with it.”
ہم سے محمد بن صباح اور سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، میں نے سہل بن سعد سے پوچھا، کیا تم نے نقی کو دیکھا ہے؟ فرمایا: ابوحازم کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا، اس نے کہا
میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا، تو میں نے پوچھا: کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، میں نے عرض کیا: آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے؟ فرمایا: ہاں! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۔
It was narrated from Umm Ayman رضی اللہ عنہا that:
She sifted some flour and made a loaf of bread for the Prophet (ﷺ). He said: “What is this?” She said: “It is food that we make in our land, and I wanted to make a loaf of it for you. He said: “Fold it onto itself and knead it.”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کسیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر بن سوادہ نے بیان کیا، ان سے انہنش بن عبداللہ نے بیان کیا, ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے آٹا چھانا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( چھان کر نکالی گئی بھوسی ) اس میں ڈال دو، پھر اسے گوندھو ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) never saw a thin loaf made from well-sifted flour with his own eyes, until he met Allah.”
ہم سے عباس بن ولید الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عثمان ابو الجماہر نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی ایک آنکھ سے بھی نہیں دیکھی، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔
It was narrated from Ibn ‘Ata that his father said:
“Abu Hurairah رضی اللہ عنہ visited his people, meaning, a village” – I (one of the narrators) think he said: “Yuna” – “And they brought him some of the first thin loaves of bread. He wept and said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) never saw such a thing with his own eyes.’”
ہم سے ابو عمیر عیسیٰ بن محمد النحاس الرملی نے بیان کیا، کہا ہم سے دمرہ بن ربیعہ نے بیان کیا، وہ ابن عطاء سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا:عطا کہتے ہیں کہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے، تو وہ رو پڑے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی ( چہ جائے کہ کھاتے ) ۔
Qatadah said:
“We used to go to (visit) Anas bin Malik رضی اللہ عنہ .” (One of the narrators) Ishaq said: “And his baker was standing there.” (In another narration) Darimi said: “And his table was set. He said one day: ‘(Come and) eat, for the Messenger of Allah (ﷺ) never saw any thin loaf of bread until he met Allah, nor any roasted sheep (with skin).’”*
ہم سے اسحاق بن منصور اور احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، قتادہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے ( اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے: اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا ) ، ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The first we heard of Faludhaj* was when Jibril (as) came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘The world will be opened for your nation and they will conquer the world, until they eat Faludhaj.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘What is Faludhaj?’ He said: ‘They mix ghee and honey together.’ At that, the Prophet (ﷺ) sobbed.”
ہم سے عبد الوہاب بن ضحاک السلمی ابو الحارث نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، عثمان بن یحییٰ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اور عرض کیا: تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: «فالوذج» کیا ہے ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“One day, the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I wish that we had some white bread made of brown wheat, softened with ghee, that we could eat.’ A man from among the Ansar heard that, so he took some (of that food) and brought it to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Where was this ghee kept?’ He said: ‘In a container made of mastigure skin.’ And he refused to eat it.”
ہم سے ہدیہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضل بن موسیٰ السیٰنانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن واقد نے، ایوب کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی، تو ہم اسے کھاتے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی، تو اس نے یہ روٹی تیار کی، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گھی کس چیز میں تھا؟ اس نے جواب دیا: گوہ کی کھال کی کپی میں، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“Umm Sulaim رضی اللہ عنہا made some bread for the Prophet (ﷺ), and she put a little ghee on it. Then she said: ‘Go to the Prophet (ﷺ) and invite him (to come and eat).’ So I went and told him: ‘My mother is inviting you (to come and eat).’ So he stood up, and said to the people who were with him: ‘Get up.’ I went ahead of him and told her. Then the Prophet (ﷺ) came and said: ‘Bring what you have made.’ She said: ‘I only made it for you alone.’ He said: ‘Bring it.’ Then he said: ‘O Anas, bring (them) in to me ten by ten.’ So I kept bringing them in ten by ten, and they ate their fill, and there were eighty of them.”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید الطویل نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا، پھر کہا: جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ اٹھو، چلو ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا، اور انہیں اس کی خبر دی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے، اور فرمایا: جو تم نے پکایا ہے، لاؤ ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاؤ تو سہی ، پھر فرمایا: اے انس! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا، سب نے سیر ہو کر کھایا، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“By the One in Whose Hand is my soul, the Prophet of Allah (ﷺ) never ate his fill of wheat bread for three days in a row, until Allah took his soul.”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مروان بن معاویہ نے یزید بن کیسان کی سند سے اور ابو حازم کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The family of Muhammad (ﷺ) never ate their fill of wheat bread for three nights in a row, from the time they came to Al-Madinah until he passed away.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زیدہ نے منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے وہ مدینہ آئے ہیں، کبھی بھی تین دن مسلسل گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“When the Prophet (ﷺ) passed away, there was nothing in my house that any living soul could eat, except a little bit of barley on a shelf of mine. I ate it for a long time, then I weighed it and soon it was all gone.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے، پھر میں نے انہیں تولا تو وہ ختم ہو گئے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The family of Muhammad (ﷺ) never ate their fill of barley bread until he was taken (i.e. died).”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ ابواسحاق کی سند سے، میں نے عبدالرحمٰن بن یزید کو اسود کی سند سے بیان کرتے ہوئے سنا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال نے کبھی بھی جو کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to spend many nights in a row hungry and his family could find no supper, and usually their bread was barley bread.”
ہم سے عبداللہ بن معاویہ الجمحی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ثابت بن یزید نے ہلال بن خباب سے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی۔
It was narrated from Hasan that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) wore wool, and his shows were sandals.” He said: "The Messenger of Allah ate coarse food and wore rough garments." It was said to Hasan: What is coarse food?" He said: "Coarse barley which cannot be swallowed except with a mouthful of water."
ہم سے یحییٰ بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار حمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے بقیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے یوسف بن ابی کثیر نے، نوح بن ذکوان کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے؟ جواب دیا: جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی۔
Miqdam bin Madikarib رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A human being fills no worse vessel than his stomach. It is sufficient for a human being to eat a few mouthfuls to keep his spine straight. But if he must (fill it), then one third of food, one third for drink and one third for air.’”
ہم سے ہشام بن عبد الملک الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، مجھ سے میری والدہ نے اپنی والدہ سے بیان کیا, مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“A man burped in the presence of the Prophet (ﷺ) and he said: ‘Withhold your burps from us! For the most hungry of you on the Day of Resurrection will be those who most ate their fill in this world.’”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ ابو یحییٰ نے یحییٰ البکا کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ڈکار لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ڈکار کو ہم سے روکو، اس لیے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے ۔