It was narrated that ‘Atiyyah bin ‘Amir Al-Juhani said:
“I heard Salman رضی اللہ عنہ , when he was forced to eat food, say: ‘It is sufficient for me that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The people who most eat their fill in this world will be the most hungry on the Day of Resurrection.’”
ہم سے داؤد بن سلیمان العسکری اور محمد بن الصباح نے بیان کیا, ہم سے سعید بن محمد ثقفی نے موسیٰ جہنی سے اور زید بن وہب کی سند سے بیان کیا, عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is extravagance to eat everything you want.”
ہم سے ہشام بن عمار، سوید بن سعید اور یحییٰ بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمصی نے بیان کیا: ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا: ہم سے یوسف بن ابی کثیر نے نوح بن ذکوان کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسراف ہے کہ تم ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں رغبت اور خواہش ہو ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) entered the house and saw a piece of bread that had been thrown (on the floor). He picked it up, wiped it and ate it, and said: ‘O ‘Aishah, show honor to the precious (i.e., food), for is the blessing of food departs from people, it never comes back.’”
ہم سے ابراہیم بن محمد بن یوسف الفریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے وساج بن عقبہ بن وساج نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن محمد الموقری نے بیان کیا، ہم سے الزہری نے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، آپ نے اسے اٹھایا، صاف کیا پھر اسے کھا لیا، اور فرمایا: عائشہ! احترام کے قابل چیز ( یعنی اللہ کے رزق کی ) عزت کرو، اس لیے کہ جب کبھی کسی قوم سے اللہ کا رزق پھر گیا، تو ان کی طرف واپس نہیں آیا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: ‘Allahumma inni a’udhu bika minal-ju’, fa innahu bi’sad- daji’, wa a’udhu bika minal-khiyanah, fa innaha bi’satil-bitanah (O Allah, I seek refuge with You from hunger, for it is a bad companion, and I seek refuge with You from treachery, for it is a bad thing to hide in one’s heart).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے حریم نے لیث سے اور کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی ہے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے ۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not leave dinner, even if it is only a handful of dates, because abandoning it makes one weak.”
ہم سے محمد بن عبداللہ الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن بابہ المخزومی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن میمون نے بیان کیا، محمد بن المنکر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام کا کھانا مت ترک کرو اگرچہ اس کی مقدار ایک مشت کھجور ہو، اس لیے کہ شام کا کھانا نہ کھانے سے بڑھاپا آتا ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik that:
The Messenger of Allah ﷺ said: “Goodness comes more quickly to a house where there are frequent guests than a knife to camel’s hump.”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن سلیم نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف تیزی سے جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں مہمان کثرت سے آتے ہیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Goodness comes more quickly to a house where food is eaten than a knife to a camel’s hump.”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے المحاربی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن نحشل نے بیان کیا، ضحاک بن مزاحم کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف چلتی ہے اس سے بھی تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں ( مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے ) کھانا پینا ہوتا رہتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “It is the Sunnah for a man to go out with his guest to the door of the house.’”
ہم سے علی بن میمون الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے علی بن عروہ کی سند سے، عبد الملک کی سند سے، وہ عطاء کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ ( اسے رخصت کرتے وقت ) گھر کے دروازے تک نکل کر آئے ۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“I made some food and called the Messenger of Allah (ﷺ) (to come and eat). He came and saw some images in the house, so he went back.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے ہشام الدستوای کی سند سے، قتادہ کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے ۔
Safinah, Abu ‘Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ , narrated that:
A man visited ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ and he made some food for him.* Fatimah رضی اللہ عنہا said: “Why don’t we invite the Prophet (ﷺ) to eat with us?” So they invited him and he came. He put his hand on the doorpost of the house and saw a thin curtain in the corner of the house, so he went back. Fatimah رضی اللہ عنہا said to ‘Ali رضی اللہ عنہ: “Go and catch up with him, and ask him: ‘What made you go back, O Messenger of Allah?” He said: “I do not enter a well-decorated house.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن عبد اللہ الجزری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعید بن جمحان نے بیان کیا, سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آ گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said that:
‘Umar رضی اللہ عنہ entered upon him when he was eating, and he made room for him in the middle of the gathering. He said: Bismillah, then he took a morsel and ate it, then a second. Then he said: “I notice some fat in the food but it is not the fat of the meat.” ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said: “O Commander of the Believers! I went out to the marketplace looking for some fatty meat (bones with plenty of meat on them) to buy, but it was expensive, so I bought some lean meat (bones with not much meat on them) for a Dirham, and added a Dirham’s worth of ghee. I wanted my family to go through it bone by bone.” ‘Umar رضی اللہ عنہما said: “The Messenger of Allah (ﷺ) never had these two things together; he would eat one and give the other in charity. 'Abdullah said: "Eat it this time, O commander of the Believers, and I will never have them both together again but I will do that (i.e., give one in charity). He said: "I will not eat it."
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن عبدالرحمٰن الرحبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن ابی یعفور نے اپنے والد سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی، عمر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کہا، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور ایک لقمہ لیا، پھر دوسرا لقمہ لیا، پھر کہا: مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آ جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھا لی، اور دوسری صدقہ کر دی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسے کھانے والا نہیں.
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When you make broth, add more water and give some to your neighbor.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوعامر الخزاز نے بیان کیا، انہوں نے ابوعمران الجونی کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا بڑھا لو، اور اس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کو بھجوا دو ۔
It was narrated from Ma’dan bin Abu Talhah Al-Ya’muri رضی اللہ عنہ that:
‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ stood up one Friday delivering a sermon. He praised and glorified Allah, then he said: “O people, you eat two plants which I do not regard as anything but offensive: This garlic and these onions. At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), I would see a man, if the smell (of these vegetables) was found on him, being taken by the hand and led out to Baqi’ (graveyard). Whoever must eat them, let him cook them to death.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی عروبہ نے، انہوں نے قتادہ کی سند سے، وہ سلیم بن ابی الجعد الغطفانی کی سند سے, معدان بن أبی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ۔
It was narrated that Umm Ayyub رضی اللہ عنہا said:
“I made some food for the Prophet (ﷺ) in which there were some vegetables. He did not eat it, and he said: ‘I do not like to annoy my companion.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن ابی یزید سے اپنے والد سے, ام ایوب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کچھ سبزیاں ( پیاز اور لہسن ) پڑی تھیں، آپ نے اسے نہیں کھایا، اور فرمایا: مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں ( اس کی بو سے ) اپنے ساتھی ( جبرائیل علیہ السلام ) کو تکلیف پہنچاؤں ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
A group of people came to the Prophet (ﷺ) and he noticed the smell of leeks coming from them. He said: “Did I not forbid you to eat these vegetables? For the angels are offended by that which offends people.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوشریح نے خبر دی، وہ عبدالرحمٰن بن نمران حجری سے، وہ ابو الزبیر سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں ۔
‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said to his Companions: ‘Do not eat onions,’ then he said in a low voice: ‘Raw.’”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن لہیہ نے بیان کیا، وہ عثمان بن نعیم کی سند سے، انہوں نے مغیرہ بن نحیک کی سند سے, دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: پیاز مت کھاؤ،، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا: کچی ۔
It was narrated that Salman Al-Farisi رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about ghee, cheese and wild donkeys. He said: ‘What is lawful is that which Allah has permitted, in His Book and what is unlawful is that which Allah has forbidden in His Book. What He remained silent about is what is pardoned.’”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ السدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف بن ہارون نے سلیمان تیمی کی سند سے اور ابو عثمان النہدی کی سند سے, سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے، اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے، اور جس کے بارے میں چپ رہے وہ معاف ( مباح ) ہے ۔
It was narrated that Nu’man bin Bashir رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) was given a gift of some grapes from Ta’if. He called me and said: ‘Take this bunch of grapes and give it to your mother.’ But I ate it before I gave it to her. A few night later he said to me: ‘What happened to the bunch of grapes? Did you give it to your mother?’ I said: ‘No, So he called me treacherous.’”
ہم سے عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن عرق نے اپنے والد سے بیان کیا, نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا، جب چند روز ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: خوشے کا کیا ہوا؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ( محبت و مزاح سے ) دغا باز رکھ دیا۔
It was narrated that Talhah رضی اللہ عنہ said:
”I entered upon the Prophet (ﷺ) and in his hand was some quince. He said: ‘Take it, O Talhah, for it soothes the heart.’”
ہم سے اسماعیل بن محمد طلحی نے بیان کیا، کہا: ہم سے نقیب بن حاجب نے ابو سعید کی سند سے اور عبدالملک الزبیری کی سند سے بیان کیا, طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے ہاتھ میں بہی ( سفرجل ) تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: طلحہ! اسے لے لو، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے ۔
It was narrated from Salim that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade a man from eating while lying down on his face.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے جعفر بن برقان نے زہری کی سند سے، سالم سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ۔