Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah led those who came before us astray from Friday. Saturday was for the Jews and Sunday was for the Christians. And they will lag behind us until the Day of Resurrection. We are the last of the people of this world but we will be the first to be judged among all of creation.’”
ہم سے علی بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومالک اشجعی نے بیان کیا، وہ ربعی بن حراش نے، حذیفہ سے اور ابوحازم سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن ( عبادت کے لیے ) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے ( آمد کے لحاظ سے ) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں ۔
It was narrated that Abu Lubabah bin ‘Abdul-Mundhir رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said: ‘Friday is the chief of days, the greatest day before Allah. It is greater before Allah then the Day of Adha and the Day of Fitr. It has five characteristics: On it Allah created Adam; on it Allah sent down Adam to this earth; on it there is a time during which a person does not ask Allah for anything but He will give it to him, so long as he does not ask for anything that is forbidden; on it the Hour will begin. There is no angel who is close to Allah, no heaven, no earth, no wind, no mountain, and no sea that does not fear Friday.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اور عبدالرحمٰن بن یزید الانصاری کی سند سے, ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے، اس کی پانچ خصوصیات ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالیٰ اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرے، اور اسی دن قیامت آئے گی، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر ( قیامت کے آنے سے ) ڈرتے رہتے ہیں ۔
It was narrated that Shaddad bin Aws رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best of your days is Friday. On it Adam was created, on it the Trumpet will be blown, on it all creatures will swoon. So send a great deal of peace and blessings upon me on that day, for your peace and blessings will be presented to me.’ A man said: ‘O Messenger of Allah, how will our peace and blessings be shown to you when you will have disintegrated?’ He said: ‘Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حسین بن علی نے، عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر نے ابو اشعث الصنعانی کی سند سے بیان کیا, شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اور اسی دن پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا درود ( صلاۃ ) آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پہ انبیاء کے جسموں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “From one Friday to the next is an expiation for whatever was committed in between, so long as one does not commit any major sin.”
ہم سے محرز بن سلمہ العدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے العلاء کی سند سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔
Aws bin Aws Ath-Thaqafi رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘Whoever takes a bath on Friday, and bathes completely, and goes early, arriving early,* and walks and does not ride (to the mosque), and sits close to the Imam and listens to him, and does not engage in idle talk; for every step he takes he will have the reward of one year, the reward of a year’s fasting and praying (at night).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہیں اوزاعی نے بیان کیا، ہم سے حسان بن عطیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو اشعث نے بیان کیا, اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“I heard the Prophet (ﷺ) say from the pulpit: ‘Whoever comes to Friday, let him take a bath.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمر بن عبید نے ابواسحاق سے اور نافع کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جو جمعہ کے لیے آئے، وہ غسل کرے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Bath on Fridays is obligatory for every male who has reached the age of puberty.”
ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ صفوان بن سلیم کی سند سے، وہ عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever performs ablution and performs ablution well, then comes to Friday (prayer) and sits near (the Imam), and keeps quiet and listens, he will be forgiven for what was between that and the previous Friday (of sins), and three days more. And whoever touches the pebbles then he has engaged in Laghw (idle talk or behaviour).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، انہوں نے ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever performs ablution on Friday, it is well and good for him, and he has done what is obligatory for him. But whoever takes a bath, bath is better.”
ہم سے نصر بن علی الجھضمی نے بیان کیا، انہیں یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن مسلم المکی نے یزید الرقاشی کی سند سے خبر دی, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Friday comes, angels stand at every door of the mosque and record the names of the people who come, in order of arrival. When the Imam comes out, they close their records and listen to the sermon. The first one who comes to the prayer is like one who sacrifices a camel; the one who comes after him is like one who sacrifices a cow; the one who comes after him is like one who sacrifices a ram,” (and so on) until he made mention of a hen and an egg. Sahl added in his Hadith: “And whoever comes after that comes only to do his duty with regard to the prayer.”
ہم سے ہشام بن عمار اور سہل بن ابی سہل نے بیان کیا, ہم سے سفیان بن عیینہ نے الزہری کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق لکھتے رہتے ہیں، جو پہلے آتے ہیں ان کا نام پہلے ( ترتیب وار ) لکھتے ہیں، اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا جمعہ کے لیے سویرے جانے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا گائے قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا مینڈھا قربان کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا اور سہل نے اپنی حدیث میں اتنا زیادہ بیان کیا کہ جو کوئی اس کے ( خطبہ شروع ہو چکنے کے ) بعد آئے تو وہ صرف اپنا فریضہ نماز ادا کرنے کے لیے آیا ۔
It was narrated from Samurah bin Jundab رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) described the likeness of Friday, saying that those who come earliest are like the one who sacrifices a camel, then like one who sacrifices a cow, then like one who sacrifices a sheep, until he made mention of a chicken.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سعید بن بشیر سے، قتادہ نے حسن رضی اللہ عنہ سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ اور جمعہ کے لیے سویرے آنے والے کی مثال اونٹ قربان کرنے والے، گائے قربان کرنے والے اور بکری قربان کرنے والے کی بیان فرمائی ہے، یہاں تک کہ مرغی ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا۔
It was narrated that ‘Alqamah said:
“I went out with ‘Abdullah رضی اللہ عنہ to Friday (prayer), and he found three men who arrived before him. He said: ‘The fourth of four, and the fourth of four is not far away. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “On the Day of Resurrection people will gather near Allah according to how early they came to Friday (prayer), the first, second, and third.’” Then he said: ‘The fourth of four, and the fourth of four is not far away.’”
ہم سے کثیر بن عبید الحمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالمجید بن عبدالعزیز نے معمر کی سند سے، العمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، ان سے, علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ
میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، انہوں نے تین آدمیوں کو دیکھا جو ان سے آگے بڑھ گئے تھے، تو کہا: میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے جمعہ کے لیے پہلے اور بعد میں جاتے رہتے ہیں، جمعہ کے لیے پہلے جانے والا وہاں بھی پہلے درجہ میں دوسرا دوسرے درجہ میں اور تیسرا تیسرے درجہ میں پھر کہا: چار میں سے چوتھا اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ that:
He heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying on the pulpit one Friday: “There is nothing wrong with anyone of you buying two garments for Friday (prayer), other than his daily work clothes.” (Another chain) from Yusuf bin Abdullah bin Salam that his father said: The Prophet delivered a sermon to us and he mentioned that.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے عمرو بن الحارث نے خبر دی، انہیں یزید بن ابی حبیب نے، وہ موسیٰ بن سعید کی سند سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ بن حبان کی سند سے, عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پہ فرماتے ہوئے سنا: کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے ہر شخص جمعہ کے لیے اپنے عام استعمال کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے خرید لے ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) delivered a sermon to the people one Friday, and he saw them wearing woollen clothes. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is nothing wrong with any one of you, if he can afford it, buying two garments for Friday, other than his daily work clothes.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، وہ زہیر کی سند سے، وہ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever takes a bath on a Friday and does it well, and purifies himself and does it well, and puts on his best clothes, and puts on whatever Allah decrees for him of the perfume of his family, then comes to the mosque and does not engage in idle talk or separate (pushing between) two people; he will be forgiven for (his sins) between that day and the previous Friday.”
ہم سے سہل بن ابی سہل اور حوثرہ بن محمد نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے ابن عجلان سے، سعید مقبری نے اپنے والد سے اور عبداللہ بن ودیعہ سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اچھی طرح وضو کیا، سب سے اچھا کپڑا پہنا، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘This day is an ‘Eid (festival) which Allah has ordained for the Muslims. Whoever comes to Friday (prayer), let him take a bath and if he has perfume then let him put some on. And upon you (I urge to use) is the tooth stick.”
ہم سے عمار بن خالد واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن غریب نے، صالح بن ابی اخضر سے، زہری نے عبید بن السباق کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو ۔
It was narrated that Sahl bin Sa’d رضی اللہ عنہ said:
“We did not take a Qailulah nor eat Ghada’ until after Friday (prayer).”*
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا,سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے ۔
Iyas bin Salamah bin Akwa’ رضی اللہ عنہ narrated that his father said:
“We used to perform Friday (prayer) with the Prophet (ﷺ), then we would return, and we would not see any shadow from the walls in which we could seek shade.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعلیٰ بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے کہتے سنا
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں.
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sad, the Mu’adh-dhin of the Prophet (ﷺ), said: “My father told me, narrating from his father, from his grandfather that:
During the time of the Messenger of Allah (ﷺ), he used to call the Adhan on Fridays when the shadow was like a sandal strap.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کی کہ وہ اپنے والد سے
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
“We used to perform the Friday (prayer), then we would return for a nap (Qailulah).”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم جمعہ پڑھتے پھر لوٹ کر قیلولہ کرتے تھے.