Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
For the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite ‘Alif-Lam-Mim’. The revelation...’[32: 1] and ‘Has there not been over man...” [76:1]
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے اپنے والد کی سند سے، العرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
For the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite “Alif-Lam-Mim. The revelation...” [32: 1] and “Has there not been over man..” Ishaq said: 'Amr has narrated to us like this from Abdullah رضی اللہ عنہ , I have no doubt about it.
اسحاق بن منصور سے روایت ہے، جسے اسحاق بن سلیمان نے خبر دی، جسے عمرو بن ابی قیس نے خبر دی، ابو فروا کی سند سے، ابو الاحوص کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے۔ اسحاق بن سلیمان کہتے ہیں کہ عمرو بن ابی قیس نے ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی روایت کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے.
It was narrated that Qaza’ah said:
“I asked Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: ‘There is nothing good in that for you.’* I said: ‘Explain it, may Allah have mercy on you.’ He said: ‘The Iqamah would be given for the Zuhr prayer for the Messenger of Allah (ﷺ), then one of us would go out to Al-Baqi’, relieve himself, then come back and perform ablution, and he would find the Messenger of Allah (ﷺ) still in the first Rak’ah of Zuhr.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن الحباب نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا, قزعہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے، اللہ آپ پہ رحم کرے، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا، اور قضائے حاجت ( پیشاب پاخانہ ) سے فارغ ہو کر واپس آتا، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا ۔
It was narrated that Abu Ma’mar said:
“I said to Khabbab: ‘How did you recognize that the Messenger of Allah (ﷺ) was reciting in the Zuhr and the ‘Asr?’ He said: ‘From the movement of his beard.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، وہ عمیرہ بن عمیر کی سند سے, ابومعمر کہتے ہیں کہ
میں نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک ( کے بال ) کے ہلنے سے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“I have never seen anyone whose prayer more closely resembles that of the Messenger of Allah (ﷺ) than so-and-so. He used to lengthen the first two Rak’ah of the Zuhr and shorten the last two Rak’ah, and he used to shorten the ‘Asr.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ضحاک بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ بن اشج نے بیان کیا، وہ سلیمان بن یسار کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے فلاں یعنی عمرو بن سلمہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے، اور آخری دونوں ہلکی کرتے، اور عصر کی نماز بھی ہلکی کرتے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“Thirty of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) who had been at Badr came together and said: ‘Come, let us estimate the length of the recitation of the Messenger of Allah (ﷺ) for the prayer in which Qur’an is not recited out aloud.’ No two men among them disagreed, and they estimated the length of his recitation in the first Rak’ah of the Zuhr to be thirty Verses and in the second Rak’ah to be half of that. They estimated his recitation in ‘Asr to be half of the last two Rak’ah of Zuhr.”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعودی نے بیان کیا، کہا ہم سے زید العمی نے بیان کیا، ابو نضرہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite when leading us in the first two Rak’ah of the Zuhr prayer, and sometimes he would recite such that we could hear the Verse.”
ہم سے بشر بن ہلال الصوف نے بیان کیا، کہا: ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام الدستوای نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ( سری ) قراءت فرماتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے .
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to lead us for the Zuhr, and we would hear him reciting a Verse after the Verses from Surat Luqman (31) and Adh-Dhariyat (51).”
ہم سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، کہا ہم سے سالم بن قتیبہ نے بیان کیا، وہ ہاشم بن البرید سے اور ابواسحاق کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم سورۃ «لقمان» اور سورۃ «ذاريات» کی کئی آیتوں کے بعد کوئی آیت سن لیا کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said, narrating from his mother (one of the narrators) Abu Bakr bin Abu Shaibah said: “(She was) Lubabah:
She heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting ‘By the winds sent forth one after another...’[Al-Mursalat (77)] in the Maghrib.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں (ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام لبابہ ہے)
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں «والمرسلات عرفا» پڑھتے سنا۔
It was narrated from Muhammad bin Jubair bin Mut’im رضی اللہ عنہ that his father said:
“I heard the Prophet (ﷺ) reciting At-Tur (52) in the Maghrib.” In a different narration, Jubair رضی اللہ عنہ said: “And when I heard him recite: ‘Were they created by nothing? Or were they themselves the creators?’ up to: ‘Then let their listener produce some manifest proof’,[52:35-38] it was as if my heart were about to take flight.”
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا: ہمیں سفیان نے زہری کی سند سے اور محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے«فليأت مستمعهم بسلطان مبين»، یعنی: کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ ( اگر ایسا ہے ) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے ، ( سورۃ الطور: ۳۵ -۳۸ ) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) used to recite in the Maghrib: ‘Say: O you disbelievers!’[Al-Kafirun (109)] and ‘Say: He is Allah, (the) One.’”[Al-Ikhlas (112)]
ہم سے احمد بن بدیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۔
It was narrated from Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہ that:
He performed the ‘Isha’, the later, with the Prophet (ﷺ). He said: “I heard him reciting ‘By the fig, and the olive’.”[Al-Tin (95)]
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں سفیان بن عیینہ نے خبر دی ہے اور ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن زکریا بن ابی زایدہ نے بیان کیا، ان سب نے یحییٰ بن سعید سے اور عدی بن ثابت کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والتين والزيتون» پڑھتے ہوئے سنا۔
Adi bin Thabit narrated something similar from Bara’ رضی اللہ عنہ and said:
“I have never heard any man with a better voice or who recites better than him.”
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم کو سفیان نے خبر دی اور ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی زایدہ نے بیان کیا، ان سب نے مسعر کی سند سے اور عدی بن ثابت کی سند سے,براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
Mu’adh bin Jabal رضی اللہ عنہ led his companions for the ‘Isha’ and he made the prayer too long for them. The Prophet (ﷺ) said: “Recite ‘By the sun and its brightness,’[Al-Shams (91)] ‘Glorify the Name of your Lord, the Most High,’ [Al-A’la (87)] ‘By the night as it envelops,’ [Al-Lail (92)] or, ‘Read! In the Name of your Lord Who has created.’” [Al-‘Alaq (96)]
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے ابو الزبیر سے خبر دی، جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» ۔
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “There is no prayer for the one who does not recite Fatihatil-Kitab in it.”
ہم سے ہشام بن عمار، سہل بن ابی سہل اور اسحاق بن اسماعیل نے بیان کیا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور محمود بن ربیع کی سند سے بیان کیا, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے ۔
It was narrated from Abu Sa’ib that:
He heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever performs a prayer in which he does not recite Ummul Qur’an (the Mother of the Qur’an, i.e., Al- Fatihah), it is deficient; not complete.’” I said: ‘O Abu Hurairah, sometimes I am behind the Imam. He pressed my forearm and said: ‘O Persian! Recite it to yourself.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے، انہوں نے علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب کی سند سے بیان کیا کہ انہیں ابو السائب نے خبر دی کہ
میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص و ناتمام ہے ، ابوالسائب کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا پھر بھی سورۃ فاتحہ پڑھوں ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
It was narrated that Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no prayer for the one who does not recite in every Rak’ah: Al-Hamd (Al-Fatihah) and a Surah whether in an obligatory prayer or another.’”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے محمد بن الفضیل نے بیان کیا اور ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سب نے ابو سفیان السعدی کی سند سے اور ابو نادرہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Every prayer in which the Ummul-Kitab (the Mother of the Book) is not recited is deficient
ہم سے الفضل بن یعقوب الجزری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے محمد بن اسحاق سے، یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن الزبیر نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے .
It was narrated that from ‘Amr bin Shu’aib , from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Every prayer in which Fatihatil-Kitab (the Opening of the Book) is not recited, it is deficient, it is deficient.”
ہم سے ولید بن عمرو بن السکین نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن یعقوب سلعی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین المعلم نے عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے، اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے، ناقص ہے، ناقص ۔
Abu Idris Al-Khawlani narrated that:
A man asked Abu Darda’ رضی اللہ عنہ : “Should I recite when the Imam is reciting?” He said: “A man asked the Prophet (ﷺ) whether there was recitation in every prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Yes.’ A man among the people said: ‘It has become obligatory.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن یحییٰ نے بیان کیا، وہ یونس بن میسرہ کی سند سے، وہ ابو ادریس خولانی کی سند سے, ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور کہا: جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا: اب تو قراءت واجب ہو گئی۔