Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “I have been commanded to prostrate on seven bones.”
ہم سے بشر بن معاذ لضر یر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ اور حماد بن زید نے عمرو بن دینار کی سند سے طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “I have been commanded to prostrate on seven, but not to tuck up my hair or my garment.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن طاؤس نے اپنے والد سے ,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) : دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔
It was narrated from ‘Abbas bin ‘Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ that:
He heard the Prophet (ﷺ) say: “When a person prostrates, seven parts of his body prostrate with him: His face, his two hands, his two knees, and his two feet.”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کسیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، انہوں نے یزید بن الحاد کی سند سے، محمد بن ابراہیم تیمی کی سند سے، وہ عامر بن سعد کی سند سے, عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم ۔
Ahmar رضی اللہ عنہ , the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), narrated to us:
“We used to feel sorry for the Messenger of Allah (ﷺ) because he took pains to keep his arms away from his sides when he prostrated.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن راشد نے حسن رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, صحابی رسول احمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں ( اور بازوؤں ) کو پہلووں سے اتنا دور کرتے کہ ہمیں ( اس مشقت کی کیفیت کو دیکھ کر ) ترس آتا۔
‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
“When the following was revealed: ‘So glorify the Name of your Lord, the Most Great’,[69:52] the Messenger of Allah (ﷺ) said to us: ‘Say this in your Ruku’.’ And when the following was revealed: ‘Glorify the Name of your Lord, the Most High.’[87:1] the Messenger of Allah (ﷺ) said to us: ‘Say this in your prostrations.
ہم سے عمرو بن رافع البجلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے موسیٰ بن ایوب غافیقی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے چچا ایاس بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ: «فسبح باسم ربك العظيم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کہا کرو ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کہا کرو ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Al-Yaman رضی اللہ عنہ that:
He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when he bowed: “Subhana Rabbiyal-‘Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)” three times, and when he prostrated he said: “Subhana Rabbiyal-A’la (Glory is to my Lord the Most High)” three times.
ہم سے محمد بن روم المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن لہیہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن ابی جعفر کی سند سے اور ابو الازہر کی سند سے, حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین بار، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» تین بار کہتے سنا۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) often used to say when bowing and prostrating: ‘Subhanak Allahumma wa bi hamdika, Allahummaghfir li (Glory be to You, O Allah, and praise; O Allah forgive me),’ following the command given by the Qur’an.”[Surat An-Nasr (110)]
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، ابو الضحیٰ سے، مسروق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ۔
It was narrated that Ibn Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When anyone of you bows, let him say in his bowing: “Subhana Rabbiyal-‘Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)” three times; if he does that his bowing will be complete. And when anyone of you prostrates, let him say in his prostration, ‘Subhana Rabbiyal-A’la (Glory if to my Lord, the Most High)” three times; if he does that, his prostration will be complete, and that is the minimum.’”
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے ابن ابی ذہب کی سند سے، ان سے اسحاق بن یزید ہذلی نے، عون بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار «سبحان ربي العظيم» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار «سبحان ربي الأعلى» کہے، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا سجدہ مکمل ہو گیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When anyone of you prostrates let him be balanced in prostration, and not spread his arms as a dog does.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش سے اور ابوسفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Be balanced in prostration; none of you should prostrate with his arms spread out like a dog.”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head from bowing, he would not prostrate until he had stood up straight. When he prostrated, he would raise his head and not prostrate again until he had sat up straight. And he used to spread out his left leg.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے، وہ بدیل کی سند سے، وہ ابو الجوزاء کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: “Do not squat between the two prostrations.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، انہوں نے حارث کی سند سے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو ۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said: ‘O ‘Ali, do not squat like a dog.’”
ہم سے محمد بن ثواب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو نعیم النخعی نے بیان کیا، انہوں نے ابو مالک سے، عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے، ابو موسیٰ اور ابو اسحاق سے اور حارث کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يا علي لا تقع إقعاء الكلب» ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said to me: ‘When you raise your head from prostration, do not squat like a dog. Put your buttocks between your feet and let the tops of your feet touch the ground.”
ہم سے حسن بن محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ہمیں العلاء ابو محمد نے خبر دی، کہا:انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو ۔
It was narrated from Hudhaifah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to say between the two prostrations: “Rabbighfir li, Rabbighfir li (O Lord forgive me, O Lord forgive me
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا: ہم سے علاء بن مسیب نے عمرو بن مرہ سے، طلحہ بن یزید سے، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اور ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے حفص بن غیاث نے العمش کی سند سے بیان کیا, سعد بن عبیدہ کی سند سے، مستورد بن احنف کی سند سے، صلہ بن ظفر کی سند سے، حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان ( جلسہ میں ) «رب اغفر لي رب اغفر لي» اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے پڑھتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“When praying at night (Qiyamul-Lail), the Messenger of Allah (ﷺ) used to say between the two prostrations: ‘Rabbighfir li warhamni wajburni warzuqni warfa’ni (O Lord, forgive me, have mercy on me, improve my situation, grant me provision and raise me in status).’”
ہم سے ابو کریب محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن صبیح نے کامل ابو العلا کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے حبیب بن ابی ثابت کو سعید بن جبیر کی سند سے روایت کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني» اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دیدے، مجھے رزق دے، اور مجھے بلندی عطا فرما پڑھتے تھے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“When we performed prayer with the Prophet (ﷺ) we said: ‘Peace be upon Allah from His slaves, peace be upon Jibra’il and Mika’il and so-and-so and so-and- so.’ The Messenger of Allah (ﷺ) heard us and said: ‘Do not say peace (Salam) be upon Allah, for He is As-Salam. When you sit (during prayer) say: At-Tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibatu; as- salamu ‘alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; as- salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillahis-salihin (All compliments, prayers and good words are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah).” For as you say that it will reach every righteous slave in the heavens and on earth. (Then say:) “Ashhadu an la ilaha illallah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa Rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).” (Another chain) with similar wording. (Another chain) that `Abdullah bin Mas`ud said: The Prophet (ﷺ) used to teach us the Tashahhud. And he mentioned similarly.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے العمش نے بیان کیا، وہ شقیق بن سلمہ سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: «السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان» سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر ، اور وہ مراد لیتے تھے ( فلاں اور فلاں سے ) فرشتوں کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: تم «السلام على الله» نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ امام ماجہ نے ایک اورسند سےعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے مزی ی ورہ بالاروایت کی مانندحدیث بیان کی ـ ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں الاعمش، منصور اور حسین نے، ابو وائل کی سند سے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ انہوں نے کہا: اور ہم سے سفیان نے ابواسحاق سے، ابو عبیدہ، اسود اور ابو الاحواص کی سند سے۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تشہد (ایمان کی گواہی) سکھاتے تھے۔ پھر اس نے کچھ اسی طرح کا ذکر کیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us the Tashah-hud as he used to teach us a Surah of the Qur’an. He used to say: ‘At-Tahiyyatul-Mubarakatus salawatut-tayyibatu lillah; As-salamu ‘alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; as-salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa Rasuluhu (All blessed compliments and good prayers are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger).’”
ہم سے محمد بن رومہ نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے ابو الزبیر کی سند سے، وہ سعید بن جبیر اور طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari رضی اللہ عنہ :
“The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us and explained the Sunnah for us, and he taught us our prayer. He said: ‘When you perform prayer, and you are sitting, let the first thing you say be: At-Tahiyyatut-tayyibatus-salawatu lillah; as-salamu ‘alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; as-salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa Rasuluhu (All compliments, good words and prayers are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger). Seven phrases which are the greeting of the prayer.’”
ہم سے جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا اور ہم سے عبدالرحمٰن بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اس میں آپ نے ہمارے لیے طریقے بیان فرمائے، اور ہمیں ہماری نماز سکھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» آداب بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور نماز اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، یہ سات کلمے نماز کا سلام ہیں ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us the Tashah-hud as he used to teach us a Surah from the Qur’an: ‘Bismillahi wa Billahi; at-tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibatu lillahi; as-salamu ‘alayka ayyuhan- Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; as-salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillahis-salihin. Ashhadu an la ilaha illallah wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa rasuluhu. As’alu Allahal-jannah, wa a’udhu billahi minannar (In the name of Allah and by the grace of Allah. All compliments are due to Allah and all prayers and good words are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. I ask Allah for Paradise and I seek refuge with Allah from the Fire).’”
اسے محمد بن زیاد نے روایت کیا ہے، المعتمر بن سلیمان نے روایت کیا ہے اور یحییٰ بن حکیم نے روایت کیا، محمد بن بکر نے روایت کیا، ان دونوں نے کہا: ایمن بن نبیل نے روایت کیا، ابو الزبیر نے روایت کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے: «التحيات لله والصلوات والطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار» اللہ کے نام اور اس کی مدد سے، آداب بندگیاں اللہ کے لیے ہیں، اور نماز اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت، اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے، اور رسول ہیں، میں اللہ سے جنت کا طلبگار ہوں، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں ۔