Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from Abu ‘Ali Al-Hamdani that:
He went out in a ship in which ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ was present. The time for prayer came, and we told him to lead us in prayer and said to him: “You are the most deserving of that, you were the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ).” But he refused and said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Whoever leads the people and gets it right, the prayer will be for him and for them, but if he falls short, then that will be counted against him but not against them.”
ہم سے محریز بن سلمہ العدنی نے بیان کیا، ان سے ابن ابی حازم نے، عبدالرحمٰن بن حرملہ کی سند سے, ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ
وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا ۔
It was narrated that Abu Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah! I stay behind and do not perform the morning prayer (in congregation) because of so-and-so, for he makes it too long for us.’ I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) preaching with such anger as he did that day. He said; ‘O people! There are among you those who repel others. Whoever among you leads others in prayer, let him keep it short, for among them are those who are weak and elderly, and those who have pressing needs.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے قیس کی سند سے بیان کیا, ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کر دیتا ہے، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to make his prayer brief but perfect.”
ہم سے احمد بن عبدہ اور حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے خبر دی, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“Mu’adh bin Jabal Al-Ansari رضی اللہ عنہ led his companions in the ‘Isha’ prayer and he made it long. A man among us went away and prayed by himself. Mu’adh رضی اللہ عنہ was told about that and he said: ‘He is a hypocrite.’ When the man heard about that, he went to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him what Mu’adh رضی اللہ عنہ had said to him. The Prophet (ﷺ) said: ‘Do you want to be a cause of Fitnah (trial, tribulation), O Mu’adh? When you lead the people in prayer, recite “By the sun and its brightness, ”[Ash-Shams 91] and “Glorify the Name of your Lord the Most High,” [Al-A’la 87] and “By the night as it envelopes,” [Al-Lail 92] and “Recite in the Name of your Lord.’”[Al-‘Alaq]
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے ابو الزبیر سے خبر دی، جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو«والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھو ۔
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah bin Shikhkhir said:
“I heard ‘Uthman bin Abul-‘As رضی اللہ عنہ say: “The last thing that the Prophet (ﷺ) enjoined on me when he appointed me governor of Ta’if was that he said: “O ‘Uthman! Be tolerable in prayer and estimate the people based upon the weakest among them, for among them are the elderly, the young, the sick, those who live far from the mosque, and those who have pressing needs.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق نے سعید بن ابی ہند کی سند سے, مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ
میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
‘Uthman bin Abul-‘As رضی اللہ عنہ narrated that:
The last thing the Messenger of Allah (ﷺ) enjoined on him was that he said: “When you lead people, keep it short for them.”
ہم سے علی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا, سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی: لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I start prayer and I want to make it long, but then I hear an infant crying, so I make my prayer short, because I know the distress caused to the mother by his crying.’”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی ۔
It was narrated that ‘Uthman bin Abul-‘As رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I hear an infant crying so I make the prayer short.’”
ہم سے اسماعیل بن ابی کریمہ حرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عبد اللہ بن علاثَہ نے، وہ ہشام بن حسان کی سند سے، انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ سے, عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I get up to perform prayer and I intend to make it long, but then I hear an infant crying, so I make it short, because I do not like to cause distress to his mother.’”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمر بن عبد الواحد اور بشر بن بکر نے اوزاعی کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی سند سے، انہوں نے اپنے والد کی سند سے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah As-Suwa’i رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Will you not form your rows as the angels form their rows before their Lord?’ We said: ‘How do the angels form their rows before their Lord?’ He said: ‘They complete the first row and they stand close of one another in the line (leaving no gaps between one another).’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، وہ مسیب بن رافع نے تمیم بن طرفہ کی سند سے, جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Make your rows straight, for straightening the rows is part of completing the prayer.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ کی سند سے بیان کیا اور ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد اور بشر بن عمر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے ۔
Simak bin Harb narrated that he heard Nu’man bin Bashir رضی اللہ عنہ say:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to straighten the rows until he made them like a spear or an arrow-shaft. Once he saw a man’s chest (sticking out) so the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Make your rows straight or Allah will create division among you.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہم سے سماک بن حرب نے بیان کیا،نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah and His angels send blessings upon those who complete the rows, and whoever fills a gap, Allah will raise him one degree in status thereby.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ۔
It was narrated from ‘Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to ask for forgiveness for the first row three times and for the second row twice.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں ہشام الدستوای نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، محمد بن ابراہیم نے خالد بن معدان کی سند سے, عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے.
Bara’ bin ‘Azib رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Allah and the angels send blessings upon the first row.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے طلحہ بن مسرف کو کہتے سنا: میں نے عبدالرحمٰن بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If they knew what (goodness) there is in the first row, they would cast lots for it.’”
ہم سے ابو ثور ابراہیم بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو قطن نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ قتادہ سے، خلاس نے ابو رافع سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ پہلی صف میں کتنا ( ثواب ) ہے تو اس کو پانے کے لیے قرعہ اندازی ہو ۔
It was narrated from Ibrahim bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah and the angels send blessings upon the first row.’”
ہم سے محمد بن المصفہ الحمصی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن عمرو بن علقمہ نے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پہ اپنی صلاۃ یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی دعا کرتے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best rows for women are the back rows, and the worst are the front rows, and the best rows for men are the front rows, and the worst are the back rows.’”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے العلاء کی سند سے، اپنے والد سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور سہیل رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The best rows for men are the front rows and the worst rows are the back rows, and the best rows for women are the back rows and the worst are the front rows.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے ۔
It was narrated from Mu’awiyah bin Qurrah رضی اللہ عنہ that his father said:
“We were forbidden to form a row between two pillars at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and we would be repelled from them forcefully.”
ہم سے زید بن اخزم ابو طالب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد اور ابو قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ہارون بن مسلم نے قتادہ کی سند سے، معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ۔