Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated that Thawban رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No person should lead others in prayer, then supplicate only for himself and not for them. If he does that, he has betrayed them.’”
ہم سے محمد بن المصفی الحمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، انہوں نے حبیب بن صالح کی سند سے، یزید بن شریح کی سند سے، وہ ابو حی الموذن کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کو خاص نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam, he would sit only for as long as it took to say: ‘Allahumma Antas-Salam wa minkas-salam. Tabarakta ya Dhal-jalali wal- ikram. (O Allah, You are As-Salam, From You is all peace, blessed are You O Possessor of majesty and honour).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن عبد الملک بن ابی الشواریب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عاصم الاحول نے عبداللہ بن حارث کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ( اپنے مصلے پر قبلہ رو ) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے ۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
When the Prophet (ﷺ) performed the Subh (morning prayer), while he said the Salam, he would say: ‘Allahumma inni as’aluka ‘ilman nafi’an, wa rizqan tayyiban, wa ‘amalan mutaqabbalan (O Allah, I ask You for beneficial knowledge, goodly provision and acceptable deeds).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کی سند سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There are two characteristics which no Muslim man acquires but he will enter Paradise. They are easy but those who do them are few. At the end of every prayer he should glorify Allah (by saying Subhan Allah) ten times, extol Him (by saying Allahu Akbar) ten times, and praise Him (by saying Al-Hamdu Lillah) ten times.’ I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting them on his hand. ‘That is one hundred and fifty (after all the prayers of the day) on the tongue, and one thousand and five hundred on the Scale. And when he goes to his bed, let him glorify Allah and praise Him and extol Him one hundred times. That will be one hundred on the tongue and one thousand on the Scale. Who among you does two thousand and five hundred evil actions in one day?’ They said: ‘Who would not be keen to do that?’ He said: ‘But the Shaitan comes to anyone of you while he is performing prayer and says: ‘Remember such and such, remember such and such,” until the person becomes distracted and does not understand (what he is saying). And he comes to him when he is in his bed, and makes him sleepy such that he sleeps.’”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، اسمٰعیل بن علیہ، محمد بن فضیل، ابو یحییٰ تیمی اور ابن الاجلح نے عطاء بن سائب سے اپنے والد سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا، وہ دونوں سہل آداب ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، ( ایک یہ کہ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله»، دس بار «الله أكبر» اور دس بار «الحمد لله»کہے ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ۔ ( دوسرے یہ کہ ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ «سبحان الله، الحمد لله، الله أكبر» کہے، یہ پڑھنے میں سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار ہیں، تم میں سے کون ایسا ہے جو ایک دن میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہو ، لوگوں نے عرض کیا: ایک مسلمان کیسے ان اعمال کی محافظت نہیں کرتا؟ ( جبکہ وہ بہت ہی آسان ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ وہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب وہ اپنی خواب گاہ پہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ سو جاتا ہے ( اور تسبیحات نہیں پڑھ پاتا ) ۔
It was narrated that Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
“It was said to the Prophet (ﷺ) and perhaps (one of the narrators) Sufyan said: I said: O Messenger of Allah! Those who have property and wealth have surpassed us in reward. They say the same as we do, and they spend but we do not spend.’ He said to me: ‘Shall I not tell you something which, if you do it, you will catch up with those who have surpassed you and you will excel over those who come after you? Praise Allah (by saying Al- Hamdu Lillah) after every prayer, and glorify Him (by saying Subhan- Allah) and extol Him (by saying Allahu Akbar), thirty-three, thirty- three, and thirty-four times.’” Sufyan said: “I do not know which of them was to be recited thirty-four times.”
ہم سے حسین بن الحسن المروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بشر بن عاصم کی سند سے اپنے والد سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا: اللہ کے رسول! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں ( کے مقام ) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو ( ۳۳ ) بار، ( ۳۳ ) بار اور ( ۳۴ ) بار ۔ سفیان نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو ( ۳۴ ) بار کہا۔
Thawban رضی اللہ عنہ narrated that:
When he finished his prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) would ask for forgiveness three times, then he would say: “Allahumma Antas-Salam wa minkas-salam tabarakta ya Dhal-jalali wal- ikram” (O Allah, You are As-Salam and from You is all peace, Blessed are You O Possessor of majesty and honour).”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الحمید بن حبیب نے بیان کیا، کہا: ہم سے اوزاعی نے بیان کیا۔ اور ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا: ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے شداد ابو عمار نے بیان کیا,ابو اسماء الرحبی نے مجھ سے کہا, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار «استغفر الله» کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے۔
It was narrated from Qabisah bin Hulb رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Prophet (ﷺ) led us (in prayer), and he used to depart from both sides. (i.e. from either side).”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے سماک کی سند سے، ان سے قبیصہ بن ہلب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا:ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اپنے والد کی طرف سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۔
It was narrated that Aswad said:
“ ‘Abdullah (bin Mas’ud رضی اللہ عنہ) said: ‘None of you should apportion within himself a part (of his prayer) thinking that it is a right of Allah upon him that he must only turn to his right to leave after finishing the prayer. I saw the Messenger of Allah (ﷺ) and most of the time he turned to his left.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا۔ اور ہم سے ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے العمش نے بیان کیا، عمرہ رضی اللہ عنہ نے اسود کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لیے حصہ مقرر نہ کرے، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ نماز کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے ۔
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said:
“I saw the Prophet (ﷺ) departing to his right and to his left when he finished the prayer.”
ہم سے بشر بن ہلال الصواف نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے، وہ عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے فراغت کے بعد ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں جانب سے مڑتے تھے
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam, the women would stand up when he finished his Taslim, and he would stay where he was for a little while before standing up. (i.e. to depart).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن عبد الملک بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ابن شہاب کی سند سے اور ہند بنت الحارث سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If food is served and the Iqamah for prayer is given, then start with the food.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے رکھ دیا جائے، اور نماز بھی شروع ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ ۔
It was narrated from Nafi’ that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If food is served and the Iqamah for prayer is given, then start with the food.” He said: Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما ate dinner one night while he could hear the Iqamah.
ہم سے ازہر بن مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو ۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک رات کا کھانا کھایا، اور وہ اقامت سن رہے تھے۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If food is ready and the Iqamah is being given, then start with the food.”
ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سب نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ ۔
It was narrated that Abu Malih said:
“I went out on a rainy night (for congregational prayer), and when I came back I asked for the door to be opened. My father said: ‘Who is this?’ I said: ‘Abu Malih.’ He said: ‘We were with the Messenger of Allah (ﷺ) at Hudaybiyah and it rained a little, such that the soles of our sandals did not get wet. The announcer of the Messenger of Allah (ﷺ) called out: ‘Perform your prayer at your camps.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، وہ خالد حذا کی سند سے, ابوملیح کہتے ہیں کہ
میں بارش والی رات میں ( گھر سے ) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد ( اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“On rainy nights or on cold windy nights, the Messenger of Allah (ﷺ) would summon his announcer to call out: ‘Perform your prayer at your camps.’”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ ایوب کی سند سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اعلان کرتا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said, on a Friday that was rainy: “Perform your prayer at your camps.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ضحاک بن مخلد نے عباد بن منصور کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عطاء کو بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا: اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Harith bin Nawfal that:
Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما commanded the Mu’adh-dhin to call the Adhan one Friday, which was a rainy day. He said: “Allahu Akbar, Allahu Akbar, Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulullah (Allah is the Most Great, Allah is Most Great, I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah).” Then he (Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما ) said: “Proclaim to the people that they should pray in their houses.” The people said to him: “What is this that you have done?” He said: “One who is better than me did that. Are you telling me that I should bring the people out of their houses and make them come to me wading through the mud up to their knees?”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن عباد المحلبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم الاحول نے بیان کیا, عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا، اور یہ بارش کا دن تھا، تو مؤذن نے کہا:«الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله»، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: «حي على الصلاة، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا: یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے، جو مجھ سے افضل تھی، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں۔
It was narrated from Musa bin Talhah رضی اللہ عنہ that his father said:
“We used to perform prayer while the beasts were passing in front of us. That was mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: ‘If something like the hand of a saddle* is placed in front of anyone of you, it will not matter whoever passes in front of him.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن عبید نے سماک بن حرب سے، وہ موسیٰ بن طلحہ سے اپنے والد سے, طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“A small spear (Harbah) would be brought out to the Prophet (ﷺ) when he was travelling; he would plant it (in the ground) to perform prayer while facing it.”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن رجا مکی نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے.
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah had a reed mat that he would spread out during the day, and make into a compartment at night, towards which he would perform prayer.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن عمر کے واسطہ سے، مجھ سے سعید بن ابی سعید نے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب نماز پڑھتے ۔