Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“We used to recite the Opening of the Book and a Surah behind the Imam in the first two Rak’ah of the Zuhr and the ‘Asr, and in the last wo Rak’ah (we would recite) the Opening of the Book.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے اور یزید فقیر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے ۔
It was narrated that Samurah bin Jundab رضی اللہ عنہ said:
“There are two pauses which I memorized from the Messenger of Allah (ﷺ), but `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما denied that. We wrote to Ubayy bin Ka`b رضی اللہ عنہ in Al-Madinah, and he wrote that Samurah رضی اللہ عنہ had indeed memorized them.” (One of the narrators) Sa`eed said: We said to Qatadah: 'What are these two pauses?' He said: 'When he started his prayer, and when he finished reciting.' Then later he said: 'And when he recited: 'Not (the way) of those who earned your anger, nor of those who went astray.' They used to like (for the Imam) when he had finished reciting to remain silent until he had caught his breath.'
ہم سے جمیل بن الحسن بن جمیل العتکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے، قتادہ کی سند سے، حسن کی سند سے,سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، اس پر ہم نے مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے ٹھیک یاد رکھا ہے۔ سعید نے کہا: ہم نے قتادہ سے پوچھا: وہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: ایک تو وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قراءت فاتحہ سے فارغ ہوتے۔ پھر بعد میں قتادہ نے کہا: دوسرا سکتہ اس وقت ہوتا جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے، قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ پسند تھا کہ جب امام قراءت سے فارغ ہو جائے تو تھوڑی دیر خاموش رہے، تاکہ اس کا سانس ٹھکانے آ جائے۔
Samurah رضی اللہ عنہ said:
“I memorized two pauses in the prayer, a pause before reciting and a pause when bowing. ‘Imran bin Husain denied that, so they wrote to Al-Madinah, to Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ , and he said that Samurah رضی اللہ عنہ was speaking the truth.”
ہم سے محمد بن خالد بن خداش اور علی بن الحسین بن اشکاب نے بیان کیا, ہم سے اسماعیل بن علیہ نے یونس کی سند سے بیان کیا, حسن بصری کہتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں نے نماز میں دو سکتے یاد کئے، ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع کے وقت، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ان کا انکار کیا تو لوگوں نے مدینہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Imam has been appointed to be followed, so when he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar, when he recites, then listen attentively; when he says: Not (the way) of those who earned Your anger, nor of those who went astray,[1:7] then say Amin; when he bows then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), then say Allahumma Rabbana wa lakal-hamd (O Allah, our Lord, to You is the praise);” when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then all of you pray sitting down.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان کی سند سے، وہ زید بن اسلم کی سند سے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی«ألله أكبر» کہو، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When the Imam recites, then listen attentively, and if he is sitting (in the prayer) then the first remembrance that anyone of you recites should be the Tashahhud.’”
ہم سے یوسف بن موسیٰ القطان نے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے سلیمان تیمی سے، قتادہ کی سند سے، ابو ذلب سے، حطان بن عبداللہ الرقاشی کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام جہری قراءت کرے تو تم خاموش رہو، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک پہلے «التحيات» پڑھے ۔
It was narrated that Ibn Ukaimah said:
“I heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say: ‘The Prophet (ﷺ) led his Companions in a prayer; we think it was the Subh. He said: “Did anyone among you recite?” A man said: “I did.” He said: “I was saying to myself, what is wrong with me that someone is fighting to wrest the Qur’an from me?”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے اور ابن اکیمہ سے، انہوں نے کہا
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی، ( ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی ) نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے؟ ، ایک آدمی نے کہا: جی ہاں، میں نے کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے قرآن پڑھنے میں کوئی مجھ سے منازعت ( کھینچا تانی ) کر رہا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer,” and he mentioned a similar report, and added to it, and he said: “And after that they were quiet in the prayers in which the Imam recites aloud.”
ہم سے جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے معمر نے زہری سے اور ابن اکیمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے: پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کر لی ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation.’
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، حسن بن صالح سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the reciter says Amin, then say Amin, for the angels say Amin, and if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the reciter says Amin, then say Amin, for if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
ہم سے بکر بن خلف اور جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا۔ اور ہم سے احمد بن عمرو بن سرح المصری اور ہاشم بن القاسم حرانی نے بیان کیا: ہم سے عبد اللہ بن وہب نے بیان کیا یونس کی سند سے، یہ سب الزہری کی سند سے، سعید بن المسیب کی سند سے، اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن کی سند سے، بوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام ( آمین ) کہے تو تم بھی آمین کہو ۱؎، اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The people stopped saying Amin, but when the Messenger of Allah (ﷺ) said ‘Not (the way) of those who earned Your Anger, nor of those who went astray’[1:7] he would say Amin, until the people in the first row could hear it, and the mosque would shake with it
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے بشر بن رافع نے بیان کیا، وہ ابو ہریرہ کے چچا زاد بھائی ابو عبداللہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا
لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتے تو آمین کہتے، یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ سن لیتے، اور آمین سے مسجد گونج اٹھتی۔
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying ‘Amin’ after he said, ‘nor of those who went astray.’[1:7]
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کلہیل نے بیان کیا، وہ حجیہ بن عدی کی سند سے, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ولا الضالين» کہتے تو «آمین» کہتے ۔
It was narrated from ‘Abdul-Jabbar bin Wa’il رضی اللہ عنہ that his father said:
“I performed prayer with the Prophet (ﷺ) and when he said: ‘Nor of those who went astray’,[1:7] he said Amin and we heard that from him.”
ہم سے محمد بن الصباح اور عمار بن خالد الو اسطی نے بیان کیا, ہم سے ابوبکر بن عیاش نے ابواسحاق کی سند سے، عبدالجبار بن وائل رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ نے «ولا الضالين» کہا، تو اس کے بعد آمین کہا، یہاں تک کہ ہم نے اسے سنا۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “The Jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) ‘Amin’.”
اسحٰق بن منصور سے روایت ہے، جنہیں عبد الصمد بن عبد الوارث نے خبر دی، انہیں حماد بن سلمہ نے خبر دی، انہیں سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے خبر دی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا سلام کرنے، اور آمین کہنے پر حسد کیا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Jews do not envy you for anything more than they envy you for the Salam and (saying) Amin, so say Amin a great deal.”
ہم سے عباس بن ولید الخلال الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن محمد اور ابومشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن یزید بن صالح بن صبیح المری نے بیان کیا، ہم سے طلحہ بن عمرو نے بیان کیا، عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا «آمین» کہنے پر کیا، لہٰذا تم آمین کثرت سے کہا کرو ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands until they were parallel to his shoulders when he started the prayer, and when he bowed in Ruku’, and when he raised his head from Ruku’, but he did not raise them between the two prostrations.”
ہم سے علی بن محمد، ہشام بن عمار اور ابو عمر الدار نے بیان کیا, ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور سلیم کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے مقابل لے جاتے، اور جب رکوع میں جاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، ( تو بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے رفع یدین کرتے ) اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ ہاتھ نہ اٹھاتے ۔
It was narrated that Malik bin Huwairith رضی اللہ عنہ said that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) said Allah u Akbar, he would raise his hands until they were close to his ears; when he bowed in Ruku’ he did likewise, and when he raised his head from Ruku’ he did likewise
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے قتادہ کی سند سے اور نصر بن عاصم کی سند سے, مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے قریب تک اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے.
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) raising his hands during prayer until they were parallel with his shoulders when he started to pray, when he bowed and when he prostrated.”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا: ہم سے اسماعیل بن عیاش نے صالح بن کیسان کی سند سے اور عبدالرحمٰن عرج کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دونوں ہاتھ نماز میں مونڈھوں ( کندھوں ) کے بالمقابل اٹھاتے جس وقت نماز شروع کرتے، جس وقت رکوع کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جس وقت سجدہ کرتے ۔
It was narrated that ‘Umair bin Habib رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands at every Takbir (saying Allahu Akbar) in the obligatory prayer.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے رفدہ بن قدعہ الغسانی نے بیان کیا، کہا: ہم سے اوزاعی نے، عبداللہ بن عبید بن عمیر سے، اپنے والد سے، اپنے دادا عمیر بن حبیث رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ ہر تکبیر کے ساتھ فرض نماز میں اٹھاتے تھے۔
It was narrated that Muhammad bin `Amr bin `Ata’ said, concerning Abu Humaid As-Sa`di رضی اللہ عنہ :
“I heard him when he was among ten of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ), one of whom was Abu Qatadah bin Rib`i, saying: ‘I am the most knowledgeable of you about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). When he stood up for prayer, he stood up straight and raised his hands until they were parallel to his shoulders, then he said: Allahu Akbar. When he wanted to bow in Ruku`, he raised his hands until they were parallel to his shoulders. When he said Sami` Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him), he raised his hands and stood up straight. When he stood up after two Rak`ah, he said Allahu Akbar and raised his hands until they were parallel to his shoulders, as he did when he started the prayer.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الحمید بن جعفر نے بیان کیا, ہم سے محمد بن عمرو بن عطاء نے ابوحمید السعدی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے ابو حمید ساعدی کو کہتے سنا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کے بیچ میں تھے جن میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر «ألله أكبر» کہتے، اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب دو رکعت کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ۔