Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“We said: ‘O Messenger of Allah! We know what it means to send greetings upon you, but what does it mean to send peace and blessings upon you?’ He said: ‘Say: “Allahumma salli ‘ala Muhammadin ‘abdika wa Rasulika kama salayta ‘ala Ibrahima, wa barik ‘ala Muhammad (wa ‘ala ali Muhammadin) kama barakta ‘ala Ibrahima [O Allah, send Your grace, honor and mercy upon Muhammad, Your slave and Messenger, as You sent Your (grace, honour and mercy) upon Ibrahim, and send Your blessings upon Muhammad (and the family of Muhammad) as You sent Your blessings upon Ibrahim].”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عامر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن جعفر نے خبر دی، وہ یزید بن الحاد سے، انہوں نے عبداللہ بن خباب کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر اتاری ہے ۔
It was narrated that Hakam said:
“I heard Ibn Abi Laila say: ‘Ka’b bin ‘Ujrah رضی اللہ عنہ met me and said: “Shall I not give you a gift? The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us and we said: ‘We know what it means to send greetings on you, but what does it mean to send peace and blessings upon you?’ He said: ‘Say: Allahumma salli ‘ala Muhammadin wa ‘ala ali Muhammadin, kama sallayta ‘ala Ibrahima, innaka Hamidun Majid; Allahumma barik ‘ala Muhammadin wa ‘ala ali Muhammadin, kama barakta ‘ala Ibrahima, innaka Hamidun Majid (O Allah, send your grace, honour and mercy upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent Your grace, honour and mercy upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious. O Allah, send Your blessings upon Muhammad and the family of Muhammad, as You sent Your blessings upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious).’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا۔ اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے حکم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے ابن ابی لیلیٰ کو کہتے سنا, مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
It was narrated from Abu Humaid As-Sa’di رضی اللہ عنہ that they said:
“O Messenger of Allah! We have been commanded to send peace and blessings upon you. How should we send peace and blessings upon you?” He said: “Say: Allahumma salli ‘ala Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyatihi, kama sallayta ‘ala Ibrahim; wa barik ‘ala Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyatihi kama barakta ‘ala ali Ibrahim fil-‘alamin, innaka Hamidum Majid (O Allah, send Your grace, honour and mercy upon Muhammad and his wives and offspring, as You sent Your grace, honour and mercy upon Ibrahim. O Allah, send Your blessings upon Muhammad and his wives and offspring, as You sent Your blessings upon the family of Ibrahim among the nations, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious).”
ہم سے عمار بن طالوت نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عبدالعزیز الماجشون نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے، وہ عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے, ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
Aswad bin Yazid narrated that ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“When you send peace and blessings upon the Messenger of Allah (ﷺ), then do it well, for you do not know, that may be shown to him.” They said to him: “Teach us.” He said: “Say: ‘Allahumma aj’al salataka wa rahmataka wa barakatika ‘ala sayyidil-mursalin wa imamil-muttaqin wa khatamin- nabiyyin, Muhammad ‘abdika wa Rasulika imamil-khayri (wa qa’idil- khair), wa Rasulir-Rahmah. Allahummab’athhu maqaman mahmudan yaghbituhu bihil-awwaluna wal-akhirun. Allahumma salli ‘ala Muhammadin wa ‘ala ali Muhammadin kama sallayta ‘ala Ibrahim wa ‘ala ali Ibrahim; Allahumma barik ‘ala Muhammadin wa ‘ala ali Muhammadin kama barakta ‘ala Ibrahim wa ‘ala ali Ibrahim, innaka Hamidum Majid (O Allah, send Your grace, honour, mercy and blessings upon the leader of the Messengers, the imam of the pious and the seal of the Prophets, Muhammad, Your slave and Messenger, the Imam of the good (and the leader) of the good, and the Messenger of mercy. O Allah, raise him to a station of praise and glory that will be the envy of the first and the last. O Allah, send Your grace, honour and mercy upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent Your grace, honour and mercy upon Ibrahim, You are indeed Praiseworthy, Most Glorious. O Allah, send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon Ibrahim and the family of Ibrahim, You are Praiseworthy, Most Glorious).’”
ہم سے الحسین بن بیان نے بیان کیا، کہا ہم سے زیاد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعودی نے عون بن عبداللہ سے، ابو فاختہ نے اسود بن یزید سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود (صلاۃ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے، انہوں نے کہا: کہو: «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ”اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے“ ۔
It was narrated that ‘Asim bin ‘Ubaidullah said:
“I heard ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi’ah رضی اللہ عنہ narrating from his father that the Prophet (ﷺ) said: “There is no Muslim who sends peace and blessings upon me, but the angels will send peace and blessings upon him as long as he sends peace and blessings upon me. So let a person do a little of that or a lot.”
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے شعبہ کی سند سے، وہ عاصم بن عبید اللہ کی سند سے، انہوں نے کہا
میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سے سنا, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever forgets to send peace and blessings upon me, then he has missed the road to Paradise.’”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔
Muhammad bin Abi ‘Aishah said:
“I heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When anyone of you finishes the last Tashah-hud, let him seek refuge with Allah from four things: From the torment of Hell, from the torment of the grave, from the trials of life and death, and from the Fitnah (tribulation) of Masihud-Dajjal.’
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، مجھ سے حسان بن عطیہ نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن ابی عائشہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا,رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص آخری تشہد ( تحیات اور درود ) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے سے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said to a man: ‘What do you say during your Salat?’ He said: ‘The Tashah-hud, then I ask Allah for Paradise, and I seek refuge with Him from Hell, but I do not understand what you and Mu’adh murmur (during Salat). He said: ‘Our murmuring revolves around the same things.’”
ہم سے یوسف بن موسیٰ القطان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے اعمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ ، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں ۔
It was narrated from Malik bin Numair Al-Khuza’i رضی اللہ عنہ that his father said:
“I saw the Prophet (ﷺ) putting his right hand on his right thigh during prayer, and pointing with his finger.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، اسام بن قدامہ سے، مالک بن نمیر الخزاعی رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۔
It was narrated that Wa’il bin Hujr رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Prophet (ﷺ) making a circle with his thumb and middle finger, and raising the one next to it (the index finger), supplicating with it during the Tashah-hud.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے, وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا، اور ان دونوں سے متصل ( شہادت کی ) انگلی کو اٹھایا، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) used to sit during prayer, putting his hands on his knees and raising his right finger which was next to his thumb, supplicating with it, and with his left hand (spread out) on his knee.
ہم سے محمد بن یحییٰ، حسن بن علی اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, ہم سے معمر نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پہ پھیلا کر رکھتے۔
It was narrated from ‘Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the Salam to his right and his left, until the whiteness of his cheek could be seen (saying): “As-salamu ‘alaikum wa rahmatullah (Peace be upon you and the mercy of Allah).”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق کی سند سے اور ابو الاحواص کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور آپ کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله»۔
It was narrated from ‘Amir bin Sa’d رضی اللہ عنہ, from his father that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the Salam to his right and to his left.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن الساری نے بیان کیا، وہ مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن الزبیر نے اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سند سے، وہ عامر بن سعد نے اپنے والد کی سند سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے۔
It was narrated that ‘Ammar bin Yasir رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the Salam to his right and to his left, until the whiteness of his cheek could be seen (saying): ‘As-salamu ‘alaikum wa rahmatullah, as-salamu ‘alaikum wa rahmatullah.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، وہ ابواسحاق سے اور سلہ بن زفر سے, عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی، اور کہتے: «السلام عليكم ورحمة الله. السلام عليكم ورحمة الله»۔
It was narrated that Abu Musa رضی اللہ عنہ said:
“Ali رضی اللہ عنہ led us in prayer on the day of (the battle of) the Camel, in a way that reminded us of the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). Either we had forgotten it or we had abandoned it. He said the Salam to his right and to his left.”
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے برید بن ابی مریم سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۔
‘Abdul-Muhaimin bin ‘Abbas bin Sahl bin Sa’d As-Sa’idi رضی اللہ عنہ narrated from his father, from his grandfather that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said one Taslim to the front.
ہم سے ابو مصعب المدینی احمد بن ابی بکر نے بیان کیا، ہم سے عبد المہیمن بن عباس بن سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے بیان کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرا۔
It was narrated from Hisham bin ‘Urwah, from his father, from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (saw) used to say one Salam, to the front.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن محمد الثانی نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے۔
It was narrated that Salamah bin Akwa’ رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing the prayer, and he said one Salam.”
ہم سے محمد بن حارث المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن راشد نے بیان کیا، وہ یزید کی سند سے جو کہ سلمہ کے آزاد کردہ غلام تھے, سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا۔
It was narrated from Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When the Imam says the Salam, then respond to him.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر ہذلی نے بیان کیا، وہ قتادہ کی سند سے، انہوں نے حسن کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو ۔
It was narrated that Samurah bin Jundab رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to greet our Imam with Salam, and to greet one another with Salam.”
ہم سے عبدا بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن قاسم نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمام نے قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے,سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔