Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
Sa’eed bin Musayyab رضی اللہ عنہ said that:
Abu Qatadah bin Rib’i رضی اللہ عنہ told him that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah said: ‘I have enjoined on your nation five prayers, and I have made a covenant with Myself that whoever maintains them, I will admit them to Paradise, and whoever does not maintain them, has no such covenant with Me.’”
ہم سے یحییٰ بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمصی نے بیان کیا، کہا: ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ضبارہ بن عبداللہ بن ابی السلیل نے بیان کیا، مجھ سے دوید بن نافع نے زہری کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سعید بن المسیب نے کہا
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “One prayer in this mosque of mine is better than a thousand prayers anywhere else, except The Sacred Mosque (Al-Masjid Al-Haram).” (Another chain) from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Prophet (ﷺ) with similar wording.
ہم سے ابو مصعب مدنی احمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، وہ زید بن رباح اور عبید اللہ بن ابی عبد اللہ نے ابوعبداللہ الاثار کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ، سوائے مسجد الحرام کے ۔ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، ان سے سعید بن المسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “One prayer in this mosque of mine is better than one thousand prayers in any other mosque except the Sacred Mosque.”
اسحاق بن منصور سے روایت ہے، عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد الحرام کے ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “One prayer in my mosque is better than one thousand prayers elsewhere, except the Sacred Mosque, and one prayer in the Sacred Mosque is better than one hundred thousand prayers elsewhere.”
ہم سے اسماعیل بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن عدی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبید اللہ بن عمرو نے عبدالکریم کی سند سے اور عطاء کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے ۔
It was narrated that Maimunah رضی اللہ عنہا the freed (female) slave of the Prophet (ﷺ) said:
I said: “O Messenger of Allah, tell us about Baitil- Maqdis.” He said: “It is the land of the Resurrection and the Gathering. Go and pray there, for one prayer there is like one thousand prayers elsewhere.” I said: “What if I cannot travel and go there?” He said: “Then send a gift of oil to light its lamps, for whoever does that is like one who goes there.”
ہم سے اسماعیل بن عبد اللہ الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ثور بن یزید نے بیان کیا، وہ زیاد بن ابی سودہ سے اور اپنے بھائی عثمان بن ابی سودہ سے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “When Sulaiman bin Dawud finished building Baitil-Maqdis, he asked Allah for three things: judgment that was in harmony with His judgment, a dominion that no one after him would have, and that no one should come to this mosque, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him.” The Prophet (ﷺ) said: “Two prayers were granted, and I hope that the third was also granted.”
ہم سے عبید اللہ بن الجہم الانمتی نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب بن سوید نے بیان کیا، وہ ابو زرعہ السیبانی یحییٰ بن ابی عمرو کی سند سے، ہم سے عبداللہ بن دیلمی نے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “No one should prepare a mount (travel) to visit any mosque except three: the Sacred Mosque, this mosque of mine, and Aqsa Mosque.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الاعلی نے معمر کی سند سے، زہری نے سعید بن مسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین مساجد: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
It was narrated from Abu Sa’eed and ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do not prepare a mount (travel) to visit any mosque except three: the Sacred Mosque, Aqsa Mosque, and this mosque of mine.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن شعیب نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی مریم نے قزعہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین مساجد: مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے ۔
Abul-Abrad, the freed slave of Banu Khatmah, said that:
He heard Usaid bin Zuhair Ansari رضی اللہ عنہ who was one of the Companions of the Prophet (ﷺ) narrating that the Prophet (ﷺ) said: “One prayer in the Quba’ Mosque is like ‘Umrah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہیں عبد الحامد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے بنو خطمہ کے آزاد کردہ غلام ابو العبراد نے بیان کیا کہ
انہوں نے اسید بن زہیر الانصاری رضی اللہ عنہ کو سنا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے ۔
(Sahl) bin Hunaif رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever purifies himself in his house, then comes to the Quba’ Mosque and offers one prayer therein, will have a reward like that for ‘Umrah.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل اور عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن سلیمان الکرمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘A man’s prayer in his house is equal (in reward) to one prayer; his prayer in the mosque of the tribes is equal to twenty-five prayers; his prayer in the mosque in which Friday prayer is offered is equal to five-hundred prayers; his prayer in Aqsa Mosque is equal to fifty thousand prayers; his prayer in my mosque is equal to fifty thousand prayers; and his prayer in the Sacred Mosque is equal to one hundred thousand prayers.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے ابو الخطاب الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے رزیق ابوعبداللہ الہانی نے بیان کیا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔
It was narrated from Tufail bin Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray facing the trunk of a date- palm tree when the mosque was still a hut, and he used to deliver the sermon leaning on that trunk. A man from among his Companions said: ‘Would you like us to make you something upon which you can stand on Fridays so that the people will be able to see you and hear your sermon?’ He said: ‘Yes.’ So he made three steps for him, as a pulpit. When they put the pulpit in place, they put it in the place where it stands now. When the Messenger of Allah (ﷺ) wanted to stand on the pulpit, he passed by the tree trunk from which he used to deliver the sermon, and when he went beyond the trunk, it moaned and split and cracked. The Messenger of Allah (ﷺ) came down when he heard the voice of the trunk, and rubbed it with his hand until it fell silent. Then he went back to the pulpit and when he prayed, he prayed facing it. When the mosque was knocked down (for renovation) and (the pillars, etc.) were changed, Ubayy bin Ka’b took that trunk and kept it in his house until it became very old and the termites consumed it and it became grains of dust.”
ہم سے اسماعیل بن عبد اللہ الرقی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمرو رقی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن محمد بن عقیل کی سند سے، انہوں نے طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی سند سے، انہوں نے اپنے والد سے کہا
جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے ) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to deliver the sermon leaning on a tree trunk. When he started to use the pulpit, he went to the pulpit, and the trunk made a sorrowful sound. So he came to it and embraced it, and it calmed down. He said: “If I had not embraced it, it would have continued to grieve until the Day of Resurrection.”
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، وہ عمار بن ابی عمار سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور ثابت رضی اللہ عنہ سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا ۔
It was narrated that Abu Hazim said:
“The people differed concerning the pulpit of the Messenger of Allah (ﷺ) and what it was made of. So they came to Sahl bin Sa’d رضی اللہ عنہ and asked him. He said: ‘There is no one left who knows more about that than I. It is made of tamarisk (a type of tree) from Ghabah. It was made by so-and-so, the freed slave of so- and-so (a woman), (who was) a carpenter. He brought it and he (the Prophet (ﷺ)) stood on it when it was put in position. He faced the Qiblah and the people stood behind him. He recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground, then he went back to the pulpit and recited Qur’an, then bowed and raised his head, then he moved backwards until he prostrated on the ground.”
ہم سے احمد بن ثابت الجہدری نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا, ابوحازم کہتے ہیں کہ
لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قراءت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to stand by the root of a tree, or by a tree trunk, then he started to use a pulpit. The tree trunk made a grieving sound.” Jabir said: “So that the people in the mosque could hear it. Until the Messenger of Allah (ﷺ) came to it and rubbed it, and it calmed down. Some of them said: ‘If he had not come to it, it would have grieved until the Day of Resurrection.’”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، سلیمان تیمی سے اور ابو نضرہ کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
It was narrated from Abu Wa’il that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“I prayed one night with the Messenger of Allah (ﷺ) and he kept standing until I thought of doing something bad.” I said: “What was that?”He said: “I thought of sitting down and leaving him.”
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ اور سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مشیر نے العمش کی سند سے، ابو وائل کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا، ( راوی ابووائل کہتے ہیں: ) میں نے پوچھا: وہ کیا؟ کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں، اور آپ کو ( کھڑا ) چھوڑ دوں.
It was narrated from Ziyad bin ‘Ilaqah that:
He heard Mughirah say: “The Messenger of Allah (ﷺ) stood (in prayer) until his feet became swollen. It was said: ‘O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins.’ He said: ‘Should I not be a thankful slave?’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زیاد بن علاقہ سے
انہوں نے المغیرہ کو یہ کہتے سنا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا، تو عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray until his feet became swollen. It was said: ‘O Messenger of Allah, Allah has forgiven you your past and future sins.’ He said: ‘Should I not be a thankful slave?’”
ہم سے ابو ہشام الرفاعی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن یمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) was asked: ‘Which prayer is best?’ He said: ‘That with the longer Qunut.’”
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے اور ابو الزبیر کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں قیام لمبا ہو ۔
It was narrated from Kathir bin Murrah that Abu Fatimah رضی اللہ عنہا told him:
“I said: ‘O Messenger of Allah! Tell me of a deed that I can adhere to and act upon.’ He said: “You should prostrate, for you will not prostrate to Allah but He will raise you in status one degree thereby and erase from you one sin.”
ہم سے ہشام بن عمار اور عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان نے اپنے والد سے، مکحول کی سند سے، کثیر بن مرہ سے, ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔