Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from Umm Hani’ bint Abu Talib رضی اللہ عنہا that:
On the day of the Conquest (of Makkah) the Messenger of Allah (ﷺ) prayed voluntary Duha with eight Rak’ah, saying the Salam after each two Rak’ah.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن رومح نے بیان کیا، انہیں ابن وہب نے خبر دی، انہیں عیاض بن عبداللہ نے، مخرمہ بن سلیمان سے، وہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کی سند سے, ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل ) آٹھ رکعت پڑھی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا ۔
It was narrated from Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “After each two Rak’ah there should be the Taslim.”
ہم سے ہارون بن اسحاق ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ابو سفیان السعدی کی سند سے اور ابو نضرہ کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام ہے ۔
It was narrated that Muttalib that is, Ibn Abu Wada’ah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The night prayers are (to be offered) two by two. Say the Tashah-hud after each two Rak`ah, and raise your hands in all humility like one who is poor and needy and say: ‘Allāhummaghfir lī (O Allah, forgive me).’ And whoever does not do that, it is imperfect.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبد ربہ بن سعید نے بیان کیا، وہ انس بن ابی انس کے واسطہ سے، وہ عبداللہ بن نافع بن العمیاہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے عبداللہ بن نفیس رضی اللہ عنہ سے, مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے، جو کوئی ایسا نہ کرے ( یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو ) اس کی نماز ناقص ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever fasts Ramadan and spends its nights in prayer, out of faith and in hope of reward, his previous sins will be forgiven.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن عمرو کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اور ( اس کی راتوں میں ) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
“We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ) and he did not lead us in praying Qiyam (prayers at night) during any part of it, until there were seven nights left. He led us in praying Qiyam on the seventh night until approximately one third of the night had passed. Then on the sixth night which followed it he did not lead us in prayer. Then he led us in praying Qiyam on the fifth night which followed it until almost half the night had passed. I said: ‘O Messenger of Allah, would that we had offered voluntary prayers throughout the whole night.’ He said: ‘Whoever stands with the Imam until he finishes, it is equivalent to spending the whole night in prayer.’ Then on the fourth night which followed it, he did not lead us in prayer, until the third night that followed it, when he gathered his wives and family, and the people gathered, and he led us in prayer until we feared that we would miss the Falah.” It was asked: “What is the Falah?” He said: “Suhur.” He said: “Then he did not lead us in prayer at night for the rest of the month.”
ہم سے محمد بن عبد الملک بن ابی الشوارب نے بیان کیا، ہم سے مسلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، انہیں داؤد بن ابی ہند نے، الولید بن عبدالرحمٰن الجراشی نے جبیر بن نفیر الحدرمی کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں ( یعنی تیئیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی ( یعنی چوبیسویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی ( پچیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی ( یعنی چھبیسویں ) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری ( یعنی ستائیسویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: «فلاح» کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی ۔
It was narrated that Nadr bin Shaiban said:
“I met Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman and said: ‘Tell me a Hadith that you heard from your father, in which mention is made of the month of Ramadan.’ He said: ‘Yes, my father narrated to me that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the month of Ramadan and said: “A month which Allah has enjoined upon you to fast, and in which I have established Qiyam (prayers at night) as Sunnah for you. So whoever fasts it and spends its nights in prayer out of faith and in hope of reward; he will emerge from his sins as on the day his mother bore him.”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے نصر بن علی الجہضمی اور القاسم بن الفضل الحدانی نے بیان کیا, نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ
میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابوسلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘At night Satan ties a rope in which there are three knots to the nape of the neck of anyone of you. If he wakes up and remembers Allah, one knot is untied. If he performs ablution, another knot is untied, and if he gets up to pray, all the knots are untied, so he wakes up energetic and cheerful, he has already earned something good. But if he does not do that, he wakes up bad-tempered, having earned nothing good.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، انہوں نے ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“Mention was made to the Messenger of Allah (ﷺ) of a man who slept until morning came. He said: ‘That is because Satan urinated in his ears.’”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے منصور کی سند سے اور ابووائل کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Do not be like so-and-so, who used to pray voluntary night prayers then stopped praying voluntary night prayers.”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے اوزاعی کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا ۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The mother of Sulaiman bin Dawud said to Sulaiman: “O my son, do not sleep too much at night, for sleeping too much at night will leave a man poor on the Day of Resurrection.”
ہم سے زہیر بن محمد، الحسن بن محمد بن الصباح، العباس بن جعفر اور محمد بن عمرو الحدثانی نے بیان کیا، کہا ہم سے سنید بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے یوسف بن محمد بن المنکدر نے اپنے والد سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever prays a great deal at night, his face will be handsome during the day.’”
ہم سے اسماعیل بن محمد طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت بن موسیٰ ابو یزید نے شریک کی سند سے، العمش کی سند سے، ابو سفیان کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah, the people rushed towards him and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has come!’ I came along with the people to see him, and when I looked at the face of the Messenger of Allah (ﷺ), I realized that his face was not the face of a liar. The first thing he said was: “O people, spread (the greeting of) Salam, offer food to people and pray at night when people are sleeping, you will enter Paradise in peace.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید، ابن ابی عدی، عبد الوہاب اور محمد بن جعفر نے عوف بن ابی جمیلہ سے، زرارہ بن اوفی سے بیان کیا, عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed and Abu Hurairah رضی اللہ عنہما said that:
The Prophet (ﷺ) said: ‘When a man wakes up at night and wakes his wife, and they pray two Rak’ah, they will be recorded among the men and women who remember Allah much.”
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے الاعمش نے بیان کیا، وہ علی بن الاقمر سے، انہوں نے الاغر کی سند سے, ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو وہ دونوں «ذاکرین» ( اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے ) اور «ذاکرات» ( کثرت سے یاد کرنے والیوں ) میں سے لکھے جائیں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and wakes his wife, and she prays; and if she refuses he sprinkles water in her face. And May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and wakes her husband and he prays; and if he refuses, she sprinkles water in his face.’”
ہم سے احمد بن ثابت الجحدری نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ابن عجلان نے، قعقاع بن حکیم کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور نماز پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے نماز پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا ۔
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin Sa’ib said:
“Sa’d bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ came to us when he had become blind. I greeted him with Salam and he said: ‘Who are you?’ So I told him, and he said: ‘Welcome, O son of my brother. I have heard that you recite Qur’an in a beautiful voice. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “This Qur’an was revealed with sorrow, so when you recite it, then weep. If you cannot weep then pretend to weep, and make your voice melodious in reciting it. Whoever does not make his voice melodious, he is not one of us.”
ہم سے عبداللہ بن احمد بن بشیر بن ذکوان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے ابو رافع نے بیان کیا، ابن ابی ملیکہ کی سند سے, عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ
ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں ( اپنے بارے میں ) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا the wife of the Prophet (ﷺ) said:
“One night at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) I was late returning from the ‘Isha’, then I came and he said: ‘Where were you?’ I said: ‘I was listening to the recitation of a man among your Companions, for I have never heard a recitation or a voice like his from anyone.’ He got up and I got up with him, to go and listen to him. Then he turned to me and said: ‘This is Salim, the freed slave of Abu Hudhaifah. Praise is to Allah Who has created such men among my Ummah.’”
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حنظلہ بن ابی سفیان نے بیان کیا، کہا کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ثابت الجمعی کو بیان کرتے ہوئے سنا،ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہاں تھیں؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Among the people who recite the Qur’an with the most beautiful voices is the man who, when you hear him, you think that he fears Allah.’”
ہم سے بشر بن معاذ الدار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن اسماعیل بن مثمی نے بیان کیا، ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۔
It was narrated that Fadalah bin ‘Ubaid said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah listens more attentively to a man with a beautiful voice who recites Qur’an out loud than the master of a singing slave listens to his slave.’”
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) entered the mosque and heard a man reciting Qur’an. He asked: ‘Who is this?’ It was said: ‘(He is) ‘Abdullah bin Qais.’ He said: ‘He has been given (sweet melodious voice) from the Mazamir of the family of Dawud.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو محمد بن عمرو نے ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: عبداللہ بن قیس ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ۔
It was narrated from Bara’ (bin ‘Azib) that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Beautify the Qur’an with your voices.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے طلحہ یامی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں نے عبدالرحمٰن بن عوسجہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۔