Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from ‘Amir that Qais bin Sa’d رضی اللہ عنہ said:
“There is nothing that happened during the time of the Messenger of Allah (ﷺ) except that I have seen it, except for one thing, which is that Taqlis was performed for the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Fitr. (Three other chains of narration) with similar wording.
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا، انہوں نے اسرائیل سے، ابو اسحاق کی سند سے، وہ عامر رضی اللہ عنہ سے, قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to set out for the praying place in the morning of the day of ‘Eid, and a small spear would be carried before him. When he reached the praying place, it would be set up in front of him, then he would pray facing it, and that was because the praying place was an open space in which there was nothing that could serve as a Sutrah.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا اور ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، مجھے نافع نے خبر دی، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“When the Prophet (ﷺ) prayed on the day of ‘Eid or on another occasion, a small spear was set up in front of him, and he prayed facing it, and the people were behind him.” Nafi` said: It is from here that the leaders have taken this practice.
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب ( میدان میں ) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed ‘Eid at the prayer place, using a small spear as a Sutrah.
ہم سے ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن بلال نے، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں عید کی نماز نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی۔
It was narrated that Umm ‘Atiyyah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to bring them (the women) out on the day of Fitr and the day of Nahr.” Umm ‘Atiyyah رضی اللہ عنہا said: “We said: ‘What if one of them does not have an outer covering?’ He said: ‘Let her sister share her own outer covering with her.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے اور ان سے حفصہ بنت سیرین نے, ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں، ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو ( کیا کرے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے ۔
It was narrated that Umm ‘Atiyyah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Bring out the women who have attained puberty and those who are in seclusion so that they may attend the ‘Eid prayer and (join in) the supplication of the Muslims. But let the women who are menstruating avoid the prayer place.”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، وہ ایوب کی سند سے، ابن سیرین نے, ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) used to bring his daughters and his wives out on the two ‘Eid.
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ارطہ نے، عبدالرحمٰن بن ابیس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے۔
It was narrated that Iyas bin Abi Ramlah Ash-Shami said:
“I heard a man asking Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ : ‘Were you present with the Messenger of Allah (ﷺ) when there were two ‘Eid on one day?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘What did he do?’ He said: ‘He prayed the ‘Eid prayer, then he granted a concession not to pray the Friday, then he said: “Whoever wants to pray (Friday), let him do so.”’”
ہم سے نصر بن علی الجھضمی نے بیان کیا، ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے عثمان بن مغیرہ سے بیان کیا, ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ
میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے پڑھے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Two ‘Eid have come together on this day of yours. So whoever wants, that (the ‘Eid prayer) will suffice him, and he will not have to pray Friday, but we will pray Friday if Allah wills.” Another chain with similar wording.
ہم سے محمد بن المصفی حمصی نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مغیرہ الدبی نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن رفیع نے ابو صالح کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“Two ‘Eid came together at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so he led the people in prayer, then he said: ‘Whoever wishes to come to Friday (prayer), let him come, and whoever wishes to stay behind, let him stay behind.’”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے مندل بن علی نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن عمر سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں ( عید اور جمعہ ) اکٹھا ہو گئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“Rain fell on the day of ‘Eid at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), so he led them in prayer in the mosque.
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن عبد الاعلی بن ابی فروا نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو یحییٰ عبید اللہ التیمی کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) forbade wearing weapons in the Muslim lands on the two ‘Eid, except if the enemy was present.
ہم سے عبد القدوس بن محمد نے بیان کیا، ہم سے نائل بن نجیح نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن زیاد نے بیان کیا، ابن جریج نے عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to have a bath on the day of Fitr and the day of Adha.”
ہم سے جبارہ بن المغلس نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن تمیم نے بیان کیا، میمون بن مہران سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin ‘Uqbah bin Fakih bin Sa’d, from his grandfather Fakih bin Sa’d رضی اللہ عنہ, who was a Companion of the Prophet (ﷺ) that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to take a bath on the Day of Fitr, the Day of Nahr, and the day of ‘Arafah, and Fakih رضی اللہ عنہ used to tell his family to have a bath on these days.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یوسف بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو جعفر الخطمی نے عبدالرحمٰن بن عقبہ بن فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر، عید الاضحی اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے اور فاکہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔
Yazid bin Khumair narrated that ‘Abdullah bin Busr رضی اللہ عنہ:
He went out with the people on the Day of Fitr or Adha, and he objected to the Imam’s delay. He said: “We would have finished by this time.” And that was the time of Tasbih.
ہم سے عبد الوہاب بن ضحاک نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن عمرو نے بیان کیا، وہ یزید بن خمیر کی سند سے اور عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی سند سے
وہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے تو امام کے تاخیر کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا، اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو اس وقت عیدین کی نماز سے فارغ ہو جایا کرتے تھے، اور وہ وقت کراہت کے گزرنے کے بعد نماز الضحی ( چاشت کی نفل ) کا وقت ہوتا تھا ۱؎۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to offer the night prayers two by two.”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، وہ انس بن سیرین سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The night prayer is (to be offered) two by two.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا: ہم کو لیث بن سعد نے نافع کی سند سے خبر دی , عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) was asked about the night prayer. He said: ‘Pray two by two, and if you fear that dawn is coming, then perform Witr with one Rak’ah.’”
ہم سے سہل بن ابی سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سالم کی سند سے، اپنے والد سے اور عبداللہ بن دینار کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو دو رکعت پڑھے، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) used to pray the night prayer two Rak’ah by two Rak’ah.”
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عثام بن علی نے العمش کی سند سے، حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ( نفل ) نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔
Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Prayers at night and during the day are to be offered two by two.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار اور ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے یعلٰی بن عطاء کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے علی الازدی کو بیان کرتے ہوئے سنا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: رات اور دن کی ( نفل ) نماز دو دو رکعت ہے ۔