Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) used to recite in the ‘Eid prayer “Glorify the Name of your Lord, the Most High.” [Al-A’la (87)] and “Has there come to you the narration of the overwhelming?” [Al-Ghashiyah (88)]
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن الجراح نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عبیدہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو بن عطاء کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں: «سبح اسم ربك الأعلى»اور«هل أتاك حديث الغاشية»پڑھتے تھے۔
It was narrated that Isma’il bin Abu Khalid said:
“I saw Abu Kahil رضی اللہ عنہ , and he was a Companions, and my brother narrated to me that he said: ‘I saw the Prophet (ﷺ) delivering the sermon atop his she-camel, and an Ethiopian was holding onto its reins.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا, اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ
میں نے ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۔
It was narrated that Qais bin ‘Aidh رضی اللہ عنہ, who was Abu Kahil, said:
“I saw the Prophet (ﷺ) delivering the sermon atop a beautiful she-camel, and an Ethiopian was holding onto its reins.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔
It was narrated from Salamah bin Nubait رضی اللہ عنہ that:
His father performed Hajj and said: “I saw the Prophet (ﷺ) delivering the sermon atop his camel.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے، سلمہ بن نوبیت سے، اپنے والد سے, نبیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے حج کیا اور کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sa’d, the Mu’adhdhin, that his father narrated, from his father, that his grandfather said:
“The Prophet (ﷺ) used to say the Takbir between the two sermons and he used to say the Takbir a great deal in the sermon of ‘Eid.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد المحدثین نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، وہ اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے۔
Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to go out on the day of ‘Eid and lead the people in praying two Rak’ah, then he would say the Salam and stand on his two feet facing the people while they were sitting down. He would say: ‘Give in charity. Give in charity.’ Those who gave most in charity were the women, (they would give) earrings and rings and things. If he wanted to send out an expedition he would mention it, otherwise he would leave.”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن قیس نے بیان کیا، وہ عیاض بن عبداللہ سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: لوگو! صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں، کوئی بالی ڈالتی، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ تشریف لے جاتے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) went out on the Day of Al-Fitr or Al-Adha, and delivered a sermon standing up. Then he sat down briefly, then stood up again.”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو بحر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن مسلم الخولانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہو گئے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Sa’ib رضی اللہ عنہ said:
“I attended the ‘Eid prayer with the Messenger of Allah (ﷺ). He led us in offering the ‘Eid prayer, then he said: ‘I have finished the prayer. Whoever wants to sit (and listen to) the sermon, then let him sit, and whoever wants to leave, then let him leave.’”
ہم سے ہادیہ بن عبد الوہاب اور عمرو بن رافع البجلی نے بیان کیا: ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے عطاء کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ہم نماز ادا کر چکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) went out and led them in the ‘Eid prayer, and he did not pray before it or after it.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، وہ سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی.
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) did not pray before or after the ‘Eid prayer.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن طائفی نے بیان کیا، وہ عمرو بن شعیب سے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید میں عید سے پہلے یا بعد کوئی بھی نماز نہیں پڑھی۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) did not pray before the ‘Eid prayer, but when he went back to his house he would pray two Rak’ah.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے الہیثم بن جمیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمرو رقی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن محمد بن عقیل نے عطاء بن یسار کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ۔
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sa’d said: “My father told me, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet (ﷺ) used to go out to the ‘Eid prayers walking, and he would come back walking.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے.
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to go out to the ‘Eid prayers walking, and come back walking.”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبد اللہ عمری نے اپنے والد سے اور عبید اللہ نے نافع کی سند سے , عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے، اور پیدل ہی واپس آتے.
It was narrated that ‘Ali رضی اللہ عنہ said:
“It is part of the Sunnah to walk to ‘Eid (prayers).”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، وہ ابواسحاق سے، وہ حارث کی سند سے,علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سنت یہ ہے کہ لوگ عید کی نماز کے لیے پیدل چل کر جائیں.
It was narrated from Muhammad bin ‘Ubaidullah bin Abu Rafi’, from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to come to ‘Eid prayers walking.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن الخطاب نے بیان کیا، کہا ہم سے مندل نے بیان کیا، وہ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے.
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sa’d said: “My father told me, from his father, from his grandfather, that:
When the Prophet (ﷺ) went out on the two ‘Eid, he would pass by the house of Sa’eed bin Abul-‘As, then by the people of the tent, then he would leave by a different route, via Banu Zuraiq, then he would go out by the house of ‘Ammar bin Yasir and the house of Abu Hurairah to Balat.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
He used to go out to the ‘Eid prayers via one route, and return via another, and he said that the Messenger of Allah (ﷺ) used to do that.
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے نافع سے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے.
It was narrated from Muhammad bin ‘Ubaidullah bin Abu Rafi’ رضی اللہ عنہ , from his father, from his grandfather, that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to come to ‘Eid prayers walking, and that he would go back via a different route than the one he began with
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن الخطاب نے بیان کیا، کہا ہم سے مندل نے بیان کیا، وہ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا کی سند سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
Then the Prophet (ﷺ) went out to ‘Eid (prayers), he would return via another route than the first one he took.
ہم سے محمد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو تمیلہ نے بیان کیا، وہ فلیح بن سلیمان سے، وہ سعید بن حارث الزرقی کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔
It was narrated that ‘Amir said:
“Iyad Al-Ash’ari was in Anbar at the time of ‘Eid, and he said: ‘Why is it that I do not see you engaged in Taqlis as was done in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ)?’”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک نے بیان کیا، مغیرہ کی سند سے, عامر شعبی کہتے ہیں کہ
عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ۔