Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated that ‘Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
“I suffered from Nasur* and I asked the Prophet (ﷺ) about prayer. He said: ‘Perform prayer standing; if you cannot, then sitting; and if you cannot then while lying on your side.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے ابراہیم بن طہمان کی سند سے، حسین المعلم کی سند سے، ابن بریدہ کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے ناسور کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو ۔
It was narrated that Wa’il bin Hujr رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Prophet (ﷺ) performing prayer while sitting on his right side when he was sick.”
ہم سے عبدالحمید بن بیان الوصطی نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق الازرق نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، جابر نے ابو حارث کی سند سے, وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی، اس وقت آپ بیمار تھے۔
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
‘By the One Who took his soul (i.e., the soul of the Prophet (ﷺ)), he did not die until he offered most of his prayers sitting down. And the dearest of the actions to him was the righteous action that the person does regularly, even if it were a little.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الاحواص نے بیان کیا، وہ ابواسحاق کی سند سے، وہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet (ﷺ) used to recite Qur’an sitting down, then when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty Verses.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن علیہ نے ولید بن ابی ہشام کی سند سے، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے، انہوں نے عمرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نفل نماز میں ) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“I did not see the Messenger of Allah (ﷺ) offer any of the night prayers in any way other than standing, until he became old. Then he started to pray sitting down until, when there were thirty or forty Verses left of his recitation, he would stand up and recite them, and prostrate.”
ہم سے ابو مروان عثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے ( پھر رکوع ) اور سجدے کرتے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq Al-‘Uqaili said:
“I asked ‘Aishah about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) at night. She said: ‘He used to pray for a long time at night standing up, and for a long time at night sitting down. If he prayed standing, he would bow standing, and if he prayed sitting, he would bow sitting.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، حمید کی سند سے, عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) passed by him when he was praying sitting down. He said: “The prayer of one who sits down is equivalent to half of the prayer of one who stands.”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قطبہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، وہ حبیب بن ابی ثابت سے اور عبداللہ بن باباہ سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) went out and saw some people praying while sitting down. He said: “The prayer of one who sits down is equivalent to half of the prayer of one who stands.”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن محمد بن سعد نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے ۔
It was narrated from ‘Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that:
He asked the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who prays sitting down. He said, “Whoever performs prayer standing up, that is better. Whoever performs prayer sitting down will have half the reward of one who prays standing. And whoever performs prayer lying down will have half the reward of one who prays sitting.”
ہم سے بشر بن ہلال الصواف نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے اور عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill with the sickness that would be his last” – (One of the narrators) Abu Mu’awiyah said: “When he was overcome by sickness” – “Bilal رضی اللہ عنہ came to tell him that it was time for prayer. He said, ‘Tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer.’ We said: ‘O Messenger of Allah! Abu Bakr رضی اللہ عنہ is a tender-hearted man, and when he takes your place he will weep and not be able to do it. Why do you not tell ‘Umar رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer?’ He said: ‘Tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer; you are (like) the female companions of Yusuf.’” She said: “So we sent word to Abu Bakr رضی اللہ عنہ, and he led the people in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel a little better, so he came out to the prayer, supported by two men with his feet making lines along the ground. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ realized that he was there, he wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured to him to stay where he was. Then (the two men) brought him to sit beside Abu Bakr رضی اللہ عنہ , and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was following the lead of the Prophet (ﷺ) and the people were following Abu Bakr رضی اللہ عنہ .”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابو معاویہ اور وکیع نے العمش کی سند سے بیان کیا اور ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے ( ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے ) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ( تو بہتر ہو ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) told Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer when he was sick, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ used to lead them in prayer. Then the Messenger of Allah (ﷺ) began to feel a little better, so he came out, and saw Abu Bakr رضی اللہ عنہ leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him, he stepped back, but the Messenger of Allah (ﷺ) gestured to him to stay where he was. Then the Messenger of Allah (ﷺ) sat beside Abu Bakr رضی اللہ عنہ . Abu Bakr رضی اللہ عنہ was following the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ), and the people were following the prayer of Abu Bakr رضی اللہ عنہ .”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے۔
It was narrated that Salim bin ‘Ubaid رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) fainted when he was sick, then he woke up and said: ‘Has the time for prayer come?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘Tell Bilal رضی اللہ عنہ to call the Adhan, and tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer.’ Then he fainted, then he woke up and said: ‘Has the time for prayer come?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘Tell Bilal to call the Adhan, and tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer.’ Then he fainted, then he woke up and said: ‘Has the time for prayer come?’ They said: ‘Yes.’ He said: ‘Tell Bilal رضی اللہ عنہ to call the Adhan, and tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer.’ ‘Aishah رضی اللہ عنہا said: ‘My father is a tender-hearted man, and if he stands in that place he will weep and will not be able to do it. If you told someone else to do it (that would be better).’ Then he fainted, then woke up and said: ‘Tell Bilal رضی اللہ عنہ to call the Adhan, and tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer. You are (like) the female companions of Yusuf.’ So Bilal رضی اللہ عنہ was told to call the Adhan and he did so, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was told to lead the people in prayer, and he did so. Then the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, and he said: ‘Find me someone I can lean on.’ Barirah رضی اللہ عنہا and another man came, and he leaned on them. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ saw him, he started to step back, but (the Prophet (ﷺ)) gestured him to stay where he was. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and sat beside Abu Bakr رضی اللہ عنہ, until Abu Bakr رضی اللہ عنہ finished praying. Then the Messenger of Allah (ﷺ) passed away.”
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن داؤد نے اپنے گھر والی کتاب سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں سلمہ بن نوبیت نے نعیم بن ابی ہند سے اور نوبیط بن شریطِ کی سند سے خبر دی, سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے ( تو بہتر ہوتا ) ! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر ( مسجد جا سکوں ) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill with what would be his final illness, he was in the house of ‘Aishah رضی اللہ عنہا . He said: ‘Call ‘Ali for me.’ ‘Aishah رضی اللہ عنہا said: ‘O Messenger of Allah, should we call Abu Bakr رضی اللہ عنہ for you?’ He said: ‘Call him.’ Hafsah رضی اللہ عنہا said: ‘O Messenger of Allah, should we call ‘Umar رضی اللہ عنہ for you?’ He said: ‘Call him.’ Ummul-Fadl said: ‘O Messenger of Allah, should we call Al-‘Abbas for you?’ He said: ‘Yes.’ When they had gathered, the Messenger of Allah (ﷺ) lifted his head, looked and fell silent. ‘Umar رضی اللہ عنہ said: ‘Get up and leave the Messenger of Allah (ﷺ).’ Then Bilal رضی اللہ عنہ came to tell him that the time for prayer had come, and he said: ‘Tell Abu Bakr رضی اللہ عنہ to lead the people in prayer.’ ‘Aishah رضی اللہ عنہا said: ‘O Messenger of Allah, Abu Bakr رضی اللہ عنہ is a soft and tender-hearted man, and if he does not see you, he will weep and the people will weep with him. If you tell ‘Umar to lead the people in prayer (that would be better).’ Abu Bakr رضی اللہ عنہ went out and led the people in prayer, then the Messenger of Allah (ﷺ) felt a little better, so he came out, supported by two men, with his feet making lines along the ground. When the people saw him, they said: ‘Subhan-Allah,’ to alert Abu Bakr رضی اللہ عنہ. He wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured him to stay where he was. Then the Messenger of Allah (ﷺ) came and sat on his right. Abu Bakr رضی اللہ عنہ stood up and he was following the lead of the Prophet (ﷺ), and the people were following the lead of Abu Bakr رضی اللہ عنہ. Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said; ‘And the Messenger of Allah (ﷺ) started to recite from where Abu Bakr رضی اللہ عنہما had reached.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے اسرائیل کی سند سے، ابواسحاق سے، ارقم بن شرحبیل کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلمل اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی ( رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: بلا دو ، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ( تو بہتر ہو ) ، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے ۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا۔
Hamzah bin Mughirah bin Shu’bah narrated that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind (on a journey) and we reached the people when ‘Abdur Rahman bin ‘Awf رضی اللہ عنہ had already led them in one Rak’ah of the prayer. When he realized that the Prophet (ﷺ) was there, he wanted to step back, but the Prophet (ﷺ) gestured to him that he should complete the prayer. He said: ‘You have done well, do the same in the future.’”
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، انہوں نے حمید کی سند سے، وہ بکر بن عبداللہ سے، حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ نے اپنے والد سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں ) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and some of his Companions came to visit him. The Messenger of Allah (ﷺ) performed prayer while sitting down, and they prayed behind him standing up. He gestured them to sit down, and when he finished he said: ‘The Imam is appointed to be followed. When he bows, then bow; when he stands up again, then stand up, and if he prays sitting down then pray sitting down.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، وہ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) fell from his horse and he suffered some lacerations on his right side. We went to visit him and the time for prayer came. He led us in prayer sitting down, and we prayed behind him sitting down. When he finished the prayer he said: “The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then pray sitting down.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، زہری کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami’ Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; if he prays standing, then pray standing, and if he prays sitting down then pray sitting down.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، وہ عمر بن ابی سلمہ سے اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے، تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد» کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) fell ill, and we prayed behind him while he was sitting down, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was saying the Takbir so that the people could hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. When he had said the Salam, he said: ‘You were about to do the action of the Persians and Romans, who remain standing while their kings are seated. Do not do that. Follow the lead of your Imam; if he prays standing, then pray standing, and if he prays sitting down, then pray sitting down.’”
ہم سے محمد بن رومح المصری نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے ابو الزبیر سے خبر دی، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو ۔
Sa’d bin Tariq said:
“I said to my father: ‘O my father! You prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and behind Abu Bakr, ‘Umar and ‘Uthman رضی اللہ عنہم , and behind ‘Ali رضی اللہ عنہ here in Kufah for about five years. Did they recite Qunut in Fajr?’ He said: ‘O my son! That is an innovation.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس، حفص بن غیاث اور یزید بن ہارون نے بیان کیا, ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ
میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے ۔
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) was forbidden to recite Qunut in Fajr.”
ہم سے حاتم بن بکر الدبی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن یعلیٰ زنبور نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن نافع سے اپنے والد سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کر دیا گیا۔