Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
‘Ali bin Zaid bin Jud’an said:
“I heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ say: ‘The Mu ’adh-dhin would call the Adhan during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and one would think that it was the Iqamah because there were so many people who stood and performed the two Rak’ah before the Maghrib.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: میں نے علی بن زید بن جدعان کو کہتے سنا
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ,رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet (ﷺ) used to pray the Maghrib, then he would come back to my house and pray two Rak’ah.”
ہم سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے خالد الحذی کی سند سے اور عبداللہ بن شقیق کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔
It was narrated that Rafi’ bin Khadij رضی اللہ عنہ said:
“We came to the Messenger of Allah (ﷺ) with Banu ‘Abdul-Ashhal, and he led us in praying the Maghrib in our mosque. Then he said: ‘Pray these two Rak’ah in your houses.’”
ہم سے عبد الوہاب بن ضحاک نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، عاصم بن عمر بن قتادہ کی سند سے، محمود بن لبید نے بیان کیا, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عبدالاشہل ( قبیلہ ) میں آئے، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی، پھر فرمایا: یہ دونوں رکعتیں ( مغرب کے بعد کی سنتیں ) اپنے گھروں میں پڑھو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
For the two Rak’ah after Maghrib, the Prophet (ﷺ) used to recite: “Say: O you disbelievers!” [Al-Kafirun (109)] and “Say: He is Allah the One.” [Al- Ikhlas (112)]
ہم سے احمد بن الازہر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن المومل بن الصباح نے بیان کیا، کہا: ہم سے بدل بن المحبر نے بیان کیا، دونوں نے کہا: ہم سے عبدالملک بن ولید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عاصم بن بدالہ نے بیان کیا، وہ ابوذر اور ابوذر کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever prays six Rak’ah after the Maghrib and does not say anything bad in between them, will have a reward equal to the worship of twelve years.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الحسین عکلی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن ابی خثعم الیمامی نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے خبر دی، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اور ان کے درمیان کوئی غلط بات نہ کہے، تو وہ بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائیں گی ۔
It was narrated that Kharijah bin Hudhafah Al-‘Adawi رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) came out to us and said: ‘Allah has increased a prayer for you which is better for you than red camels. (It is) Witr, which Allah has enjoined on you between the ‘Isha’ prayer and the onset of dawn.’”
ہم سے محمد بن رومح المصری نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے، عبداللہ بن راشد زوفی نے عبداللہ بن ابی مرہ الزوفی کی سند سے, خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر کی نماز ہے، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے ۔
‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
“Witr is not definite (obligatory) nor is it like your prescribed prayers. But the Messenger of Allah (ﷺ) prayed Witr, then he said: ‘O people of the Qur’an! Perform Witr, for Allah is Witr* and He loves the odd (numbered).’”
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے ابواسحاق کی سند سے اور عاصم بن ضمرہ السلولی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق ( عدد ) کو پسند فرماتا ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Allah is Witr and He loves the odd (numbered), so perform Witr, O people of the Qur’an.” A Bedouin said: ‘What is the Messenger of Allah (ﷺ) saying?’ He said: ‘That is not for you or your companions.’”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو حفص الابار نے بیان کیا، ان سےالاعماش نے، عمرو بن مرہ سے، وہ ابو عبیدہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ طاق ( یکتا و بے نظیر ) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے ۔
It was narrated that Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Witr and recite: ‘Glorify the Name of your Lord the Most High.’, [Al-A’la (87)] ‘Say: O you disbelievers!” [Al-Kafirun (109)] and ‘Say: Allah is One.”. [Al-Ikhlas (112)]
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو حفص الابار نے بیان کیا، ہم سے الاعمش نے بیان کیا، ان سے طلحہ اور زبید نے، وہ ذر کی سند سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں: «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون»اور «قل هو الله أحد»پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Witr and recite: “Glorify the Name of your Lord the Most High,” [Al-A’la (87)] “Say: O you disbelievers!” [Al-Kafirun (109)] and ‘Say: Allah is One.”. [Al-Ikhlas (112)] Another chain with similar wording.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو احمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے اپنے والد سے اور سعید بن جبیر سے روایت کی ہے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں: «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون»اور «قل هو الله أحد»پڑھتے تھے۔
It was narrated that ‘Abdul-‘Aziz bin Juraij said:
“We asked ‘Aishah what the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Witr. She said: ‘He used to recite: “Glorify the Name of your Lord the Most High,” [Al-A’la (87)] in the first Rak’ah, ‘Say: “O disbelievers!’” [Al- Kafirun (109)] in the second Rak’ah, and ‘Say: Allah is One’ in the third and the Mu’awwidhatain (Chapter 113, 114).’”
ہم سے محمد بن الصباح اور ابو یوسف الرقی محمد بن احمد الصیدالانی نے بیان کیا: ہم سے محمد بن سلمہ نے خصیف کی سند سے بیان کیا, عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ
ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں: «سبح اسم ربك الأعلى»دوسری میں«قل يا أيها الكافرون»اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray (voluntary prayers) at night two by two, and he would pray one Rak’ah of Witr.”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ انس بن سیرین سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
Abu Mijlaz narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Night prayers are to be offered two by two, and Witr is one Rak’ah.’ I said: ‘What do you think if I become drowsy and I want to sleep?’ He said: ‘Put “what do you think” up there with that star? (i.e., don’t think about it at all).’ I raised my head and saw As- Simak.* He repeated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, ‘Night prayers are to be offered two by two, and Witr is one Rak’ah, before dawn.’”
ہم سے محمد بن عبد الملک بن ابی الشوارب نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عاصم نے ابومجلز کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے ، ابومجلز ( لاحق بن حمید ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے، اگر میں سو جاؤں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ۱؎ چمک رہا تھا، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے ۔
A man asked Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما :
“How should I perform Witr?” He said: “Pray Witr with one Rak’ah.” He said: “I am afraid that the people will say that I am cutting the prayer short.” He said: “The Sunnah of Allah and His Messenger.” Meaning “This is the Sunnah of Allah and His Messenger.”
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم الدمشقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، کہا: ہم سے المطلب بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا:ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا
میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو «بتیراء» ( دم کٹی نماز ) کہیں گے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to say Taslim after every two Rak’ah, and he would perform Witr with one Rak’ah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، ابن ابی ذہب کی سند سے، زہری نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔
It was narrated that Al-Hasan bin ‘Ali رضی اللہ عنہما said:
“My grandfather, the Messenger of Allah (ﷺ), taught me some words to say in Qunut of Witr: Allahumma ‘afini fiman ‘afait, wa tawallani fiman tawallait, wahdini fiman hadait, wa qini sharra ma qadait, wa barik li fima a’tait. Innaka taqdi wa la yuqda ‘alaik, innahu la yudhillu man walait. Subhanaka rabbana tabarakta wa ta’alait (O Allah, pardon me along with those whom You have pardoned, be an ally to me along with those whom You are an ally to, guide me along with those whom You have guided, protect me from the evil that You have decreed, and bless for me that which You have bestowed. For verily You decree and none can decree over You. He whom You support can never be humiliated. Glory is to You, our Lord, You are Blessed and Exalted).”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے شر یک نے بیان کیا، وہ ابواسحاق کی سند سے، برید بن ابی مریم نے ابو حوراہ رضی اللہ عنہ سے, حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جن کو میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں: «اللهم عافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت واهدني فيمن هديت وقني شر ما قضيت وبارك لي فيما أعطيت إنك تقضي ولا يقضى عليك إنه لا يذل من واليت سبحانك ربنا تباركت وتعاليت» اے اللہ! مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت بخشی ہے، اور میری سرپرستی کر ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے زمرے میں جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، اور میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے، پس جو تو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چل سکتا، اور جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو پاک، بابرکت اور بلند ہے ۔
It was narrated from ‘Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to say at the end of Witr: “Allahumma inni a’udhu biridaka min sakhatika, wa a’udhu bimu’afatika min ‘uqubatika, wa a’udhu bika minka, la uhsi thana’an ‘alaika, Anta kama athnaita ‘ala nafsika (O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and I seek refuge in Your forgiveness from your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot enumerate Your praise, You are as You have praised Yourself).”
ہم سے ابو عمر حفص بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ہشام بن عمرو فزاری نے بیان کیا، وہ عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام المخزومی کی سند سے, علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) did not raise his hands in any of his supplications except when praying for rain (Istisqa’), when he raised his hands so high that the whiteness of his armpits could be seen.
اسے نصر بن علی الجھضمی نے روایت کیا ہے، یزید بن زریع نے روایت کیا ہے، اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ کی سند سے روایت کیا ہے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بھی دعا میں اپنے ہاتھ ( مبالغہ کے ساتھ ) نہیں اٹھاتے تھے، البتہ آپ استسقاء میں اپنے ہاتھ اتنا اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When you call upon Allah, then do so with the palms of your hands (upwards). Do not do so with the back of your hands (upwards). And when you finish, then wipe your face with them.’”
ہم سے ابو کریب اور محمد بن الصباح نے بیان کیا: ہم سے عائذ بن حبیب نے صالح بن حسان الانصاری کی سند سے اور محمد بن کعب القرظی کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کا باطن منہ کی طرف کر کے دعا کرو، ان کے ظاہری حصہ کو منہ کی طرف نہ کرو، اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو دونوں ہتھیلیاں اپنے چہرہ پر پھیر لو ۔
It was narrated from Ubayy bin Ka’b رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray Witr and he would recite Qunut before Ruku’.
ہم سے علی بن میمون رقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے مقلد بن یزید نے سفیان کی سند سے، انہوں نے زبید ال یمی سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، اپنے والد سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔