Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) prayed, and he added or omitted something.” (One of the narrators) Ibrahim said: “The confusion stems from me (i.e., he was not sure which it was).” “It was said to him: ‘O Messenger of Allah! Has something been added to the prayer?’ He said: ‘I am only human, I forget just as you forget. If anyone forgets, let him perform two prostrations when he is sitting (at the end).’ Then the Prophet (ﷺ) turned and prostrated twice.”
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مشیر نے الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کر دیا، ( ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کچھ زیادتی کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔
‘Iyad narrated that:
He asked Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ : “One of us prays and he does not know how many (Rak’ah) he has prayed.” He said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When anyone of you prays and does not know how many he has prayed, let him perform two prostrations while he is sitting.’”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ہشام کی سند سے یحییٰ نے بیان کیا, مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عیاض نے بیان کیا
اس نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“(Once) the Prophet (ﷺ) prayed Zuhr with five Rak’ah, and it was said to him: ‘Has something been added to the prayer?’ He said: ‘What is that?’ They told him, and he turned back towards the Qiblah and performed two prostrations.”
ہم سے محمد بن بشار اور ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے الحکم نے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے، اور عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ آپ سے کہا گیا ( کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے.
It was narrated from Ibn Buhainah رضی اللہ عنہ :
“The Prophet (ﷺ) offered prayer, I think it was the ‘Asr, and in the second Rak’ah he stood up before he sat. Before he said the Salam, he prostrated twice.”
ہم سے عثمان، ابوبکر، ابو شیبہ کے بیٹوں اور ہشام بن عمار نے بیان کیا, ہم سے سفیان بن عیینہ نے الزہری کی سند سے اور العرج کی سند سے بیان کیا, ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman Al-A’raj that:
Ibn Buhainah رضی اللہ عنہ told him that the Prophet (ﷺ) stood up in the second Rak’ah of Zuhr and forgot to sit. When he had finished his prayer, and before he said the Salam, he performed the two prostrations for forgetfulness (Sahw) and said the Salam.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابن نمیر، ابن فضیل اور ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا اور ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابو خالد الاحمر، یزید بن ہارون اور ابو معاویہ نے بیان کیا، وہ سب یحییٰ بن سعید کی سند سے, عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ
ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا ۔
It was narrated that Mughirah bin Shu’bah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you stands after two Rak’ah, if he has not yet stood up fully, let him sit down again, but if he has stood up fully, then let him not sit down, and let him perform two prostrations for forgetfulness (Sahw).’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، جابر رضی اللہ عنہ سے, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے ۔
It was narrated that ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If anyone of you is uncertain as to whether he has prayed one or two Rak’ah, let him assume it is one. If he is uncertain as to whether he has prayed two or three, let him assume it is two. If he is uncertain as to whether he has prayed three or four, let him assume it is three. Then let him complete what is left of his prayer, so that the doubt will be about what is more. Then let him prostrate twice while he is sitting, before the Taslim (saying the Salam).’”
ہم سے ابویوسف الرقی محمد بن احمد الصیدالانی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن اسحاق کی سند سے، مکحول کی سند سے، کریب کی سند سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے, عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، ( کیونکہ وہ یقینی ہے ) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you is uncertain about his prayer, let him put aside uncertainty and act upon that which is certain. When he has made sure his prayer is complete, then let him prostrate twice. Then if his prayer was complete, that (extra) Rak’ah will be counted as voluntary, and if his prayer was lacking, that Rak’ah will complete his prayer, and the two prostrations will rub the Satan’s nose in the dust.’”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، انہوں نے ابن عجلان کی سند سے، زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہو جائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے ۔
It was narrated that ‘Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) offered prayer, and I am not sure whether he did something extra or omitted something. He asked, and we told him, so he turned to face the Qiblah and prostrated twice, then he said the Salam. Then he turned to face us and said: ‘If any new command has been revealed concerning the prayer, I would certainly have told you. But I am only human and I forget and you forget. If I forget, then remind me. And if anyone of you is uncertain about the prayer, let him do what is closest to what is correct, then complete the prayer, say the Salam and prostrate twice.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ منصور کی سند سے، شعبہ نے کہا: انہوں نے مجھے لکھا اور میں نے اسے پڑھ کر سنایا، انہوں نے کہا: مجھے ابراہیم نے علقمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کر دی یا کمی کر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے ۔
It was narrated that ‘Abdullah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘If anyone of you is uncertain about his prayer, let him try to do what is correct then let him prostrate twice.’” Tanafisi said: This is the basic rule, and no one is able to reject it.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے مسعر کی سند سے، منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے , عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں شک کرے، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے، پھر دو سجدے کرے ۔ طنافسی کہتے ہیں: یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کر سکتا ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) forgot and said the Taslim after two Rak’ah. A man who was called Dhul-Yadain said to him: ‘O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget?’ He said: ‘It has not been shortened and I did not forget.’ He said: ‘But you prayed two Rak’ah.’ He said: ‘Is what Dhul-Yadain رضی اللہ عنہ says true?’ They said: ‘Yes.’ So he went forward and performed two Rak’ah and said the Salam, then he prostrated twice for prostrations of forgetfulness.
ہم سے علی بن محمد، ابو کریب اور احمد بن سنان نے بیان کیا: ہم سے ابو اسامہ نے عبید اللہ بن عمر سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) led us in one of the afternoon prayers, and he prayed two Rak’ah, then he said the Salam. Then he stood up and went to a piece of wood in the mosque, and leaned against it. Those who were in a hurry left the mosque, saying that the prayer had been shortened. Among the people were Abu Bakr and ‘Umar رضی اللہ عنہما , but they dared not say anything. Among the people there was also a man with long hands who was called Dhul- Yadain. He said: ‘O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget?’ He said: ‘It has not been shortened and I did not forget.’ He said: ‘But you prayed two Rak’ah.’ He said: ‘Is what Dhul- Yadain says true?’ They said: ‘Yes.’ So he went forward and performed two Rak’ah and said the Salam, then he prostrated twice, and then he said the Salam again.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے اور ابن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء ( یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں تو انہوں نے کہا: آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ ، تو لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا ۔
It was narrated that ‘Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam after three Rak’ah for ‘Asr, then he stood up and went into the apartment. Khirbaq رضی اللہ عنہ , a man with big hands, stood up and called out: ‘O Messenger of Allah! Has the prayer been shortened?’ He came out angrily, dragging his lower garment, and asked about it, and was told (what had happened). So he performed the Rak’ah that he had omitted, then he said the Salam, then he prostrated twice and said the Salam again.”
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور احمد بن ثابت الجہدری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد الحذا نے بیان کیا، ابوقلابہ سے اور ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق ( رضی اللہ عنہ ) کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The Satan comes to any one of you while he is praying and comes between him and his soul, until he does not know whether he as added something or omitted something. If that happens, then he should prostrate twice before the Salam, then he should say the Salam.”
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے الزہری نے ابوسلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The Satan comes between the son of Adam and his soul, and he does not know how many Rak’ah he has prayed. If a person notices that, then let him prostrate twice before he says the Salam.
ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سلمہ بن صفوان بن سلمہ نے ابو سلمہ کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ۔
It was narrated from ‘Alqamah that:
Ibn Mas’ud رضی اللہ عنہ prostrated twice for the prostrations of forgetfulness after the Salam, and he mentioned that the Prophet (ﷺ) did that.”
ہم سے ابوبکر بن خلاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، منصور کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے, علقمہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے۔
It was narrated that Thawban رضی اللہ عنہ said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘For every mistake there are two prostrations, after saying the Salam.’”
ہم سے ہشام بن عمار اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا: ہم سے اسماعیل بن عیاش نے عبید اللہ بن عبید کی سند سے، زہیر بن سالم الانسی کی سند سے، عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر کی سند سے, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) came out to pray and said the Takbir, then he gestured to them to wait. He went and took a bath, and his head was dripping with water while he led them in prayer. When he finished he said: ‘I came out to you in a state of sexual impurity, and I forgot until I had started to pray.’”
ہم سے یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن موسیٰ تیمی نے بیان کیا، انہوں نے اسامہ بن زید کی سند سے، انہوں نے اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید کی سند سے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا ۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever vomits, has a nosebleed, belches, or emits prostatic fluid, should stop praying; perform ablution, then resume his prayer, and while he is in that state he should not speak.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے الہیثم بن خارجہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے ۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “When anyone of you performs prayer and commits Hadath, (passing wind) let him take hold of his nose, then leave.” Another chain with similar wording.
ہم سے عمر بن شبہ بن عبیدہ بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی مقدمی نے بیان کیا، وہ ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے ۔