Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
‘Abbas bin Sahl As-Sa’di رضی اللہ عنہ said:
“Abu Humaid, Abu Usaid As-Sa’di, Sahl bin Sa’d, and Muhammad bin Maslamah رضی اللہ عنہم came together and spoke about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). Abu Humaid said: ‘I am the most knowledgeable of you about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and said Allahu Akbar, and raised his hands, then he raised them when he said Allah u Akbar for Ruku’, then he stood up and raised his hands, and stood straight until every bone had returned to its place.’”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عامر نے بیان کیا، ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا,عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابو حمید ساعدی، ابواسید ساعدی، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع کے لیے «ألله أكبر» کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ۔
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib رضی اللہ عنہ said:
“When the Prophet (ﷺ) stood up to offer a prescribed prayer, he said Allahu Akbar and raised his hands until they were parallel to his shoulders. When he wanted to bow he did likewise; when he raised his head from bowing he did likewise; and when he stood up after the two prostrations he did likewise.”
ہم سے عباس بن عبد العظیم العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن داؤد ابو ایوب الہاشمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الزناد نے بیان کیا، موسیٰ بن عقبہ سے، عبداللہ بن الفضل کی سند سے، انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے,عبید اللہ بن ابی رافع کی روایت سے,علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب دو سجدوں ( یعنی رکعتوں کے بعد ) اٹھتے تو اسی طرح کرتے۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands at every Takbir (saying Allahu Akbar).
ہم سے ایوب بن محمد الہاشمی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ریاح نے بیان کیا، عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to raise his hands when he entered prayer, and when he bowed in Ruku’.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، کہا: ہم سے حمید نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ۔
It was narrated that Wa’il bin Hujr said:
“I said: ‘I will look at the Messenger of Allah (ﷺ) and see how he performs the prayer.’ He stood up and faced the Qiblah, and raised his hands until they were parallel to his ears. When he bowed, he raised them likewise, and when he raised his head from Ruku’, he raised them likewise.”
ہم سے بشر بن معاذ الضریر نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن کلیب نے اپنے والد سے بیان کیا, وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، ( چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، قبلے کی طرف رخ کیا، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا، پھر جب رکوع کیا تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ( یعنی رفع یدین کیا ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ۔
It was narrated from Abu Zubair that
Jabir bin ‘Abdullah رضی اللہ عنہما would raise his hands when he began the prayer, and when he bowed, and when he raised (his head) from Ruku’ he would do likewise, and he said: “I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing that.” (One of the narrators) said: “Ibrahim bin Tahman (one of the narrators) raised his hands to his ears.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا,ابوالزبیر سے روایت ہے کہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع کے لیے جاتے، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم بن طہمان ( راوی حدیث ) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) bowed, he neither raised his head nor lowered it, rather (he did something) between that.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے حسین المعلم کی سند سے، وہ بدیل کی سند سے، وہ ابو الجوزاء کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے ۔
It was narrated that Abu Mas’ud رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘No prayer is acceptable in which a man does not settle his spine when bowing and when prostrating.’”
ہم سے علی بن محمد اور عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے العمش کی سند سے، عمرہ کی سند سے، ابو معمر کی سند سے, ابومسعود (عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۔
It was narrated that ‘Ali bin Shaiban رضی اللہ عنہ
He who was part of a delegation (to the Prophet (ﷺ)) said: “We set out until we came to the Messenger of Allah (ﷺ), and we gave him our oath of allegiance and performed prayer behind him. He glanced out of the corner of his eye at a man who was not settling his spine when he bowed and prostrated. When the Prophet (ﷺ) finished the prayer, he said: ‘O Muslims, there is no prayer for the one who does not settle his spine when bowing and prostrating
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ملازم بن عمرو نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن بدر سے، مجھے عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان نے خبر دی, علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے، وہ کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! اس شخص کی نماز نہیں ہو گی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ۔
It was narrated that Rashid said:
“I heard Wabisah bin Ma’bad رضی اللہ عنہ saying: ‘I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing prayer, and when he bowed he made his back so straight that if water were poured on it, it would have stayed there.
ہم سے ابراہیم بن محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عثمان بن عطا نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے طلحہ بن زید نے بیان کیا، راشد کی سند سے، انہوں نے کہا
میں نے وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ۔
It was narrated that Mus’ab bin Sa’d said:
“I bowed (in prayer) beside my father, and I put my hands between my knees. He struck my hand and said: ‘We used to do that, then we were commanded to put them on the knees.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، وہ زبیر بن عدی کی سند سے, معصب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
میں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے قریب ( نماز پڑھتے ہوئے ) رکوع کیا تو تطبیق کی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں حکم دیا کہ ( ہاتھ ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to bow with his hands on his knees and his upper arms held away from his sides.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے حارثہ بن ابی الرجال نے عمرہ کی سند سے, عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو ( پہلوؤں سے ) دور رکھتے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),” he said: “Rabbana wa lakal-hamd (O our Lord, to You is the praise).”
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی اور یعقوب بن حمید بن کسب نے بیان کیا: ہم سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب کی سند سے، سعید بن المسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہہ لیتے تو «ربنا ولك الحمد» کہتے۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the Imam says: ‘Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),’ say: ‘Rabbana wa lakal-hamd (O our Lord, to You is the praise).’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، زہری کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “When the Imam says: ‘Sami’ Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),’ say: ‘Allahumma, Rabbana wa lakal-hamd (O Allah! O our Lord! To You is the praise).’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کے واسطہ سے، وہ سعید بن مسیب کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو ۔
It was narrated that Ibn Abu Awfa رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head from Ruku’, he said: ‘Sami’ Allahu liman hamidah, Allahumma, Rabbana lakal-hamd, mil’ as-samawati wa mil’ al- ard wa mil’ ma shi’ta min shay’in ba’d (Allah hears those who praise Him. O Allah! O our Lord, to You is the praise as much as fills the heavens, as much as fills the earth and as much as You will after that).’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے الاعمش نے بیان کیا، وہ عبید بن الحسن کی سند سے, عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد»، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے، اور اس کے ہر اس چیز کے بھراؤ برابرجوتواس کے بعد چاہے ۔
It was narrated that Abu ‘Umar رضی اللہ عنہ said:
“I heard Abu Juhaifah رضی اللہ عنہ say: Good fortune was mentioned in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was performing prayer. A man said: ‘so-and-so’s fortune is in horses.’ Another man said: ‘So-and-so’s fortune is in camels.’ Another man said: ‘So-and-so’s fortune is in sheep.’ Another man said: ‘So- and-so’s fortune is in slaves.’ While the Messenger of Allah (ﷺ) was finishing his prayer, he raised his head at the end of the last Rak’ah and said: ‘Allahumma Rabbana lakal-hamd mil’ as-samawati wa mil’ al- ard wa mil’ ma shi’ta min shai’in ba’du. Allahumma la mani’ lima a’taita wa la mu’ti lima mana’ta, wa la yanfa’u dhal-jaddi minkal-jadd (Allah hears those who praise Him. O Allah! O our Lord! To You is the praise as much as fills the heavens, as much as fills the earth and as much as You will after that. O Allah, there is none who can withhold what You give, and none who can give what You withhold, and the good fortune of any fortunate person is to no avail against You).’ The Messenger of Allah (ﷺ) elongated the word Jadd (fortune) so that they would know that it was not as they had said.”
ہم سے اسماعیل بن موسیٰ السدی نے بیان کیا، کہا: ہم سے شریک نے ابو عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ س کو کہتے سنا, لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا، آپ نماز میں تھے، ایک شخص نے کہا: فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے، دوسرے نے کہا: فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے، تیسرے نے کہا: فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے، چوتھے نے کہا: فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لیے تعریف ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے، اے اللہ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں۔
It was narrated from Maimunah رضی اللہ عنہا that:
When the Prophet (ﷺ) prostrated, he would hold his forearms away from his sides, such that if a lamb wanted to pass under his arms, it would be able to do so
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عبید اللہ بن ا لاصم کی سند سے، وہ اپنے چچا یزید بن ا لاصم کی سند سے, ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔
It was narrated from (`Ubaidullah bin `Abdullah) bin Aqram Al-Khuza`i رضی اللہ عنہ that his father said:
“I was with my father on the plain in Namirah, when some riders passed us and made their camels kneel down at the side of the road. My father said to me: ‘Stay with your lambs until I go to those people and see what they want.’ He said: Then he (my father) went out and I came, (i.e. I came near,) then there was the Messenger of Allah (ﷺ), and the time for prayer came so I prayed with them, and I was looking at the whiteness of the armpits of the Messenger of Allah (ﷺ) every time he prostrated.” Ibn Majah said: The people say `Ubaidullah bin `Abdullah, but Abu Bakr bin Abu Shaibah said: The people say `Abdullah bin `Ubaidullah. Muhammad bin Bashshar said: `Abdur-Rahman bin Mahdi, Safwan bin `Eisa and Abu Dawud all said: 'Dawud bin Qais narrated to us, from `Ubaidullah bin `Abdullah bin Aqram, from his father, from the Prophet (ﷺ).' With similar wording.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، داؤد بن قیس سے، عبید اللہ بن عبد اللہ بن اقرم الخزاعی رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد کی سند سے، انہوں نے کہا
میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں ( کہ کون لوگ ہیں ) ، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ «عبیداللہ بن عبداللہ»کہتے ہیں اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ «عبداللہ بن عبیداللہ» کہتے ہیں۔
It was narrated that Wa’il bin Hujr رضی اللہ عنہ said:
“I saw the Prophet (ﷺ) when he prostrated and put his knees on the ground before his hands, and when he stood up after prostrating, he took his hands off the ground before his knees.”
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں شریک نے عاصم بن کلیب سے اپنے والد سے, وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ۔