Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When anyone of you performs prayer, let him put something in front of him. If he cannot find anything then let him put a stick. If he cannot find one, then let him draw a line. Then it will not matter if anything passes in front of him.”
ہم سے بکر بن خلف ابوبشر نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن امیہ نے بیان کیا۔ اور ہم سے عمار بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے اسماعیل بن امیہ سے اور ابو عمرو بن محمد بن عمرو بن ہریث کی سند سے بیان کیا, اپنے دادا حریث بن سلیم کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
Busr bin Sa’eed said:
“They sent me to Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہ to ask him about passing in front of one who is performing prayer. He told me that the Prophet (ﷺ) said: ‘Waiting for forty is better than passing in front of one who is performing prayer.’” (One of the narrators) Sufyan said: I do not know if he meant forty years, months, days, or hours.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ سالم ابو النضر کی سند سے, بسر بن سعید کہتے ہیں کہ
لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے ( نمازی ) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چالیس ... تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ سفیان بن عیینہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔
It was narrated from Busr bin Sa’eed that:
Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہ sent word to Abu Juhaim Al-Ansari رضی اللہ عنہ asking him: “What did you hear from the Prophet (ﷺ) about a man when he is performing prayer?” He said: “I heard the Prophet (ﷺ) saying: ‘If anyone of you knew (how great is the sin involved) when he passed in front of his brother who is performing prayer, then waiting for forty’,” (one of the narrators) said: “I do not know if he meant forty years, forty months, or forty days, ‘would be better for him than that.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے سالم ابو النضر کی سند سے بیان کیا, بسر بن سعید سے روایت ہے کہ
زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس ... تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said: ‘If anyone of you knew (how great is the sin involved) in passing in front of his brother while he is performing prayer, waiting for one hundred years would be better for him than one step that he takes.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن عبدالرحمٰن بن موذیب کے واسطہ سے، اپنے چچا کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت آڑے میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet (ﷺ) was performing prayer at ‘Arafat, and Fadl and I came riding a female donkey. We passed in front of part of the row, then we dismounted and left the donkey, and we came and joined the row.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے.
It was narrated that Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
“The Prophet (ﷺ) was performing prayer in the house of Umm Salamah, and ‘Abdullah or ‘Umar bin Abu Salamah passed in front of him; he gestured his hand, and he went back. Then Zainab bint Umm Salamah passed in front of him, and he gestured his hand, but she kept going. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he said: ‘These (women) are more stubborn.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے اسامہ بن زید کی سند سے اور محمد بن قیس سے جو عمر بن عبدالعزیز کے قصیدہ گو تھے، اپنے والد سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: یہ عورتیں نہیں مانتیں ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “The prayer is severed by a black dog and a woman who has reached the age of menstruation.”
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ہم سے جابر بن زید نے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا اور بالغ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.”
ہم سے زید بن اخزم ابو طالب نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے قتادہ کی سند سے، زرارہ بن اوفی سے اور سعد بن ہشام سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mughaffal رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.”
ہم سے جمیل بن الحسن نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے سعید نے، قتادہ کی سند سے، وہ حسن کی سند سے,عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Samit from Abu Dharr, that:
The Prophet (ﷺ) said: “The prayer is severed by a woman, a donkey, and a black dog, if there is not something like the handle of a saddle in front of a man.” I (‘Abdullah رضی اللہ عنہ) said: “What is wrong with a black dog and not a red one?” He (Abu Dharr رضی اللہ عنہ ) said: ‘I asked the Messenger of Allah (ﷺ) the same question, and he said: “The black dog is a Shaitan (satan).”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے، وہ عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے ۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔
It was narrated that Hasan Al-‘Urani said:
‘Mention was made in the presence of Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما about what severs the prayer. They mentioned a dog, a donkey and a woman. He said: ‘What do you say about kids (young goats)? The Messenger of Allah (ﷺ) was performing prayer one day, when a kid came and wanted to pass in front of him. The Messenger of Allah (ﷺ) preceded it toward the Qiblah. (to tighten the space and prevent it from passing in front of him).’”
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حماد بن زید نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ ابو المعلی نے خبر دی ,حسن عرنی کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ۔
It was narrated from ‘Abdur-Rahman bin Abu Sa’eed رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘When anyone of you performs prayer, let him pray facing towards a Sutrah, and let him get close to it, and not let anyone pass in front of him. If someone comes and wants to pass in front of him, let him fight him, for he is a Shaitan (satan).’”
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ان سے ابن عجلان نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی سعید رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے، اور اس سے قریب کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When anyone of you is performing prayer, he should not let anyone pass in front of him. If he insists then let him fight him, for he has a Qarin (devil-companion) with him.”
ہم سے ہارون بن عبداللہ الحمال اور حسن بن داؤد المنکدیری نے بیان کیا, ہم سے ابن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان کی سند سے صدقہ بن یسار کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی ( شیطان ) ہے ۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے۔
It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا :
“The Prophet (ﷺ) used to pray at night, and I was laying between him and the prayer direction, as a (body for a) funeral horizontally.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، زہری نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح آڑے لیٹی ہوتی تھی.
It was narrated from Zainab bint Umm Salamah رضی اللہ عنہا that her mother said that:
Her bed was in front of the place where the Messenger of Allah (ﷺ) prostrated.
ہم سے بکر بن خلف اور سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد الحذا نے بیان کیا، انہوں نے ابو قلابہ سے، وہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے، ان کی والدہ سے، انہوں نے کہا
ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔
Maimunah رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ), said:
“The Prophet (ﷺ) used to perform prayer when I was opposite to him, and his garment would sometimes touch me when he prostrated.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عباد بن العوام نے شیبانی کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade performing prayer behind one who is engaged in conversation or one who is sleeping.”
ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابوالمقدم نے محمد بن کعب کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات چیت کرنے والے، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) used to teach us not to bow or prostrate before the Imam; when he says the Takbir then say the Takbir, and when he prostrates, you should prostrate.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور ( فرماتے ) جب امام «اللہ اکبر»کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Does not the one who raises his head before the Imam fear that Allah may turn his head into the head of a donkey?’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، انہوں نے العمش کی سند سے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے ۔
It was narrated that Abu Musa رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I have gained weight, so when I bow, then bow, and when I stand up, then stand up, and when I prostrate, then prostrate. I should never find anyone preceding me in bowing or prostration.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو بدر شجاع بن الولید نے بیان کیا، وہ زیاد بن خیثمہ کی سند سے، وہ ابواسحاق سے، اندارم سے، سعید بن ابی بردہ سے، وہ ابی بردہ سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے ۔