Establishing the Prayer and the Sunnah Regarding Them
كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها
Chapter 7
‘Abdur-Rahman bin ‘Ali bin Shaiban narrated that his father, ‘Ali bin Shaiban رضی اللہ عنہ , who was part of the delegation, said:
“We set out until we came to the Prophet (ﷺ). We gave him our oath of allegiance and performed prayer behind him. Then we offered another prayer behind him. He finished the prayer and saw a man on his own, praying behind the row.” He said: “The Prophet of Allah (ﷺ) stood beside him and when he finished he said: ‘Repeat your prayer; there is no prayer for the one who is behind the row.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ملازم بن عمرو نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بدر نے، مجھ سے عبدالرحمٰن بن علی بن شیبان نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور (وہ وفد میں سے تھے) کہتے ہیں کہ
ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔
It was narrated that Hilal bin Yasaf رضی اللہ عنہ said:
“Ziyad bin Abu-Ja’d took me by the hand and made me stand near an old man at Raqqah, whose name was Wabisah bin Ma’bad رضی اللہ عنہ. He said: ‘A man performed prayer behind the row on his own, and the Prophet (ﷺ) commanded him to repeat the prayer.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، حصین رضی اللہ عنہ سے, ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا، جن کو وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں نے کہا: ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
It was narrated that ‘Aishah رضی اللہ عنہا said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Allah and His angels send blessings upon the right side of the rows.’”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ بن ہشام نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسامہ بن زید نے، وہ عثمان بن عروہ سے، انہوں نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں ۔
It was narrated that Bara’ رضی اللہ عنہ said:
“When we performed prayer behind the Messenger of Allah (ﷺ) (One of the narrators) Mis’ar said: ‘One of the things we liked, or one of the things I liked’ ‘was to stand to his right.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، مسعر کی سند سے، ثابت بن عبید نے ابن براء بن عازب کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے یا میں پسند کرتا کہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہوں۔مسعر نے کہا: ’’ہمیں جو چیز پسند تھی، یا جو چیز مجھے پسند آئی ان میں سے ایک‘‘ اس کے دائیں طرف کھڑا ہونا تھا۔‘‘
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“It was said to the Prophet (ﷺ): ‘The left side of the mosque has been abandoned. The Prophet (ﷺ) said: “Whoever frequents the left side of the mosque, two Kifl* of reward will be recorded for him.”
ہم سے محمد بن ابی الحسین ابو جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عثمان الکلابی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمرو رقی نے بیان کیا، انہوں نے لیث بن ابی سالم سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: مسجد کا بایاں جانب خالی ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا، اسے دہرا اجر ملے گا ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) finished Tawaf around the House (the Ka’bah), he came to Maqam of Ibrahim (the Station of Ibrahim). ‘Umar رضی اللہ عنہ said: ‘O Messenger of Allah, this is the Station of our father Ibrahim about which Allah said: “And take you (people) the Maqam of Ibrahim as a place of prayer.’” [2:125] (one of the narrators) Al-Walid said: "I said to Malik: 'Is this he recited it: "And take you (people)"?' He said: 'Yes.' "
ہم سے عباس بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے مالک بن انس نے، جعفر بن محمد سے اپنے والد سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ ( خانہ کعبہ ) کے طواف سے فارغ ہو گئے تو مقام ابراہیم پر آئے، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى»، یعنی: ( مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ) ۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا یہ انہوں نے اسی طرح ( امر کے صیغہ کے ساتھ ) «واتخذوا» ( خاء کے زیر کسرے کے ساتھ ) پڑھا؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں.
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ told that:
‘Umar رضی اللہ عنہ said: “I said: ‘O Messenger of Allah (ﷺ), why do you not take the Maqam of Ibrahim as a place of prayer?’ Then the following was revealed: ‘And take you (people) the Maqam of Ibrahim as a place of prayer.’” [2:125]
ہم سے محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، حمید الطویل کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں ( تو بہتر ہو ) ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ( سورة البقرة: 125 ) ۔
It was narrated that Bara’ رضی اللہ عنہ said:
“We prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) facing towards Baitul-Maqdis (Jerusalem) for eighteen months, then the Qiblah was changed to the Ka’bah two months after the Prophet (ﷺ) entered Al-Madinah. When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed towards Baitul-Maqdis, he would often lift his face towards the heavens, and Allah knew what was in the heart of His Prophet and how he longed to face the Ka’bah (during prayer). Jibril appeared (in the sky), and the Messenger of Allah (ﷺ) started watching him as he was descending between the heavens and the earth, waiting to see what he would bring. Then Allah revealed the words: ‘Verily, We have seen the turning of your face towards the heaven. Surely, We shall turn you to a Qiblah that shall please you, so turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Haram (at Makkah). And wherever you people are, turn your faces (during prayer) in that direction.’ [2:144] Then someone came to us and said: ‘The Qiblah has been changed to the Ka’bah.’ We had performed two Rak’ah facing towards Jerusalem. And we were bowing. So we turned around, and we continued our prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘O Jibril! What about our prayer facing towards Baitul- Maqdis?’ Then Allah revealed the words: “And Allah would never make your faith to be lost.” [2:143]
ہم سے علقمہ بن عمرو دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں، ایک بار جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام کیا حکم لاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «قد نرى تقلب وجهك في السماء» ( سورۃ البقرہ: ۱۴۴ ) ، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے، اور رکوع میں تھے، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھر گئے، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہو گا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «وما كان الله ليضيع إيمانكم» اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں ( سورة البقرة: 143 ) ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘What is between the east and the west is the Qiblah (prayer direction).’”*
ہم سے محمد بن یحییٰ ازدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن یحییٰ النیسابوری نے بیان کیا، کہا: ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معشر نے، محمد بن عمرو کی سند سے، انہوں نے ابو سلمہ کی سند سے ,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When anyone of you enters the mosque, let him not sit down until he performs two Rak’ah.”
ہم سے ابراہیم بن المنذر الحزامی اور یعقوب بن حمید بن کاسب نے بیان کیا: ہم سے ابن ابی فدیک نے کثیر بن زید سے اور المطلب بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے ۔
It was narrated from Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “When one of you enters the mosque, let him perform two Rak’ah before he sits down.”
ہم سے عباس بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، وہ عامر بن عبداللہ بن الزبیر کی سند سے، وہ عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔
It was narrated from Ma’dan bin Abu Talhah Al-Ya’muri that:
‘Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ stood up one Friday to deliver a sermon, or, he delivered a sermon one Friday. He praised Allah, then he said: “O people, you eat two plants that I find are nothing but obnoxious; this garlic and this onion. At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), if a foul odour was detected from a man, I would see him seized by the arm and taken out to Al-Baqi’. Whoever must eat them, let him cook them to death.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی عروبہ نے، وہ قتادہ کی سند سے، وہ سالم بن ابی الجعد الغطفانی کی سند سے, معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: لوگو! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو، اور میں انہیں خبیث اور گندہ سمجھتا ہوں، وہ پیاز اور لہسن ہیں، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کر لے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever eats from this plant; garlic, let him not annoy us with it in this mosque of ours.’” Ibrahim said: My father used to add to it, on the authority of the prophet ﷺ: Leek (Allium) and onion; i.e. he would add to the Hadith of Abu Hurairah رضی اللہ عنہ concerning garlic.
ہم سے ابو مروان عثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے اور سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے ۔ ابراہیم کہتے ہیں: میرے والد سعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں گندنا ( «کراث» ) اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever eats anything from this plant, let him not come to the mosque.’”
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن رجا مکی نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر کی سند سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس پودے ( پیاز و لہسن ) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے ۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) came to the mosque at Quba’ and performed prayer there. Some men of the Ansar came and greeted him. I asked Suhaib رضی اللہ عنہ , who was with him: ‘How did the Messenger of Allah (ﷺ) respond to them?’ He said: ‘He gestured with his hand.’”
ہم سے علی بن محمد الطنافسی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے زید بن اسلم کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، تو میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) sent me on an errand, then I caught up with him while he was performing prayer, and I greeted him. He gestured to me, then when he finished, he called me and said: ‘You greeted me before, but I was performing prayer.’”
ہم سے محمد بن رومح المصری نے لیث بن سعد کی سند سے اور ابو الزبیر کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو مجھے بلایا، اور پوچھا: ابھی تم نے مجھے سلام کیا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ۔
It was narrated that ‘Abdullah said:
“We would greet others during the prayer, and it was said to us: ‘During the prayer one is preoccupied.’”
ہم سے احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، کہا: ہم سے الندر بن شمائل نے بیان کیا، کہا: ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے ابی اسحاق کی سند سے، انہوں نے ابی الاحواص کی سند سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amir bin Rabi’ah رضی اللہ عنہ that his father said:
“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, and the sky was overcast so it was difficult for us to determine the Qiblah. So we performed prayer, and we marked the location.* Later, when the sun reappeared, we realized that we had prayed facing a direction other than the Qiblah. We mentioned that to the Prophet (ﷺ), then the Words were revealed: ‘So wherever you turn there is the Face of Allah.’” [2:115]
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے اشعث بن سعید ابو الربیع السمان نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عبید اللہ نے، وہ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کے واسطہ سے، ان کے والد نے کہا, عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی، آخر ہم نے ( اپنے ظن غالب کی بنیاد پر ) نماز پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے ( سورۃ البقرہ: ۱۱۵ ) نازل فرمائی۔
It was narrated that Tariq bin ‘Abdullah Al-Muharibi رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said: ‘When you perform prayer, do not spit in front of you or to your right, but spit to your left or beneath your feet.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، وہ سفیان سے، منصور نے ربعی بن حراش سے, طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw some sputum in the direction of the Qiblah of the mosque. He turned to the people and said: “What is wrong with one of you that he stands facing Him (meaning his Lord) and spits in front of Him? Would anyone like to be faced by someone who spits in his face? If anyone of you needs to spit, then let him spit to his left, or let him do like this in his garment.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انہوں نے قاسم بن مہران کی سند سے اور ابو رافع کی سند سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا۔