ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عنقریب تم امارت ملنے کی حرص و کوشش کرو گے ، اور روزِ قیامت وہ (تمہارے لیے) باعث ندامت ہو گی ، اس کا ملنا اچھا ہے اور اس کا چھن جانا بُرا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ مجھے عامل (گورنر) کیوں نہیں مقرر فرما دیتے ؟ وہ بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ ابوذر ! تم کمزور آدمی ہو ، جبکہ وہ ایک امانت ہے ، جس شخص نے اسے اس کے حق کے مطابق نہ لیا اور نہ اس کی ذمہ داریوں کو نبھایا تو وہ روزِ قیامت اس شخص کے لیے باعث رسوائی و ندامت ہو گی ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ ابوذر ! میں تمہیں کمزور سمجھتا ہوں ، میں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں وہی تمہارے لیے پسند کرتا ہوں ، تم کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کی سرپرستی قبول کرنا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور میرے دو چچا زاد ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان میں سے ایک نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اللہ نے جن امور پر آپ کو سرپرست بنایا ہے ان میں سے بعض پر ہمیں امیر مقرر فرما دیں ، اور دوسرے شخص نے بھی اسی طرح کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! بے شک ہم اس کام پر کسی ایسے شخص کو امیر نہیں بناتے جو اس کا مطالبہ کرے اور نہ ہی اس کی حرص رکھنے والے شخص کو حکمران بناتے ہیں ۔‘‘ دوسری روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہم اپنے عمل پر کسی ایسے شخص کو عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کی خواہش کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم لوگوں میں سے اس شخص کو بہترین پاؤ گے جو اس امر (حکومت و امارت) کو انتہائی ناپسند کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا نہ ہو جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! تم سب نگہبان ہو اور تم سب اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہو ، حکمران جو لوگوں کا نگہبان ہے وہ اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے ، آدمی اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے ، عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی ذمہ دار ہے اور وہ ان کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے اور وہ اس کے متعلق جواب دہ ہے ۔ سن لو ! تم سب نگہبان ہو اور تم سب اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو حکمران مسلمانوں کے کسی معاملات کا ذمہ دار بنے اور وہ ان سے مخلص نہ ہو اور اسے اسی حالت میں موت آ جائے تو اللہ نے اس پر جنت کو حرام قرار دے دیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ جس بندے کو کسی رعیت کا نگہبان بنائے اور وہ ان کے ساتھ خیر خواہی نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائذ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بدترین نگہبان ، ظالم شخص ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! جو شخص میری امت کا حکمران بنے اور وہ ان پر سختی کرے تو تُو بھی اس پر سختی کر ، اور جس شخص کو میری امت کا حکمران بنایا جائے اور وہ ان پر نرمی کرے تو تُو بھی اس پر نرمی کر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں رحمن کے دائیں طرف نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، اور وہ لوگ اپنے حکم میں ، اپنے اہل خانہ سے اور اپنی رعیت کے معاملات میں انصاف کرتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا اور جس کسی کو خلیفہ مقرر فرمایا تو اس کے دو خصوصی مشیر ہوتے ہیں ، ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اسے اس پر آمادہ کرتا ہے جبکہ ایک مشیر اسے بُرائی کا حکم دیتا ہے اور اسے اس پر آمادہ کرتا ہے اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، قیس بن سعد ؓ کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں وہ مقام تھا جو حکمران کے ہاں کوتوال کا ہوتا ہے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے امور کسی عورت کے سپرد کر دیے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
حارث اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تمہیں پانچ چیزوں : جماعت سے وابستہ رہنے ، سمع و اطاعت ، ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔ اور جس شخص نے بالشت بھر جماعت سے علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار دی ، مگر یہ کہ وہ لوٹ آئے ، اور جس شخص نے جاہلیت کا نعرہ بلند کیا اس کا شمار جہنمیوں میں سے ہو گا ۔ اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور وہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
زیاد بن کسیب عدوی بیان کرتے ہیں ، میں ابوبکرہ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے پاس تھا جبکہ ابن عامر خطبہ دے رہا تھا اور اس نے باریک لباس پہنا ہوا تھا ، (یہ دیکھ کر) ابوبلال ؓ نے کہا : ہمارے امیر کو دیکھو اس نے فاسقوں جیسا لباس پہن رکھا ہے ، ابوبکرہ نے کہا : خاموش ہو جاؤ ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص نے اللہ کے سلطان کی زمین میں اہانت کی تو اللہ اس کی اہانت کرے گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دس افراد کے امیر کو بھی اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ گردن کے ساتھ بندھا ہو گا حتی کہ (اس کا) عدل اسے آزاد کرا دے گا ، یا (اس کا) ظلم اسے ہلاک کرا دے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امراء کے لیے ویل (ہلاکت و تباہی یا جہنم کی ایک وادی) ہے ۔ ناظمین کے لیے ویل ہے اور امانت رکھنے والوں کے لیے ہلاکت ہے ، روزِ قیامت لوگ آرزو کریں گے کہ ان کی پیشانیاں ثریا کے ساتھ معلق ہوتیں وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کرتے رہتے لیکن وہ کسی کام کے ذمہ داری و سرپرستی قبول نہ کرتے ۔‘‘ اور امام احمد نے بھی اسے روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے کہ ان کے بال ثریا کے ساتھ معلق ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کرتے رہتے لیکن انہیں کسی کام کی ذمہ داری نہ سونپی جاتی ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ و احمد ۔
غالب قطان ایک آدمی سے اور وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ناظم کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ناظموں کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ، لیکن (اکثر) ناظم جہنم میں ہوں گے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ میں نادانوں کی امارت سے تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے بعد کچھ امراء ہوں گے ، جو شخص ان کے پاس جائے ان کی کذب بیانی پر ان کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے تو ایسے لوگ مجھ سے نہیں ہیں اور میں ان سے نہیں ہوں اور وہ حوض کوثر پر میرے پاس نہیں آئیں گے ، اور جو شخص ان کے پاس جائے نہ ان کی کذب بیانی پر ان کی تصدیق کرے اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے تو ایسے لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور یہی لوگ حوض پر میرے پاس آئیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی ۔