Back to Mishkat Al-Masabih

The Offices of Commander and Qadi

كتاب الإمارة والقضاء

Chapter 17

Hadith 3701
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: «مَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ من اللَّهِ بُعداً»
Urdu

ابن عباس ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جنگل میں رہنے والا سخت دل ہوتا ہے ۔ شکار کا پیچھا کرنے والا غافل ہوتا ہے اور بادشاہ کے پاس جانے والا فتنے کا شکار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جو شخص بادشاہ کے ساتھ لگا رہتا ہے تو وہ فتنے کا شکار ہو جاتا ہے ، جس قدر کوئی شخص بادشاہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسی قدر اللہ سے دُور ہو جاتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و احمد و النسائی و ابوداؤد ۔

Hadith 3702
sahih
وَعَن المقدامِ بن معْدي كِربَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَفْلَحْتَ يَا قُدَيْمُ إِنْ مُتَّ وَلَمْ تَكُنْ أَمِيرًا وَلَا كَاتبا وَلَا عريفا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

مقدام بن معدی کرب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ازراہ محبت) اس کے کندھوں پر ہاتھ مارا ، پھر فرمایا :’’ قُدیم ! اگر تم امیر ، منشی اور ناظم بنے بغیر فوت ہوئے تو تم کامیاب ہوئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3703
sahih
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ» : يَعْنِي الَّذِي يَعْشُرُ النَّاسَ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد والدارمي
Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ٹیکس وصول کرنے والا (یعنی وہ شخص جو لوگوں سے خلاف شرح ٹیکس وصول کرتا ہے) جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و الدارمی ۔

Hadith 3704
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُمْ عَذَابًا» وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَبْعَدَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ جَائِرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں محبوب تر اور بلند مرتبہ ، عادل حاکم ہو گا اور اس سے دور ، بدترین اور مرتبہ میں پست و ذلیل ظالم حاکم ہو گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔

Hadith 3705
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الْجِهَادِ مَنْ قَالَ كَلِمَةَ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سب سے فضیلت والا جہاد اس شخص کا ہے جو ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3706
sahih
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ
Urdu

امام احمد اور امام نسائی نے اسے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و النسائی ۔

Hadith 3707
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالْأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ. وَإِذَا أَرَادَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْهُ وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی حکمران کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرما دیتا ہے ، اگر وہ بھول جائے تو وہ (وزیر) اسے یاد کرا دیتا ہے اور اگر اسے خود ہی یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے ، اور جب وہ اس کے ساتھ اس کے برعکس ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے ، اگر وہ بھول جائے تو وہ (وزیر) اسے یاد نہیں کراتا ، اور اگر اسے یاد ہو تو پھر وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 3708
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

ابوامامہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو حکمران لوگوں کے عیوب تلاش کرتا رہتا ہے تو وہ انہیں خراب کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3709
sahih
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكَ إِذَا اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
Urdu

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم لوگوں کے عیوب تلاش کرو گے تو تم انہیں خراب کر دو گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3710
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةً مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟» . قُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ قَالَ: «أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلقانِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اس وقت کیا کرو گے جب میرے بعد حکمران اس مال غنیمت کو اپنے پاس ہی رکھ لیں گے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا ، پھر قتال کروں گا حتی کہ آپ سے آ ملوں ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز سے بہتر چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ صبر کرنا حتی کہ تم مجھ سے آ ملو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3711
sahih
عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «الَّذِينَ إِذَا أُعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ وَحَكَمُوا لِلنَّاسِ كحكمِهم لأنفُسِهم»
Urdu

عائشہ ؓ ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو ، روزِ قیامت اللہ عزوجل کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے کون ہوں گے ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ لوگ جنہیں کلمۂ حق (پیش کیا) جاتا ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہیں ، جب اس سے حق بات کہنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے بیان کرتے ہیں اور وہ لوگوں کے لیے وہی فیصلہ کرتے ہیں جو وہ اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 3712
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: ثلاثةٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي: الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ وَحَيْفُ السُّلْطَانِ وَتَكْذيب الْقدر
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق تین چیزوں کا اندیشہ ہے : ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنے ، بادشاہ کا ظلم کرنا اور تقدیر کو جھٹلانا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 3713
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سِتَّةَ أَيَّامٍ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ» فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ»
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھ روز مجھے فرماتے رہے :’’ ابوذر ! جو کچھ تجھے بتایا جا رہا ہے اسے یاد کر لو ۔‘‘ جب اس کے بعد ساتواں روز ہوا تو فرمایا :’’ میں تیرے ظاہری و باطنی امور میں تجھے اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اور جب تو بُرائی کر بیٹھے تو پھر نیکی کر ، اور کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا خواہ تمہارا کوڑا گِر پڑے ، اور امانت نہ رکھ اور دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 3714
sahih
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَلِي أَمْرَ عَشَرَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أتاهُ اللَّهُ عزَّ وجلَّ مغلولاً يومَ القيامةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَهُ إِثْمُهُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةٌ وَآخِرُهَا خِزْيٌ يومَ القيامةِ»
Urdu

ابوامامہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے دس یا اس سے زائد افراد کے امور کی سرپرستی قبول کی تو روزِ قیامت وہ اللہ عزوجل کے حضور اس حال میں پیش ہو گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہو گا ، اس کی نیکی اسے کھول دے گی یا اس کا گناہ اسے ہلاک کر دے گا ۔ امارت کا آغاز ملامت ، اس کا وسط باعث ندامت اور اس کا آخر روزِ قیامت باعث رسوائی ہو گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 3715
sahih
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وُلِّيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ» . قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم حَتَّى ابْتليت
Urdu

معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ معاویہ ! اگر تمہیں حکمرانی مل جائے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل کرنا ۔‘‘ معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ہمیشہ اس یقین کے ساتھ رہا کہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کی وجہ سے کسی عمل کے ذریعے آزمایا جاؤں گا حتی کہ میں آزمائش سے دوچار ہو گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 3716
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ» . رَوَى الْأَحَادِيثَ السِّتَّةَ أَحْمَدُ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ حَدِيثَ مُعَاوِيَةَ فِي «دَلَائِلِ النُّبُوَّة»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ستر کی دہائی کے آغاز سے اور نو عمروں کی حکومت سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ یہ چھ احادیث امام احمد نے روایت کی ہیں ، اور امام بیہقی نے حدیث معاویہ ’’ دلائل النبوۃ ‘‘ میں نقل کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 3717
sahih
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ هَاشِمٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمَا تَكُونُونَ كَذَلِك يُؤمر عَلَيْكُم»
Urdu

یحیی بن ہاشم ، یونس بن ابی اسحاق سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جیسے تم ہو گے ویسے تم پر حکمران مقرر کیے جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3718
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ السُّلْطَانَ ظِلُّ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَأْوِي إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُومٍ مِنْ عِبَادِهِ فَإِذَا عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ وَإِذَا جَارَ كَانَ عَلَيْهِ الْإِصْرُ وعَلى الرّعية الصَّبْر»
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بادشاہ ، زمین پر اللہ کا سایہ ہے ، جہاں اس کا ہر مظلوم بندہ پناہ حاصل کرتا ہے ، جب وہ عدل کرتا ہے تو اس کے لیے اجر ہے ، اور رعیت کے ذمہ شکر کرنا ہے ، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس پر گناہ ہوتا ہے اور رعیت کے ذمہ صبر کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3719
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَفْضَلَ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌ عَادِلٌ رَفِيقٌ وَإِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِمامٌ جَائِر خرق»
Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک روزِ قیامت اللہ کے بندوں میں سے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بہتر شخص عدل کرنے والا نرم مزاج حکمران ہو گا ۔ جبکہ روزِ قیامت اللہ کے نزدیک مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بدترین شخص ظالم اور سخت مزاج بادشاہ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 3720
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من نَظَرَ إِلَى أَخِيهِ نَظْرَةً يُخِيفُهُ أَخَافَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَى الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى هَذَا: مُنْقَطع وَرِوَايَته ضَعِيف
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے بھائی کی طرف ڈراؤنی نظر سے دیکھا تو روزِ قیامت اللہ اسے ڈرائے گا ۔‘‘ امام بیہقی نے چاروں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور یحیی سے مروی حدیث [رقم ۳۷۱۷] کے بارے میں فرمایا : یہ روایت منقطع ہے اور اس کی روایت ضعیف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔