ابن عباس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنگل میں رہنے والا سخت دل ہوتا ہے ۔ شکار کا پیچھا کرنے والا غافل ہوتا ہے اور بادشاہ کے پاس جانے والا فتنے کا شکار ہو جاتا ہے ۔‘‘ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جو شخص بادشاہ کے ساتھ لگا رہتا ہے تو وہ فتنے کا شکار ہو جاتا ہے ، جس قدر کوئی شخص بادشاہ کے قریب ہوتا ہے وہ اسی قدر اللہ سے دُور ہو جاتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و احمد و النسائی و ابوداؤد ۔
مقدام بن معدی کرب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ازراہ محبت) اس کے کندھوں پر ہاتھ مارا ، پھر فرمایا :’’ قُدیم ! اگر تم امیر ، منشی اور ناظم بنے بغیر فوت ہوئے تو تم کامیاب ہوئے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ٹیکس وصول کرنے والا (یعنی وہ شخص جو لوگوں سے خلاف شرح ٹیکس وصول کرتا ہے) جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و الدارمی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک تمام لوگوں میں محبوب تر اور بلند مرتبہ ، عادل حاکم ہو گا اور اس سے دور ، بدترین اور مرتبہ میں پست و ذلیل ظالم حاکم ہو گا ۔‘‘ ترمذی ۔ اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سب سے فضیلت والا جہاد اس شخص کا ہے جو ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
امام احمد اور امام نسائی نے اسے طارق بن شہاب سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ کسی حکمران کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرما دیتا ہے ، اگر وہ بھول جائے تو وہ (وزیر) اسے یاد کرا دیتا ہے اور اگر اسے خود ہی یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے ، اور جب وہ اس کے ساتھ اس کے برعکس ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے بُرا وزیر مقرر کر دیتا ہے ، اگر وہ بھول جائے تو وہ (وزیر) اسے یاد نہیں کراتا ، اور اگر اسے یاد ہو تو پھر وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو حکمران لوگوں کے عیوب تلاش کرتا رہتا ہے تو وہ انہیں خراب کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم لوگوں کے عیوب تلاش کرو گے تو تم انہیں خراب کر دو گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اس وقت کیا کرو گے جب میرے بعد حکمران اس مال غنیمت کو اپنے پاس ہی رکھ لیں گے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا ، پھر قتال کروں گا حتی کہ آپ سے آ ملوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز سے بہتر چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟ صبر کرنا حتی کہ تم مجھ سے آ ملو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو ، روزِ قیامت اللہ عزوجل کے سائے کی طرف سبقت لے جانے والے کون ہوں گے ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ لوگ جنہیں کلمۂ حق (پیش کیا) جاتا ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہیں ، جب اس سے حق بات کہنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے بیان کرتے ہیں اور وہ لوگوں کے لیے وہی فیصلہ کرتے ہیں جو وہ اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق تین چیزوں کا اندیشہ ہے : ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنے ، بادشاہ کا ظلم کرنا اور تقدیر کو جھٹلانا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھ روز مجھے فرماتے رہے :’’ ابوذر ! جو کچھ تجھے بتایا جا رہا ہے اسے یاد کر لو ۔‘‘ جب اس کے بعد ساتواں روز ہوا تو فرمایا :’’ میں تیرے ظاہری و باطنی امور میں تجھے اللہ کا تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اور جب تو بُرائی کر بیٹھے تو پھر نیکی کر ، اور کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا خواہ تمہارا کوڑا گِر پڑے ، اور امانت نہ رکھ اور دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے دس یا اس سے زائد افراد کے امور کی سرپرستی قبول کی تو روزِ قیامت وہ اللہ عزوجل کے حضور اس حال میں پیش ہو گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہو گا ، اس کی نیکی اسے کھول دے گی یا اس کا گناہ اسے ہلاک کر دے گا ۔ امارت کا آغاز ملامت ، اس کا وسط باعث ندامت اور اس کا آخر روزِ قیامت باعث رسوائی ہو گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معاویہ ! اگر تمہیں حکمرانی مل جائے تو اللہ سے ڈرنا اور عدل کرنا ۔‘‘ معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ہمیشہ اس یقین کے ساتھ رہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے کسی عمل کے ذریعے آزمایا جاؤں گا حتی کہ میں آزمائش سے دوچار ہو گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ستر کی دہائی کے آغاز سے اور نو عمروں کی حکومت سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ یہ چھ احادیث امام احمد نے روایت کی ہیں ، اور امام بیہقی نے حدیث معاویہ ’’ دلائل النبوۃ ‘‘ میں نقل کی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
یحیی بن ہاشم ، یونس بن ابی اسحاق سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جیسے تم ہو گے ویسے تم پر حکمران مقرر کیے جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بادشاہ ، زمین پر اللہ کا سایہ ہے ، جہاں اس کا ہر مظلوم بندہ پناہ حاصل کرتا ہے ، جب وہ عدل کرتا ہے تو اس کے لیے اجر ہے ، اور رعیت کے ذمہ شکر کرنا ہے ، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو اس پر گناہ ہوتا ہے اور رعیت کے ذمہ صبر کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک روزِ قیامت اللہ کے بندوں میں سے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بہتر شخص عدل کرنے والا نرم مزاج حکمران ہو گا ۔ جبکہ روزِ قیامت اللہ کے نزدیک مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بدترین شخص ظالم اور سخت مزاج بادشاہ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے بھائی کی طرف ڈراؤنی نظر سے دیکھا تو روزِ قیامت اللہ اسے ڈرائے گا ۔‘‘ امام بیہقی نے چاروں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور یحیی سے مروی حدیث [رقم ۳۷۱۷] کے بارے میں فرمایا : یہ روایت منقطع ہے اور اس کی روایت ضعیف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔