Back to Mishkat Al-Masabih

The Offices of Commander and Qadi

كتاب الإمارة والقضاء

Chapter 17

Hadith 3761
sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِي لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذَنَّهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّار»
Urdu

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں بھی ایک انسان ہوں ، تم اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو ۔ اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی دلیل دوسرے کی نسبت زیادہ فصاحت کے ساتھ پیش کر لے اور میں جو اس سے سنوں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں ، جس شخص کو اس کے (مسلمان) بھائی کے حق میں سے کوئی چیز دے دی جائے تو وہ اسے حاصل نہ کرے ، (گویا اس طرح) میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3762
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الخَصِمُ»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سخت جھگڑالو شخص اللہ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ شخص ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3763
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قضى بِيَمِين وَشَاهد. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 3764
sahih
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَلَكَ يَمِينُهُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ منْ شيءٍ قَالَ: «ليسَ لكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ» . فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: «لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنهُ معرض» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ایک آدمی حضر موت سے اور ایک آدمی کندہ سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس شخص نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے ، کندی نے عرض کیا : یہ زمین میری ہے اور میرے قبضہ میں ہے ، اس کا اس پر کوئی حق نہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضرمی سے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اس سے قسم لے لو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ تو ایک فاجر شخص ہے ، وہ قسم کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ہے اور نہ کسی چیز سے پرہیز کرتا ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں اس سے یہی کچھ مل سکتا ہے ۔‘‘ جب وہ (کندی) قسم کھانے چلا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگر اس نے اس کا ناحق مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی تو یہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس سے اعراض فرمائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 3765
sahih
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
Urdu

ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس نے کسی ایسی چیز کا دعوی کیا جو کہ اس کی نہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 3766
sahih
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بشهادتِه قبلَ أنْ يسْأَلهَا» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں بہترین گواہ کے متعلق نہ بتاؤں ؟ یہ وہ ہے جو اس (گواہی) کے طلب کیے جانے سے پہلے اپنی گواہی پیش کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 3767
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسبِقُ شَهَادَة أحدِهمْ يَمِينه وَيَمِينه شَهَادَته»
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے دور کے لوگ (صحابہ کرام) سب سے بہتر ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں (تابعین) ۔ اور پھر وہ جو ان کے ساتھ ہیں ، پھر کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے کسی کی گواہی اس کی قسم پر اور اس کی قسم اس کی گواہی پر سبقت لے جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 3768
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلَى قَوْمٍ الْيَمِينَ فَأَسْرَعُوا فَأَمْرَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي اليَمينِ أيُّهُمْ يحْلِفُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک قوم پر قسم پیش کی تو انہوں نے (قسم اٹھانے میں) جلدی کی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم فرمایا کہ قسم کے بارے میں ان کے درمیان قرعہ اندازی کی جائے کہ ان میں سے کون حلف اٹھائے گا ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 3769
sahih
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ گواہ پیش کرنا مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3770
sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي مَوَارِيثَ لَمْ تَكُنْ لَهُمَا بَيِّنَةٌ إِلَّا دَعْوَاهُمَا فَقَالَ: «مَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ» . فَقَالَ الرَّجُلَانِ: كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَقِّي هَذَا لِصَاحِبِي فَقَالَ: «لَا وَلَكِنِ اذْهَبَا فَاقْتَسِمَا وَتَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لْيُحَلِّلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا برأيي فِيمَا لم يُنزَلْ عليَّ فِيهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ام سلمہ ؓ دو آدمیوں کے بارے میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتی ہیں ، جنہوں نے میراث کے متعلق آپ کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا ، ان دونوں کے پاس کوئی دلیل و گواہی نہیں تھی ۔ ان دونوں کا محض دعوی ہی تھا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں جس شخص کو اس کے (مسلمان) بھائی کے حق میں سے کچھ دے دوں تو (حقیقت میں) میں اسے (جہنم کی) آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔‘‘ (یہ سن کر) دونوں میں ہر ایک عرض کرنے لگا ، اللہ کے رسول ! میرا یہ حق میرے ساتھی کا ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ (ایسے) نہیں ، تم دونوں جاؤ اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے تقسیم کر لو ، پھر دونوں قرعہ اندازی کرو پھر تم دونوں میں سے ہر ایک اپنا حصہ اپنے ساتھی کے لیے حلال قرار دے ۔‘‘ دوسری روایت میں ہے فرمایا :’’ اس چیز کے بارے میں مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی اس لیے میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کرتا ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3771
sahih
وَعَن جابرِ بن عبدِ الله: أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَاعَيَا دَابَّةً فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا دَابَّتُهُ نَتَجَهَا فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي فِي يدِهِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة»
Urdu

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ایک چوپائے پر دعوی کیا ، اور ان میں سے ہر ایک نے گواہ پیش کیا کہ اس نے اپنے چوپائے کو جفتی کرایا ہے ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق اس شخص کے حق میں فیصلہ فرمایا جس کے وہ (قبضہ) میں تھا ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 3772
sahih
وَعَن أبي مُوسَى الأشعريِّ: أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنَ فَقَسَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ: أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيرًا لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا
Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دور میں ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا تو ان میں سے ہر ایک نے دو گواہ پیش کیے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ان دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم فرما دیا ۔ نسائی اور ابن ماجہ میں انہیں سے مروی حدیث میں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا اور ان میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے ، لہذا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے ان دونوں کے درمیان تقسیم فرما دیا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 3773
sahih
وَعَن أبي هريرةَ أنَّ رجُلينِ اختَصما فِي دَابَّة وَلَيْسَ لَهما بَيِّنَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «استهِما على اليَمينِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے کسی جانور کے بارے میں جھگڑا کیا اور ان دونوں کے پاس کوئی گواہی نہیں تھی ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ قسم پر قرعہ اندازی کرو ۔‘‘ (جس کا قرعہ نکل آئے وہ قسم دے) صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3774
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ حَلَّفَهُ: «احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَاله عِنْدَكَ شَيْءٌ» يُعْنَى لِلْمُدَّعِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے قسم لینے کا ارادہ کیا تو فرمایا :’’ اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ تمہارے پاس اس شخص (یعنی مدعی) کی کوئی چیز نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3775
sahih
وَعَن الأشعثِ بنِ قيسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أرضٌ فحَجَدني فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟» قُلْتُ: لَا قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: «احْلِفْ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ يَحْلِفَ وَيَذْهَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ الَّذِينَ يشترونَ بعهدِ اللَّهِ وأَيمانِهِم ثمنا قَلِيلا) الْآيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

اشعث بن قیس ؓ بیان کرتے ہیں ، میری اور ایک یہودی کی کچھ مشترکہ زمین تھی ، اس نے میرے حصے کا انکار کر دیا میں اپنا مقدمہ لے کر اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی گواہی ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایا :’’ قسم اٹھاؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! وہ تو قسم اٹھا لے گا اور میری زمین غصب کر لے گا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلہ میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3776
sahih
وَعَنْهُ أَنْ رَجُلًا مَنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا وَهَى فِي يَدِهِ قَالَ: «هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟» قَالَ: لَا وَلَكِنْ أُحَلِّفُهُ وَاللَّهِ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ؟ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْطَعُ أَحَدٌ مَالًا بِيَمِينٍ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ أَجْذَمُ» فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أرضُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

اشعث بن قیس ؓ سے روایت ہے کہ کندی اور حضرمی شخص نے یمن کی زمین کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں مقدمہ پیش کیا تو حضرمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس شخص کے والد نے میری زمین غصب کر لی تھی اور وہ اب اس کے قبضہ میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس گواہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، لیکن میں اس سے قسم لوں گا (اس طرح کہ) اللہ کی قسم ! وہ نہیں جانتا کہ بے شک میری زمین کو اس کے والد نے غصب کیا ہے ، کندی قسم کے لیے تیار ہوا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قسم کے ذریعے مال حاصل کرتا ہے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ شخص ’’ اجذم ‘‘ ہو گا ۔‘‘ (یعنی اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا یا اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہو گی ۔) چنانچہ اس کندی نے عرض کیا : وہ زمین اس کی ہی ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3777
sahih
وَعَن عبدِ اللَّهِ بنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكَ بِاللَّهِ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ وَالْيَمِينَ الْغَمُوسَ وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينَ صَبْرٍ فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلَّا جُعِلَتْ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

عبداللہ بن اُنیس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ اور جس شخص نے اللہ کی پختہ قسم اٹھائی اور اس میں مچھر کے پر کے برابر (جھوٹ) داخل کر دیا تو روزِ قیامت تک اس کے دل میں ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے کہا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 3778
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ أَوْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھاتا ہے خواہ وہ سبز مسواک کے متعلق ہو تو اس کا ٹھکانا جہنم میں بنا دیا جاتا ہے یا اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3779
sahih
وَعَن خُريمِ بن فاتكٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ: «عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَرَأَ: (فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
Urdu

خریم بن فاتک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز فجر ادا کی ، جب آپ فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر تین مرتبہ فرمایا :’’ جھوٹی گواہی کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ پلیدی یعنی بتوں کی پوجا سے بچو اور جھوٹی بات (جھوٹی گواہی) سے بچو ، اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوئے اس کی طرف یک سو ہو جاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 3780
sahih
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ إِلَّا أَنَّ ابْنَ مَاجَهْ لَمْ يَذْكُرِ الْقِرَاءَةَ
Urdu

امام احمد اور امام ترمذی نے ایمن بن خریم سے روایت کیا ہے البتہ ابن ماجہ نے قراءت کا ذکر نہیں کیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔