ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ، بادشاہوں کے دل میرے ہاتھ میں ہیں ، اور جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دل رحمت و شفقت کے ساتھ ان پر پھیر دیتا ہوں ، اور جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے دل ناراضی اور سزا کے ساتھ پھیر دیتا ہوں پھر وہ انہیں بُرے عذاب سے دوچار کرتے ہیں ، اپنے آپ کو بادشاہوں پر بددعا کرنے میں مشغول نہ رکھو بلکہ اپنے آپ کو ذکر اور تضرع میں مصروف رکھو تاکہ میں تمہیں تمہارے حکمرانوں سے محفوظ کروں ۔‘‘ اسے ابونعیم نے حلیہ میں بیان کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابونعیم فی حلیہ الاولیاء ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کسی صحابی کو کسی کام پر مبعوث فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ (لوگوں کو اجر و ثواب کی) خوشخبری سنانا ، نفرت نہ دلانا اور آسانی پیدا کرنا تنگی پیدا نہ کرنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آسانی پیدا کرو ، تنگی پیدا نہ کرو ، سکون پہنچاؤ ، نفرت نہ دلاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوبردہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دادا ابوموسی ؓ اور معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجتے ہوئے فرمایا :’’ آسانی پیدا کرنا ، تنگی پیدا نہ کرنا ، خوشخبری سنانا ، نفرت نہ دلانا ، اتفاق رکھنا اور اختلاف پیدا نہ کرنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عہد شکنی کرنے والے کے لیے روز قیامت جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا : یہ فلاں بن فلاں شخص کی عہد شکنی (کا نتیجہ) ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت ہر عہد شکن کی پشت پر ایک جھنڈا ہو گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ روزِ قیامت ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا ، سن لو ! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی عہد شکن کی عہد شکنی نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمرو بن مُرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ ؓ سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ جس شخص کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا سرپرست بنا دے اور وہ ان کی ضرورت ، ان کی شکایت اور ان کی حاجتوں کی پورا کرنے میں رکاوٹ بن جائے تو اللہ اس کی ضرورت و شکایت اور اس کی حاجت پوری کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔‘‘ معاویہ ؓ نے لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کے لیے ایک آدمی کو مقرر کیا ۔ ترمذی اور احمد کی ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اللہ اس کی ضرورت ، حاجت اور محتاجی کے وقت آسمان کے دروازے بند کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و احمد ۔
ابوشماخ ازدی اپنے چچا زاد سے ، جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں ، روایت کرتے ہیں کہ وہ معاویہ ؓ کے پاس آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جسے لوگوں کے کسی معاملے کی ذمہ داری سونپی جائے ، پھر وہ مسلمانوں یا مظلوموں یا حاجت مندوں کی ضرورتوں سے دروازے بند کر لے تو اللہ اس کی حاجت اور ضرورت کے وقت ، جبکہ وہ انتہائی ضرورت مند ہو ، اپنی رحمت کے دروازے بند کر لیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنے اعمال (حکمران) بھیجتے تو اِن پر شرط قائم کرتے کہ تم ترکی گھوڑے پر سواری نہ کرو گے اور نہ چھنا ہوا آٹا (میدہ) کھاؤ گے ، نہ باریک (عمدہ) لباس پہنو گے اور نہ لوگوں کی ضرورتوں کو حل کرنے کی بجائے اپنے دروازے بند کرو گے ، اگر تم نے ان میں سے کوئی کام بھی کیا تو تم سزا کے مستحق ٹھہرو گے ، پھر آپ انہیں الوداع کرنے کے لیے ان کے ساتھ چلتے ۔ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حاکم غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب حاکم فیصلہ کرتے وقت کوشش کرے اور درست فیصلہ کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ، اور جب فیصلہ کرے اور کوشش کے باوجود غلطی ہو جائے تو اس کے لیے ایک اجر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو لوگوں کا قاضی بنا دیا گیا گویا وہ چھری کے بغیر ذبح کر دیا گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قضا کا خواہشمند ہو اور وہ مطالبہ کرے تو اسے اس کی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے ، اور جسے اس پر مجبور کر دیا جائے تو اللہ اس پر ایک فرشتہ نازل فرما دیتا ہے جو اس کو درست رکھتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قاضی تین قسم کے ہیں ، ان میں سے ایک جنتی اور دو جہنمی ہیں ، وہ قاضی جنتی ہے جس نے حق پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا ، اور وہ قاضی جس نے حق پہچان کر فیصلہ میں ظلم کیا تو وہ جہنمی ہے ، اور وہ آدمی جس نے جہالت کی بنا پر لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا تو وہ بھی جہنمی ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے مسلمانوں کی قضاء طلب کی اور وہ اسے میسر آ گئی ، پھر اس کا عدل اس کے ظلم پر غالب رہا تو اس کے لیے جنت ہے ، اور جس شخص کے عدل پر اس کا ظلم غالب رہا تو اس کے لیے جہنم ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا :’’ جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ ؟‘‘ عرض کیا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق ، فرمایا :’’ اگر تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں نہ پاؤ ؟‘‘ عرض کیا : میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ، اور کوئی کسر نہیں اٹھا رکھوں گا ، وہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ازراہِ مسرت) میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائی جسے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پسند فرماتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تو میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ مجھے بھیج رہے ہیں ، جبکہ میں نوعمر ہوں اور مجھے قضا کے بارے میں علم بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک عنقریب اللہ تیرے دل کی راہنمائی کرے گا اور تیری زبان کو استقامت عطا فرمائے گا ، جب دو آدمی تیرے پاس مقدمہ لے کر آئیں تو دوسرے فریق کی بات سنے بغیر پہلے فریق کے حق میں فیصلہ نہ کرنا کیونکہ یہ لائق تر ہے کہ تیرے لیے قضا واضح ہو جائے ۔‘‘ علی ؓ بیان کرتے ہیں ، اس کے بعد مجھے قضا میں شک نہیں ہوا ۔ اور ام سلمہ ؓ سے مروی حدیث :’’ میں تمہارے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ کروں گا ۔‘‘ کو ہم ’’باب الاقضیۃ و الشھادات ‘‘ میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اسے گدی سے پکڑے ہو گا ، پھر وہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا اگر اللہ تعالیٰ نے کہا : اسے پھینک دو ، وہ اسے چالیس سال (کی مسافت کی گہرائی) کے گڑھے میں پھینک دے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت عادل قاضی بھی یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس نے دو آدمیوں کے درمیان کبھی ایک کھجور کا بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔