ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شعبان کے علاوہ دو ماہ لگاتار روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا : میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں لوگ چاند دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے ، آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کی گنتی کا دیگر مہینوں کی نسبت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے ، پھر آپ رمضان کا چاند نظر آنے پر روزہ رکھتے ، اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو آپ تیس دن کی گنتی فرماتے پھر روزہ رکھتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوالبختری ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ، جب ہم نے بطن نخلہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو ہم چاند دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوئے ، تو کچھ لوگوں نے کہا : یہ تیسری رات کا ہے ، کسی نے کہا : دوسری رات کا ہے ، ہم ابن عباس ؓ سے ملے تو ہم نے کہا : ہم نے چاند دیکھا تو کسی نے کہا : وہ تیسری رات کا ہے اور کسی نے کہا : دوسری رات کا ہے ، انہوں نے فرمایا : تم نے کس رات اسے دیکھا تھا ؟ ہم نے کہا : فلاں فلاں رات ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (رمضان) کی مدت اس کی رؤیت مقرر کی ہے ، وہ (رمضان) اس رات سے شروع ہوتا ہے جس رات تم اسے دیکھو ۔ اور ابوالبختری ؒ کی ایک دوسری روایت میں ہے : انہوں نے کہا : ہم نے ذات عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا ، تو ہم نے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ایک آدمی کو ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے اس (شعبان) کو اس (ہلال رمضان) کی رؤیت تک دراز کیا ہے ، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی کو مکمل کر لو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سہل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک لوگ افطاری کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے وہ خیر و بھلائی پر رہیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب رات اس طرف سے آ جائے اور دن اس طرف پلٹ جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کو چاہیے کہ وہ افطار کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزوں میں وصال کرنے سے منع فرمایا ، تو کسی آدمی نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو وصال فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کون میری طرح ہے ؟ میں رات کو سوتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، دارمی اور ابوداؤد نے فرمایا : معمر ، زبیدی ، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے اس حدیث کو حفصہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے اور ان سب نے زہری سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اذان (فجر) سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اسے نیچے رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنے وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو ان میں سے افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
سلمان بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ وہ باعث برکت ہے ، اگر وہ نہ پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ وہ باعث طہارت ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا :’’ کیونکہ وہ باعث برکت ہے ۔‘‘ صرف امام ترمذی نے یہ الفاظ ایک دوسری روایت سے نقل کیے ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو پھر چند چھوہاروں سے اور اگر چھوہارے نہ ہوتے تو پھر پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے یا کسی مجاہد کی تیاری کرا دے تو اسے بھی اس (روزہ دار یا مجاہد) کی مثل اجر ملتا ہے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور محی السنہ نے شرح السنہ میں روایت کیا اور انہوں نے کہا یہ روایت صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ افطار کرتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ پیاس جاتی رہی ، رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
معاذ بن زہرہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب افطار کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا ۔‘‘ ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے دین غالب رہے گا کیونکہ یہود و نصاریٰ (افطار کرنے میں) تاخیر کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔